بلاعنوان

بلاعنوان

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک قصائی کے پاس ایک گدھا تھا۔ صبح سے شام تک وہ گوشت، لکڑیاں اور سامان ڈھوتا رہتا۔ ایک دن قصائی اسے جنگل کے کنارے لکڑیاں لانے لے گیا۔ وہاں ایک نہایت مہذب اور خوش اخلاق جنگلی ریچھ سے اس کی ملاقات ہوئی۔
پہلی ملاقات سلام دعا میں گزری، دوسری میں حال احوال پوچھا گیا، پھر آہستہ آہستہ ایسی دوستی ہو گئی کہ جب بھی گدھا جنگل آتا، ریچھ اسے بڑے اصرار سے کہتا، “دوست! کبھی ہمارے گھر بھی تشریف لائیے، ایک دن آپ کی دعوت ضرور کروں گا۔”
گدھا ہر بار ہنس کر کہتا، “ضرور آؤں گا، ضرور آؤں گا۔”

اندر ہی اندر وہ بہت خوش ہوتا۔ وہ سوچتا، “واہ! دنیا میں ایک شخص تو ایسا نکلا جو مجھے بھی عزت سے دعوت دیتا ہے، ورنہ یہاں تو ہر ایک کو مجھ سے صرف کام ہی ہوتا ہے۔”
آخر ایک دن اس نے جانے کا ارادہ کر لیا۔
جانے سے پہلے خوب تیاری کی اور ساتھ اپنے اصطبل کے جانوروں سے فخر سے کہا، “آج میری جنگل میں دعوت ہے، شام تک واپس مشکل سے آؤں گا۔”
جنگل پہنچا تو حیران رہ گیا۔
اس نے سوچ رکھا تھا کہ جنگل میں سب کچھ بے ترتیب ہوگا، مگر یہاں تو صفائی، نفاست اور سلیقہ دیکھ کر اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔
ریچھ نے بڑے ادب سے استقبال کیا، نرم نرم باتیں کیں، بہترین کھانے سجا دیے، پھر ایک خوبصورت سی میز پر چمکتی ہوئی چھری، کانٹا اور پلیٹ رکھ دی۔
یہ منظر دیکھتے ہی گدھے کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی۔
اسے اپنے مالک قصائی کی دکان یاد آ گئی۔
وہ بھی ذبح کرنے سے پہلے جانور کے جسم پر بڑے پیار سے ہاتھ پھیرتا، اس کے سامنے چارہ رکھتا، نرمی سے باتیں کرتا، پھر چمکتی ہوئی چھری نکالتا، گدھے نے کانپتے ہوئے دل میں کہا، “ارے! یہ تو بالکل وہی ترتیب ہے، پہلے محبت، پھر کھانا پھر چھری”
اب اس کے منہ کا ذائقہ غائب ہو چکا تھا۔
ہر نرم جملہ اسے آخری جملہ محسوس ہو رہا تھا۔

ہر مسکراہٹ میں اسے خطرہ دکھائی دے رہا تھا۔
ریچھ بولا، “دوست! پہلے کھانا شروع کیجیے۔”
گدھے نے خشک گلے سے کہا، “وہ، ایک ضروری بات ہے۔”
“جی فرمائیے؟”
“مجھے، بیت الخلا جانا ہے۔”
ریچھ مسکرایا۔
“ارے! ضرور۔ یہاں جنگل ہے، ذرا آگے چلے جائیں، جہاں مناسب لگے وہیں ہو آئیے۔”
گدھے نے دل میں کہا،
“بس! یہی تو موقع ہے۔”
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا درختوں کے پیچھے گیا، پھر اچانک ایسی دوڑ لگائی کہ راستے بھر مٹی اڑتی رہی۔
ریچھ کافی دیر تک انتظار کرتا رہا۔
کھانا ٹھنڈا ہو گیا، شہد بھی وہیں پڑا رہا، مگر مہمان واپس نہ آیا۔
کئی ہفتے گزر گئے۔
ایک دن اتفاق سے دونوں کی پھر ملاقات ہو گئی۔
ریچھ نے مسکراتے ہوئے کہا:
“ارے دوست! اُس دن آخر ہوا کیا تھا؟ میں تو تمہارا انتظار ہی کرتا رہ گیا۔”
گدھے نے گلا کھنکارا، سنجیدہ چہرہ بنایا اور بولا:
“اصل میں، تمہارے ہاں ایک بہت بڑی کمی ہے۔”
ریچھ حیران ہوا۔
“وہ کیا؟”
گدھے نے بڑی معصومیت سے جواب دیا:
“تمہارے ہاں بیت الخلاء نہیں ہے۔”
ریچھ بولا:
“تو اس میں کیا ہوا؟ جنگل ہی تو ہے!”
گدھا فوراً بولا:
“نہیں دوست! ہماری تربیت کچھ اور ہے۔ ہم ایسے ماحول کے عادی نہیں۔”
ریچھ نے ہنس کر کہا:
“تو پھر اگلی بار آ جانا، تمہارے لیے لکڑیوں سے ایک بیت الخلاء بھی بنا دوں گا۔”
یہ سنتے ہی گدھے نے دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا:
“نہیں، نہیں، تکلیف نہ کرنا دوستی اپنی جگہ بہت اچھی ہے مگر بہتر یہی ہے کہ ہم دور سے ہی ایک دوسرے کو یاد رکھا کریں۔
ریچھ آج تک یہی سمجھتا رہا کہ اس کا دوست صفائی کا بہت زیادہ شوقین تھا،
اور گدھا آج تک یہی سمجھتا رہا کہ اس دن وہ ذبح ہونے سے بال بال بچا تھا۔

اخلاقی سبق:

ہم اکثر اپنے ماضی کے تجربات کی عینک لگا کر دوسروں کی نیت کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔ حالانکہ ہر مسکراتا ہوا چہرہ دھوکا نہیں ہوتا، اور ہر چمکتی ہوئی چھری قتل کے لیے نہیں ہوتی۔ بعض اوقات ہمارا خوف حقیقت سے زیادہ طاقتور ہوتا ہے، اور انسان کو دشمن دوسروں میں نہیں، اپنی بدگمانی میں ملتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner