بلاعنوان

بلاعنوان

ایک سنسان اور ویران راستے پر ایک آدمی اپنے گدھے کے ساتھ سفر کر رہا تھا۔ ہر طرف خاموشی تھی، جیسے پوری وادی سانس روکے کھڑی ہو۔ اچانک گدھے کا پاؤں پھسلا اور وہ ایک گہرے گڑھے میں جا گرا۔

گڑھا اتنا گہرا تھا کہ نکلنا ممکن دکھائی نہیں دیتا تھا۔ خوش قسمتی سے گدھا زخمی نہیں ہوا، مگر خوف اور بے بسی کے باعث زور زور سے رینگنے لگا۔ اس کی درد بھری آوازیں سن کر مالک فوراً دوڑا اور اسے نکالنے کی کوشش شروع کر دی۔

وہ کبھی رسی پھینکتا، کبھی ہاتھ بڑھاتا، کبھی پتھر رکھ کر سہارا بنانے کی کوشش کرتا، مگر ہر کوشش ناکام رہی۔ وقت گزرتا گیا، سورج ڈھلنے لگا، اور امید کمزور پڑنے لگی۔

آخرکار، تھکن اور مایوسی کے عالم میں اس آدمی نے ایک سخت فیصلہ کیا۔ اس نے سوچا:
“یہ گدھا اب اس گڑھے میں بھوک اور خوف سے مر جائے گا، بہتر ہے اسے جلدی دفنا دیا جائے تاکہ تکلیف کم ہو۔”

یہ سوچ کر اس نے گڑھے میں مٹی ڈالنا شروع کر دی۔

پہلی بیلچہ مٹی گدھے پر گری۔ گدھا زور سے کانپا، جیسے اس پر قیامت ٹوٹ پڑی ہو۔ مگر پھر اس نے ایک عجیب عمل کیا—اس نے اپنے جسم سے مٹی جھٹک دی اور اس پر ایک قدم اوپر رکھ دیا۔

دوسری بار پھر مٹی ڈالی گئی۔ وہی ہوا۔
گدھے نے مٹی جھٹکی، اور اس پر چڑھ گیا۔

جوں جوں آدمی مٹی ڈالتا گیا، گدھا ہر بار اسے جھٹک کر اس پر قدم رکھتا گیا۔ مٹی نیچے گرتی رہی، اور گدھا اوپر اٹھتا رہا۔

وقت کے ساتھ گڑھا بھرنے لگا، اور گدھا مسلسل بلند ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ وہ لمحہ آیا جب وہ تقریباً اوپر پہنچ چکا تھا۔

پھر ایک زوردار چھلانگ کے ساتھ وہ گڑھے سے باہر آ گیا۔
آدمی حیرت سے کھڑا دیکھتا رہ گیا، اور گدھا سکون سے آگے بڑھ گیا، جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔

اخلاقی سبق:
زندگی میں مشکلات اور ناامیدیاں آپ پر بار بار “مٹی” کی طرح آتی ہیں۔ لوگ، حالات اور وقت آپ کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں۔

لیکن جو انسان ہر مشکل کو جھٹک کر اسے اپنے قدموں کے نیچے رکھ لیتا ہے، وہی ان مشکلات کو اپنی ترقی کا ذریعہ بنا لیتا ہے۔

اصل کامیابی یہ نہیں کہ گڑھا آئے یا نہ آئے، اصل کامیابی یہ ہے کہ آپ اس گڑھے میں دبیں نہیں بلکہ اس سے اوپر اٹھتے جائیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner