بلاعنوان

بلاعنوان

ایک کنجوس شخص تھا جسے دولت جمع کرنے کا ایسا شوق تھا کہ ضرورت کی چیز خریدتے ہوئے بھی اس کا دل کئی بار کانپتا۔ بازار سے کوئی سامان لاتا تو گھر پہنچ کر دیر تک اس کی قیمت کا حساب کرتا، پھر سوچتا کہ کہیں کچھ سستا تو نہیں مل سکتا تھا۔ اس کے گھر میں چیزوں کی کمی نہ تھی، مگر ان سے فائدہ اٹھانے کی باری آتی تو وہ کسی نہ کسی بہانے انہیں سنبھال کر رکھ دیتا۔ اس کا اصول تھا کہ چیز جتنی زیادہ محفوظ رہے گی، اتنی ہی زیادہ قیمتی محسوس ہوگی۔

ایک روز وہ شہر سے خاصا سامان خرید کر واپس آ رہا تھا۔ راستے میں ایک چوڑا دریا پڑتا تھا جسے پار کرنے کے لیے کشتی کا سہارا لینا ضروری تھا۔ وہ اپنا سارا سامان لے کر کشتی میں سوار ہو گیا۔ کشتی ابھی دریا کے درمیان پہنچی ہی تھی کہ پانی کا بہاؤ تیز ہو گیا۔ لہریں زور زور سے کشتی سے ٹکرانے لگیں اور سامان کے بوجھ سے کشتی خطرناک انداز میں ڈولنے لگی۔
کشتی بان، جو ایک تجربہ کار ملاح تھا، صورتِ حال بھانپ گیا۔ اس نے کنجوس کی طرف متوجہ ہو کر بولا، ’’جناب! کشتی پر سامان بہت زیادہ ہے اور پانی بھی چڑھا ہوا ہے۔ اگر ہمیں خیریت سے کنارہ پار کرنا ہے تو کچھ بوجھ کم کرنا پڑے گا۔ اپنا کچھ سامان پانی میں پھینک دیجیے، ورنہ کشتی ڈوب سکتی ہے۔‘‘

کنجوس نے یہ سنا تو اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ سامان کم کرنا تو دور کی بات، اس کے لیے تو کسی چیز کو ہاتھ سے چھوڑنا بھی قیامت سے کم نہ تھا۔
اس نے ایک قیمتی کپڑے کی گٹھڑی اٹھائی اور اسے غور سے دیکھنے لگا۔ دل میں خیال آیا، ’’یہ کپڑا تو بڑی مشکل سے مناسب داموں ملا تھا۔ اسے پانی میں پھینک دیا تو اتنا نقصان ہو جائے گا!‘‘ اس نے فوراً گٹھڑی واپس رکھ دی۔

پھر اس نے مصالحوں کی ایک تھیلی اٹھائی۔ ابھی اسے پانی میں ڈالنے کا ارادہ ہی کیا تھا کہ سوچنے لگا، ’’یہ بھی تو مہنگے ملے تھے۔ گھر پہنچ کر کام آئیں گے۔ انہیں کیوں ضائع کروں؟‘‘ تھیلی بھی واپس رکھ دی۔
اب اس نے برتنوں کا ایک چھوٹا سا صندوق کھولا۔ چمکتے ہوئے برتن دیکھ کر دل میں بولا، ’’یہ تو بہت اچھے ہیں! ایسے برتن دوبارہ کہاں ملیں گے؟‘‘ صندوق بند کیا اور اسے بھی اپنی جگہ رکھ دیا۔

ملاح بے چینی سے اسے دیکھ رہا تھا۔ کشتی کبھی ایک طرف جھکتی، کبھی دوسری طرف۔ پانی اندر آنے لگا تھا، مگر کنجوس ہر چیز اٹھاتا، اسے غور سے دیکھتا، اس کی قیمت یاد کرتا اور پھر اس خیال سے واپس رکھ دیتا کہ یہ چیز بھی بہت اہم ہے۔
ملاح نے پھر پکار کر کہا، ’’خدا کے لیے جلدی کیجیے! اب وقت نہیں رہا۔ سامان بچانے کے چکر میں جان نہ گنوا بیٹھیے گا!‘‘

کنجوس نے ایک اور گٹھڑی کھولی۔ اس میں چند قیمتی اشیا تھیں۔ وہ انہیں دیکھ کر آہ بھرنے لگا، ’’افسوس! ان پر تو میں نے کتنے پیسے خرچ کیے ہیں۔‘‘

ملاح نے سر پکڑ لیا۔ ’’جناب، آپ کو سامان زیادہ عزیز ہے یا اپنی جان؟‘‘
مگر کنجوس کی توجہ اب بھی اپنے مال پر تھی۔ اسے ہر چیز چھوڑتے ہوئے اپنا نقصان دکھائی دیتا تھا، مگر یہ دکھائی نہیں دیتا تھا کہ سامان بچانے کی کوشش میں وہ اپنی جان داؤ پر لگا چکا ہے۔
اچانک ایک زور دار لہر کشتی سے ٹکرائی۔ کشتی بری طرح ہچکولے کھانے لگی اور پانی تیزی سے اندر بھرنے لگا۔ ملاح نے آخری بار چیخ کر کہا، ’’اب بھی سامان نہ پھینکا تو ہم ڈوب جائیں گے!‘‘

کنجوس نے پھر ایک چیز اٹھائی، اسے دیکھا، سینے سے لگایا اور واپس رکھ دیا۔
ملاح نے اس کی بے بسی پر ایک لمحے کے لیے افسوس کیا، مگر اب اپنے بچنے کی فکر کرنا ضروری تھا۔ اس نے پانی میں چھلانگ لگا دی اور تیرتا ہوا کنارے کی طرف بڑھنے لگا۔

کنجوس چیخا، ’’ارے! تم مجھے چھوڑ کر کہاں جا رہے ہو؟ میری مدد کرو!‘‘
ملاح نے پیچھے مڑ کر دیکھا اور پکارا، ’’میں نے تمہیں سامان چھوڑنے کو کہا تھا، مگر تم نے ایک چیز بھی نہ چھوڑی۔ اب تمہیں اپنا فیصلہ خود بھگتنا ہوگا!‘‘
چند ہی لمحوں بعد کشتی الٹ گئی۔ کنجوس اپنے سامان سمیت دریا کی گہرائی میں جا گرا۔ اس نے آخری وقت تک اپنے مال کو بچانے کی کوشش کی، مگر نہ گٹھڑیاں اس کے کام آئیں، نہ صندوق، نہ برتن اور نہ ہی وہ دولت جسے بچانے کے لیے اس نے ساری عمر اپنے دل کی خواہشات کا گلا گھونٹا تھا۔ وہ سب کچھ یہیں چھوڑ کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔

دریا کے کنارے کھڑا ملاح دیر تک پانی کو دیکھتا رہا۔ پھر اس نے افسوس سے سر ہلایا اور کہا، ’’یہ شخص ساری عمر چیزوں کو کھونے کے خوف میں جیتا رہا، یہاں تک کہ سب کچھ بچاتے بچاتے اپنی زندگی ہی کھو بیٹھا۔‘‘

حاصل سبق:
کنجوسی انسان سے صرف اس کا مال نہیں چھینتی، بلکہ اسے اپنی ہی نعمتوں سے فائدہ اٹھانے سے بھی محروم کر دیتی ہے۔ انسان ساری عمر پیسہ جوڑتا رہتا ہے، اپنی جائز خواہشات کو دباتا ہے، ضرورت کے وقت بھی خرچ کرنے سے گھبراتا ہے اور ہر چیز کو یہ سوچ کر سنبھال کر رکھتا ہے کہ کبھی کام آئے گی۔ مگر اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ زندگی کی کوئی ضمانت نہیں۔
جو کچھ اللہ نے عطا کیا ہے، اسے جائز طریقے سے استعمال کیجیے، اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے خرچ کیجیے، ضرورت مندوں کی مدد کیجیے اور اللہ کی راہ میں بھی دیجیے۔ مال جمع کرنا بذاتِ خود برائی نہیں، مگر مال کی محبت میں زندگی کو محروم کر دینا یقیناً خسارے کا سودا ہے۔
آخرکار انسان کو یہاں سے خالی ہاتھ ہی جانا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کوئی اپنے پیچھے نیکی، محبت اور دعائیں چھوڑ جاتا ہے، اور کوئی اپنے خزانے کی چابیاں سنبھالتے سنبھالتے خود مٹی میں جا سوتا ہے۔
اس لیے مال کو اپنی زندگی کا مقصد نہ بنائیے؛ اسے زندگی بہتر بنانے اور دوسروں کے کام آنے کا ذریعہ بنائیے۔ کیونکہ ایک دن سفر ختم ہو جائے گا، اور آپ کی جمع کی ہوئی چیزیں یہیں رہ جائیں گی۔

Leave a Reply

NZ's Corner