ایک شکاری نے کنڈی میں گوشت کی ایک بوٹی لگائی اور اسے دریا میں پھینک دیا۔
ایک چھوٹی مچھلی لالچ میں آکر اسے کھانے کے لیے تیزی سے بڑھی، مگر قریب ہی موجود ایک بڑی مچھلی نے فوراً اسے روک لیا اور کہا:
“اس بوٹی کو ہرگز منہ مت لگانا! اس کے اندر ایک چھپا ہوا کانٹا ہے جو تمہیں نظر نہیں آ رہا۔ جیسے ہی تم بوٹی کھاؤ گی، وہ کانٹا تمہارے حلق میں چبھ جائے گا۔ پھر لاکھ کوشش کے باوجود وہ نہیں نکلے گا۔
تمہاری تڑپ سے پانی کے باہر بیٹھے شکاری کو اس باریک ڈوری کے ذریعے خبر ہو جائے گی۔ وہ خوش ہوگا، ڈور کھینچ کر تمہیں پانی سے باہر نکال لے گا، پھر چھری سے تمہارے ٹکڑے کرے گا، مرچ مصالحہ لگائے گا اور کھولتے ہوئے تیل میں پکائے گا۔ آخرکار انسان اپنے ہاتھوں اور دانتوں سے تمہیں کھا جائیں گے۔ یہی تمہارا انجام ہوگا۔”
یہ کہہ کر بڑی مچھلی چلی گئی۔
چھوٹی مچھلی نے سوچا کہ خود تحقیق کرتی ہوں۔ اس نے دریا میں ہر طرف تلاش شروع کر دی۔ نہ کہیں شکاری دکھائی دیا، نہ آگ، نہ کھولتا ہوا تیل، نہ مرچ مصالحہ، اور نہ ہی دس دس انگلیوں اور بتیس بتیس دانتوں والے انسان۔
وہ کہنے لگی:
“یہ بڑی مچھلی تو ان پڑھ اور پرانے زمانے کی باتیں کرتی ہے۔ میں نے خود تحقیق کی ہے، اس کی باتوں میں کوئی حقیقت نہیں۔ یہ صرف سنی سنائی غیب کی باتوں پر یقین رکھتی ہے۔ اس جدید اور سائنسی دور میں بھی فرسودہ نظریات لیے بیٹھی ہے!”
اپنی ظاہری تحقیق پر بھروسہ کرتے ہوئے اس نے بوٹی کو منہ لگا لیا…
اگلے ہی لمحے کانٹا حلق میں چبھ گیا۔
وہ تڑپی… شکاری نے ڈور کھینچی… اسے پانی سے باہر نکالا… اور پھر وہی سب کچھ ہوا جو بڑی مچھلی نے پہلے ہی بتا دیا تھا۔
یہی حال انسان کا ہے۔
انبیاء علیہم السلام نے ہمیں موت کے بعد پیش آنے والے تمام غیبی حقائق پہلے ہی بتا دیے ہیں— قبر، حساب، جنت، جہنم… سب کچھ۔
عقلمند وہ ہیں جو بڑی مچھلی کی نصیحت کی طرح انبیاء کی بات مان کر اپنی زندگی سنوار لیتے ہیں۔
اور کچھ لوگ چھوٹی مچھلی کی طرح صرف ظاہری مشاہدے اور محدود تحقیق پر بھروسہ کرتے ہوئے حق کو جھٹلا دیتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں…
موت کا کانٹا چبھنے کے بعد تمام حقیقتیں سامنے آ جائیں گی۔
مچھلی پانی سے نکل کر واپس نہ جا سکی…
انسان دنیا سے جا کر واپس نہ آیا…
بس یہی وقت ہے… اگر ہم سمجھ جائیں تو۔
