بلاعنوان

بلاعنوان

جنگل کی حکومت کا خزانہ مدت سے خالی پڑا تھا۔ شاہی محل کی مرمت، درباریوں کے وظیفے اور حاکموں کے اللّے تللّے بدستور جاری تھے، مگر جب خزانے میں کمی کا سوال اٹھتا تو وزیرِ مالیات کی نگاہ ہمیشہ رعایا کی جیب پر جا ٹھہرتی۔ جنگل کے ٹریفک محکمے میں بھی تین چار اہلکار تعینات تھے جن کی تنخواہیں اتنی قلیل تھیں کہ مہینے کے آخری دنوں میں ان کے گھروں کے چولہے بھی سرکاری خزانے کی طرح ٹھنڈے پڑ جاتے۔ چنانچہ وہ کبھی کسی خرگوش سے راستہ کھولنے کے نام پر، کبھی کسی گدھے سے گاڑی کھڑی کرنے کے بہانے اور کبھی کسی ہرن سے کاغذات کی کمی نکال کر چند سکے وصول کر لیتے۔ یہ سب کچھ عرصے سے چل رہا تھا، یہاں تک کہ ایک روز محکمۂ ٹریفک میں ایک نئی لومڑی بطور افسر مقرر ہوئی۔ لومڑی اپنی نسل کی طرح چالاک تھی؛ آنکھوں میں ایسی چمک کہ سامنے والے کی بات ختم ہونے سے پہلے اس کی جیب کا اندازہ لگا لیتی۔ پہلے ہی دن اس نے پورے محکمے کا جائزہ لیا۔ اہلکاروں کی خستہ وردیاں دیکھیں، ان کی خالی جیبوں کا حال سنا، پھر جنگل کی سڑکوں پر نکل گئی۔ اس نے دیکھا کہ جانور ٹریفک کے اصولوں کی پابندی کرتے ہیں؛ کوئی سرخ بتی پر نہیں گزرتا، کوئی غلط سمت میں گاڑی نہیں چلاتا، اور جہاں ’’نو انٹری‘‘ کا بورڈ لگا ہوتا، وہاں سے سب گاڑیاں خاموشی سے دوسری طرف مڑ جاتیں۔ لومڑی نے کچھ دیر یہ منظر دیکھا، پھر زیرِ لب مسکرائی۔ ’’یہ محکمہ چلانا ہے یا عبادت گاہ؟‘‘ اس نے اپنے ماتحتوں سے کہا، ’’قانون کی پابندی اچھی بات ہے، مگر اتنی بھی کیا کہ سرکار کو ایک پیسہ نہ ملے؟‘‘

اگلی صبح اس نے ایک نیا حکم جاری کیا۔ جہاں سڑک کے کنارے گاڑیاں کھڑی تھیں، وہاں سے ’’نو انٹری‘‘ کا بورڈ اٹھا کر عین درمیان میں رکھ دیا۔ جانور اپنے کاموں میں مصروف رہے؛ کسی نے بورڈ لگتے نہیں دیکھا۔ جب وہ واپس آئے تو راستہ بند تھا اور لومڑی کے اہلکار ہاتھوں میں چالان کی کتابیں لیے کھڑے تھے۔ ایک گدھا حیران ہو کر بولا، ’’حضور! جب ہم آئے تھے تو یہاں کوئی بورڈ نہیں تھا۔‘‘ اہلکار نے کتاب کھولی اور اطمینان سے جواب دیا، ’’یہ حکم ابھی ابھی جاری ہوا ہے۔ حکومت کا فیصلہ ہے، اب خلاف ورزی کا جرمانہ ادا کرو۔‘‘ گدھے نے کہا، ’’مگر ہم نے تو گاڑیاں بورڈ لگنے سے پہلے کھڑی کی تھیں!‘‘ لومڑی خود آگے بڑھی، دم سنبھالی اور بولی، ’’قانون یہ نہیں دیکھتا کہ تم کب آئے تھے، قانون یہ دیکھتا ہے کہ اب تم کہاں کھڑے ہو۔‘‘ جانوروں نے احتجاج کیا، مگر ہر احتجاج کے جواب میں ایک نئی دفعہ نکال دی گئی۔ یوں چند ہی دنوں میں وہی سڑک، جہاں پہلے کوئی خلاف ورزی نہیں ہوتی تھی، محکمے کی سب سے بڑی آمدنی کا ذریعہ بن گئی۔
لومڑی نے مزید وصولیوں کا دائرہ مزید وسیع کیا تو موٹر سائیکل پر ہیلمٹ نہ پہننے والوں اور گھروں کا کوڑا سڑکوں پر پھینکنے والوں کو بھی نشانے پر رکھ لیا۔ بڑے عہدے داروں کو باقاعدہ ماہانہ ہدف دیا گیا کہ مقررہ مدت میں اتنے جانوروں کے چالان کرکے خزانے میں اتنی رقم جمع کرانی ہے۔ اب اہلکار قانون کی خلاف ورزی تلاش کرنے سے زیادہ چالانوں کا ہدف پورا کرنے میں مصروف تھے؛ جنگل میں قانون کم اور وصولیوں کی دوڑ زیادہ جاری تھی۔
لومڑی کی ان چالاکیوں سے جنگل کے صدر اس قدر خوش ہوئے کہ انہوں نے اسے پورے ملک میں ٹیکس اور جرمانوں کے نظام کی نگرانی کا اختیار سونپ دیا۔ اب لومڑی صرف جنگل کی سڑکوں اور گلیوں تک محدود نہیں رہی تھی، بلکہ اسے پورے ملک میں قانون کے نام پر وصولیوں کے نئے راستے تلاش کرنے کی کھلی چھوٹ مل گئی تھی۔

لومڑی کو اس کامیابی سے حوصلہ ملا تو اس نے جنگل کے دوسرے معاملات پر بھی نظر دوڑائی۔ اس نے دیکھا کہ گرمیوں میں بجلی کے بھاری بلوں سے تنگ آ کر جانوروں نے اپنے گھروں کی چھتوں پر سورج کی روشنی سے بجلی بنانے والے تختے لگا لیے ہیں۔ پہلے یہ تختے ان کے لیے سہولت تھے، مگر لومڑی نے انہیں خزانے کے لیے ایک نیا دروازہ سمجھا۔ اس نے اعلان کیا، ’’جو جانور سورج سے بجلی بنائے گا، وہ شاہی خزانے کو حصہ دے گا؛ آخر سورج بھی حکومت کی حدود میں ہی طلوع ہوتا ہے!‘‘ جانوروں نے عرض کیا، ’’ہم نے تو اپنے خرچ پر تختے لگائے ہیں، کسی سے بجلی مانگنے کے بجائے اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں۔‘‘ لومڑی نے جواب دیا، ’’یہی تو تمہاری غلطی ہے؛ تم نے سرکاری محکمے کو درمیان سے نکال دیا ہے۔‘‘ چنانچہ اس نے نئے کاغذات، نئی منظوریوں اور نئی فیسوں کا ایسا جال بچھایا کہ کئی جانوروں کو اپنی پیدا کی ہوئی بجلی سے زیادہ اس کی اجازت حاصل کرنے کی فکر لاحق ہو گئی۔

پھر اسے معلوم ہوا کہ جنگل کے دیہات میں بھینسیں اور گائیں کثرت سے پالی جاتی ہیں اور ان کے گوبر سے کھیتوں کی زرخیزی بڑھتی ہے۔ لومڑی نے فوراً شاہی مجلس میں تجویز پیش کی، ’’جب ہر چیز سے آمدنی حاصل کی جا سکتی ہے تو گوبر کیوں محروم رہے؟‘‘ کسی نے حیرت سے پوچھا، ’’مگر گوبر پر ٹیکس کیوں؟‘‘ لومڑی نے نہایت سنجیدگی سے کہا، ’’صفائی بھی تو حکومت کی ذمہ داری ہے، اس لیے جو گوبر پیدا کرے گا، وہ صفائی کے نام پر محصول دے گا۔‘‘ یوں ابھی جانور یہ سمجھنے ہی کی کوشش کر رہے تھے کہ گوبر پیدا کرنے پر انہیں کس جرم کی سزا مل رہی ہے کہ ایک نیا فرمان ان کے سامنے رکھ دیا گیا۔ اس کے بعد لومڑی نے تجاوزات کے نام پر دکان داروں کو پکڑنا شروع کیا۔ جو دکاندار برسوں سے ایک ہی جگہ بیٹھا تھا، اسے اچانک معلوم ہوا کہ اس کی دکان کا سایہ بھی سرکاری زمین پر پڑتا ہے؛ کسی کی ریڑھی راستے میں آ گئی، کسی کی چھت باہر نکل آئی، اور کسی کی میز نے قانون کی حد پار کر لی۔ لومڑی کے کارندے پہلے ناپ تول کرتے، پھر جرمانہ بتاتے، اور جب دکاندار رقم پر حیران ہوتا تو جواب ملتا، ’’یہ سب جنگل کی بہتری کے لیے ہے۔‘‘
چند مہینوں میں جنگل کی فضا بدل گئی۔ جانور اب قانون کی خلاف ورزی سے کم اور اس بات سے زیادہ ڈرنے لگے کہ کہیں صبح اٹھیں تو کوئی نیا قانون ان کی زندگی کے کسی معمولی کام کو جرم نہ بنا چکا ہو۔

حاصلِ سبق:
قانون کا مقصد نظم و انصاف قائم کرنا ہے، نہ کہ رعایا کے لیے ہر قدم پر ایک نیا جال بچھانا۔ جب حکومت اپنی بدانتظامی اور شاہانہ اخراجات کا حساب دینے کے بجائے ہر مسئلے کا بوجھ عوام پر ڈالنے لگے تو ٹیکس ریاست کی ضرورت نہیں، حکمرانوں کی ناکامی چھپانے کا پردہ بن جاتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner