جنگل میں دو شیر رہتے تھے۔
ایک جوان، طاقتور اور تیز تھا… جبکہ دوسرا بوڑھا مگر تجربہ کار۔
دونوں کی دوستی پورے جنگل میں مشہور تھی۔ جہاں ایک جاتا، دوسرا اُس کے ساتھ ہوتا۔
مگر وقت بدلا…
ایک دن کسی غلط فہمی نے دونوں کے دلوں میں نفرت بھر دی۔
بات چیت بند ہوگئی… راستے الگ ہوگئے… اور دونوں ایک دوسرے کو دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے تھے۔
کچھ دن بعد ایک خطرناک واقعہ پیش آیا۔
بوڑھا شیر اکیلا جنگل کے کنارے بیٹھا تھا کہ اچانک 25-30 جنگلی کتوں نے اُس پر حملہ کر دیا۔
کتے مسلسل اُس پر بھونک رہے تھے، کاٹ رہے تھے، اور اُسے کمزور سمجھ کر نوچنے لگے۔
بوڑھا شیر پوری کوشش کے باوجود بے بس ہوتا جا رہا تھا…
اچانک پورا جنگل ایک خوفناک دھاڑ سے گونج اٹھا!!!
وہ جوان شیر تھا۔
اُس کی ایک ہی دھاڑ نے کتوں کے دل دہلا دیے۔
سارے کتے دم دبا کر بھاگ گئے۔
جوان شیر نے بوڑھے شیر کی طرف دیکھا… مگر کچھ کہے بغیر واپس مڑنے لگا۔
بوڑھے شیر نے حیران ہو کر آواز دی:
“تم تو مجھ سے ناراض تھے… پھر میری جان کیوں بچائی؟”
جوان شیر رکا… پلٹا… اور بڑی گہری بات کہی:
“ناراضگی اپنی جگہ…
لیکن اتنی کمزوری بھی نہیں ہونی چاہیے کہ کتے ہماری دشمنی کا فائدہ اٹھانے لگیں۔”
پیغام:
اگر اپنے آپس کے اختلافات حد سے بڑھ جائیں، تو باہر والے فائدہ اٹھانا شروع کر دیتے ہیں۔
رشتے ٹوٹنے سے پہلے انا نہیں… عقل استعمال کرنی چاہیے۔
