آئرلینڈ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں تھامس نامی ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ اپنی بیوی، اور اپنے بوڑھے ماں باپ کے ساتھ ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔
ایک سال آلو کی فصل تباہ ہو گئی۔ لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ نہ رہا۔ تھامس نے مجبوراً اپنے مالک کی زمینوں میں شکار کرنے کا فیصلہ کیا حالانکہ اس کی سزا موت تھی۔
تھامس سارا دن جنگل میں بھٹکتا رہا، لیکن اسے کوئی جانور نہ ملا۔ شام کو جب وہ واپس ہونے لگا تو اسے ایک خوبصورت ہرن نظر آیا۔ جب اس نے ہرن کو مارنے کے لیے تیر چڑھایا تو ہرن بول پڑا، “مجھے مت مارو! میں تمہاری ایک خواہش پوری کروں گا۔ کل صبح اس جگہ آ جانا اور اپنا جواب بتا دینا۔”
تھامس حیران تھا، لیکن اس نے ہرن کو جانے دیا۔ گھر واپس آ کر اس نے اپنے باپ سے مشورہ کیا۔ باپ نے کہا، “بیٹا! سونا مانگ لے۔”
اس نے اپنی ماں سے مشورہ کیا، جو کچھ عرصہ سے نابینا ہو چکی تھی۔ ماں نے کہا، “بیٹا! میری آنکھوں کی روشنی واپس مانگ۔”
پھر اس نے اپنی بیوی سے مشورہ کیا، جو کئی سال سے اولاد کے لیے دعائیں مانگ رہی تھی۔ بیوی نے کہا، “میاں! ہمیں ایک بچہ عطا ہو جائے۔”
تھامس رات بھر سوچتا رہا۔ وہ اپنے تینوں عزیزوں سے بہت پیار کرتا تھا، لیکن اس کے پاس صرف ایک ہی خواہش تھی۔ صبح ہوئی تو وہ ہرن کے پاس پہنچا۔
ہرن نے پوچھا، “تم نے کون سی خواہش چنی؟”
تھامس نے آنکھوں میں آنسو لیے کہا، “میری خواہش ہے کہ میری ماں اپنی بہو کو ایک سنہری گہوارے میں ہمارے بچے کو جھلاتے ہوئے دیکھے۔”
اس کی ایک خواہش نے سب کی خواہشیں پوری کر دیں۔
اخلاقی سبق:
سب سے بڑی خوشی پیسوں میں نہیں، خاندان کی خوشیوں میں ہوتی ہے۔ ایک خواہش میں سب کی خواہشیں چھپی ہو سکتی ہیں، بشرطیکہ دل میں سب کے لیے محبت ہو۔
حوالہ:
یہ کہانی آئرش لوک ادب کی مشہور کہانی ہے،
