ایک شہر کے ایک چھوٹے سے کونے میں سراج نامی ایک بوڑھا موچی رہتا تھا۔ وہ دن بھر لوگوں کے جوتے گانٹھتا اور جو چند پیسے ملتے، اس سے اپنے اور اپنی بیمار بیوی کے لیے روکھی سوکھی روٹی کا انتظام کرتا۔ سراج غریب ضرور تھا، لیکن اس کے چہرے پر ہمیشہ ایک عجیب سا اطمینان اور مسکراہٹ رہتی تھی۔
ایک سرد شام، جب وہ اپنی دکان بڑھانے کی تیاری کر رہا تھا، ایک امیر تاجر وہاں سے گزرا۔ تاجر بہت پریشان حال لگ رہا تھا، اس کے چہرے پر تھکن اور ذہنی تناؤ واضح تھا۔ تاجر کی نظر سراج پر پڑی جو خوش دلی سے کوئی دھن گنگناتے ہوئے اپنے اوزار سمیٹ رہا تھا۔
تاجر سراج کے پاس آیا اور کہنے لگا: “بابا! میں اس شہر کا سب سے امیر آدمی ہوں، میرے پاس گاڑی، بنگلہ اور بے حساب دولت ہے، لیکن میرے دل میں رتی برابر بھی سکون نہیں ہے۔ میں راتوں کو سو نہیں پاتا۔ تمہارے پاس نہ اچھا لباس ہے نہ رہنے کو بڑا گھر، پھر بھی تم اتنے خوش اور مطمئن کیسے ہو؟”
سراج نے نرمی سے مسکراتے ہوئے اپنے دونوں خالی ہاتھ آگے بڑھائے اور بولا:
“جناب! آپ کا دل اس لیے بھاری ہے کیونکہ آپ نے دنیا کی ہر چیز کو مضبوطی سے پکڑ رکھا ہے—اپنا منافع، اپنی دولت اور اپنی شہرت۔ جبکہ میرے یہ ہاتھ خالی ہیں، میں صبح جو کماتا ہوں، شام کو شکر ادا کر کے کھا لیتا ہوں اور رات کو یہ سوچ کر پرسکون سوتا ہوں کہ کل کا رزق دینے والا بھی وہی خدا ہے جس نے آج دیا ہے۔ میرا سکون چیزوں میں نہیں، ‘شکر گزاری’ اور ‘توکل’ میں ہے۔”
تاجر کو بوڑھے موچی کی بات سمجھ آ گئی کہ سکون پیسوں سے خریدا نہیں جاتا، بلکہ خواہشات کو کم کرنے اور جو ملا ہے اس پر راضی رہنے سے ملتا ہے۔
کہانی کا گہرا سبق (Moral)
اطمینان دل کی حالت ہے: خوشی اس بات پر منحصر نہیں کرتی کہ آپ کے پاس کیا کچھ ہے، بلکہ اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس جو ہے، آپ اس سے کتنے مطمئن ہیں۔
توکل میں راحت ہے: جب انسان اپنی تدبیروں سے زیادہ اپنے رب کی ذات پر بھروسہ کرنے لگتا ہے، تو اس کے دل سے مستقبل کا خوف اور ماضی کا پچھتاوا ختم ہو جاتا ہے۔
