کہتے ہیں ایک گاؤں تھا جہاں لوگ بہت سیدھے تھے۔
وہ محنت کرتے تھے، اپنے بچوں کا پیٹ پالتے تھے اور امید رکھتے تھے کہ جو لوگ اونچی کرسیوں پر بیٹھے ہیں، وہ ان کی حفاظت کریں گے۔
وقت گزرا…
گاؤں میں کچھ لوگ طاقتور بن گئے۔
انہوں نے خود کو محافظ کہنا شروع کر دیا۔
لوگ خوش تھے۔
انہیں لگا کہ اب ان کے مسائل حل ہوں گے۔
مگر عجیب بات یہ تھی کہ جب کسی غریب کے ساتھ ظلم ہوتا، تو محافظوں کی آنکھیں بند ہو جاتیں۔
جب کسی کمزور کی آواز اٹھتی، تو محافظوں کے کان بہرے ہو جاتے۔
اور جب کسی طاقتور کا مفاد خطرے میں پڑتا، تو یہی محافظ شیر بن جاتے۔
گاؤں کے لوگ یہ سب دیکھتے رہے۔
شروع میں انہیں حیرت ہوئی۔
پھر عادت ہو گئی۔
اور آخر میں خاموشی۔
ایک دن گاؤں کے ایک بوڑھے شخص نے کہا:
“مجھے ظالموں سے اتنا خوف نہیں، جتنا ان محافظوں سے ہے جو ظلم دیکھ کر بھی خاموش رہتے ہیں۔”
لوگوں نے اسے سمجھانے کی کوشش کی:
“خاموش رہو، اپنے کام سے کام رکھو۔”
بوڑھا مسکرایا اور بولا:
“جس دن حق بولنے والا ڈر جائے اور ظلم کرنے والا بے خوف ہو جائے، اُس دن گاؤں زندہ نہیں رہتا، صرف آباد نظر آتا ہے۔”
وقت گزرتا گیا…
نوجوان امید ہارتے گئے۔
اہل لوگ پیچھے ہوتے گئے۔
چاپلوس آگے بڑھتے گئے۔
اور کرسیوں کے گرد سچ سے زیادہ خوشامد جمع ہونے لگی۔
پھر ایک دن ایک بچے نے اپنے باپ سے پوچھا:
“اگر یہ سب ہمارے لیے ہیں، تو ہمارے حالات کیوں نہیں بدلتے؟”
باپ کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
کیونکہ بعض سوالوں کے جواب الفاظ میں نہیں، ضمیر میں ملتے ہیں۔
کسی معاشرے کو صرف ظالم تباہ نہیں کرتے۔
بعض اوقات اسے وہ لوگ بھی تباہ کر دیتے ہیں جو حق جانتے ہیں، مگر اپنے مفاد، خوف یا خاموشی کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔
اور تاریخ گواہ ہے:
جب محافظ اپنی ذمہ داری بھول جائیں اور عوام اپنی آواز، تو زوال دروازہ توڑ کر نہیں آتا… خاموشی سے اندر داخل ہو جاتا ہے۔
