گھنے جنگل کے بیچوں بیچ ایک طاقتور شیر رہتا تھا۔ اس کی دھاڑ سن کر درختوں کے پتے کانپ اٹھتے، پرندے اپنے گھونسلوں میں دبک جاتے اور جانور خوف کے مارے اپنی راہیں بدل لیتے۔ جنگل پر اس کی حکومت تھی، مگر یہ حکومت محبت کی نہیں، خوف کی تھی۔
شیر اپنی طاقت پر بے حد ناز کرتا تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ تمام جانور اس کی عزت کرتے ہیں، اس کی بہادری کے قصیدے پڑھتے ہیں اور دل ہی دل میں اس کے گُن گاتے ہیں۔
مگر ایک دن اس کے دل میں ایک عجیب خیال پیدا ہوا۔
“کیا واقعی جانور میری عزت کرتے ہیں، یا صرف مجھ سے ڈرتے ہیں؟”
اس سوال نے اس کی نیندیں اڑا دیں۔ آخرکار اس نے ایک بوڑھے جادوگر سے مدد لی اور جادو کے زور پر خود کو ایک ننھے سے چوہے میں تبدیل کر لیا۔
اب وہ ایک عام چوہے کی صورت میں جنگل کی پگڈنڈیوں پر گھومنے لگا۔
سب سے پہلے اس کی ملاقات خرگوش سے ہوئی، جو ایک جھاڑی کے سائے میں بیٹھا گھاس چبا رہا تھا۔
چوہے نے معصومیت سے پوچھا: “بھائی خرگوش! تمہارے خیال میں شیر کیسا ہے؟”
خرگوش نے گردن اٹھائی، ایک لمبی سانس بھری اور بولا:
“شیر؟ وہ تو بڑا ظالم ہے! ہر وقت ہمیں شکار کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اس کے ڈر سے ہماری زندگیاں عذاب بنی ہوئی ہیں۔”
یہ سن کر چوہے کے دل میں ایک چبھن سی ہوئی، مگر وہ خاموش رہا۔
کچھ دور آگے بڑھا تو ایک لومڑی ملی، جو اپنی چالاک آنکھوں سے اِدھر اُدھر جھانک رہی تھی۔
چوہے نے وہی سوال دہرایا۔
لومڑی ہنس پڑی۔
“شیر؟ وہ جتنا خود کو بہادر سمجھتا ہے، اتنا ہے نہیں۔ میں نے سنا ہے وہ چوہوں سے بڑا ڈرتا ہے!”
یہ سن کر چوہا بنا شیر غصے سے لال پیلا ہو گیا۔
وہ فوراً بولا:
“یہ جھوٹ ہے! شیر کسی سے نہیں ڈرتا۔ وہ جنگل کا بادشاہ ہے!”
اتنے میں آس پاس موجود دوسرے جانور بھی جمع ہو گئے۔
ایک ہرن نے حیرت سے کہا: “ارے! یہ چوہا شیر کی وکالت کیوں کر رہا ہے؟”
بندر قہقہہ لگا کر بولا: “شاید یہ خود کو شیر سمجھتا ہے!”
چوہا بنا شیر غرور سے سینہ پھلا کر بولا:
“سمجھتا نہیں، میں واقعی شیر ہوں!”
بس پھر کیا تھا!
پورا جنگل ہنسی سے گونج اٹھا۔
کوئی پیٹ پکڑ کر ہنس رہا تھا، کوئی زمین پر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔
“دیکھو! چوہا کہتا ہے کہ میں شیر ہوں!”
“یہ تو آج کا سب سے بڑا لطیفہ ہے!”
یہ مذاق شیر سے برداشت نہ ہوا۔ اس کا غصہ آسمان کو چھونے لگا۔ اچانک اس نے جادو توڑا اور اپنی اصلی، خوفناک شکل میں آ گیا۔
ایک زوردار دھاڑ کے ساتھ پورا جنگل لرز اٹھا۔
مگر جس عزت اور محبت کی امید وہ لے کر آیا تھا، وہ کہیں نظر نہ آئی۔
جانور خوفزدہ ہو کر چاروں طرف بھاگ نکلے۔
خرگوش جھاڑیوں میں گم ہو گیا، لومڑی غائب ہو گئی، بندر درختوں کی چوٹیوں پر جا چڑھا۔
چند لمحوں میں جنگل ویران ہو گیا۔
شیر اکیلا کھڑا رہ گیا۔
ہوا درختوں سے سرگوشیاں کر رہی تھی اور خاموشی اس کے دل پر دستک دے رہی تھی۔
تب اسے پہلی بار احساس ہوا کہ جانور اس کی عزت نہیں کرتے تھے، بلکہ صرف اس سے خوفزدہ تھے۔
جب وہ چوہا تھا تو کسی نے اسے اہمیت نہ دی، اور جب شیر بنا تو سب اسے چھوڑ کر بھاگ گئے۔
اس دن اس کے غرور کا محل ریت کی دیوار کی طرح ڈھہ گیا۔
کہتے ہیں اس کے بعد شیر نے اپنا رویہ بدل لیا۔ اس نے ظلم چھوڑ دیا، جانوروں کو بلاوجہ ستانا ترک کر دیا اور جنگل میں خوف کے بجائے انصاف قائم کرنے کی کوشش کی۔
کیونکہ اسے معلوم ہو چکا تھا کہ طاقت سے ڈر تو پیدا کیا جا سکتا ہے، مگر دلوں میں جگہ نہیں بنائی جا سکتی۔
سبق: کبھی کبھی اپنی طاقت، عہدے یا حیثیت کا لبادہ اتار کر عام لوگوں کے درمیان جانا چاہیے۔ تب معلوم ہوتا ہے کہ لوگ آپ کی تعریف کرتے ہیں، آپ سے محبت کرتے ہیں یا محض آپ سے خوفزدہ ہیں۔
#منقول
