بلاعنوان

بلاعنوان

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اس کے پاس ایک پرانا گدھا تھا جو برسوں سے اس کا وفادار ساتھی تھا۔ گدھا سادہ دل تھا، لیکن تھوڑا سا حسد کرنے کی عادت بھی رکھتا تھا۔ ایک دن کسان بازار سے ایک بڑی سی بھینس خرید کر لے آیا۔

گدھے نے زندگی میں پہلی بار بھینس دیکھی۔ اس نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور دل ہی دل میں سوچا:
“ارے واہ! یہ کون سی مخلوق آ گئی؟ اتنا بڑا جسم، ایسی موٹی تازی صحت، اور لگتا ہے جیسے کھانے پینے کی رانی ہو”

رات ہوئی تو گدھا آرام کرنے لگا، مگر اس کی نظر بار بار بھینس پر جا رہی تھی۔ بھینس خاموشی سے جگالی کر رہی تھی۔
گدھے نے حیران ہو کر کہا: “بہن بھینس! تم تو ابھی تک کھائے جا رہی ہو۔ آخر ایسا کیا کھاتی ہو جس سے تمہاری صحت اتنی اچھی ہو گئی ہے؟ مجھے بھی وہ راز بتاؤ، میں بھی تمہاری طرح طاقتور اور خوبصورت بننا چاہتا ہوں۔”

بھینس دل ہی دل میں مسکرائی۔ وہ کافی چالاک تھی۔ اس نے سوچا: “لگتا ہے آج اچھا خاصا تفریح کا سامان مل گیا ہے۔”
اس نے سنجیدہ لہجے میں کہا: “بھائی گدھے! یہ کوئی عام راز نہیں ہے۔ اگر بتا دیا تو تم شاید دوسروں کو بھی بتا دو گے۔”

گدھے نے فوراً کہا: “نہیں نہیں، میں کسی کو نہیں بتاؤں گا۔”

بھینس نے گردن ہلاتے ہوئے کہا: “دل تو میرا بھی چاہتا ہے کہ تمہیں بتا دوں، مگر ابھی میرا دل مطمئن نہیں ہوا۔ پہلے ذرا میرے لیے کنویں سے دو بالٹیاں پانی بھر لاؤ، پھر سوچوں گی۔”

گدھا فوراً دوڑا اور پانی لا کر رکھ دیا۔

“اب تو بتا دو؟” گدھے نے بے چینی سے پوچھا۔
بھینس نے کچھ دیر آنکھیں بند کر کے سوچنے کی اداکاری کی اور بولی: “بس ایک مسئلہ ہے، مجھے ڈر ہے تم راز سن کر خوشی میں کہیں چیخ نہ اٹھو۔ پہلے میرے لیے تازہ گھاس لے آؤ، پھر بتاؤں گی۔”

گدھا پھر دوڑ پڑا۔ گھاس لایا، خدمت کی، پھر پوچھا: “اب تو راز بتا دو”
بھینس نے لمبی سانس لی: “ارے بھائی، تم بہت اچھے ہو، دل تو کرتا ہے سب کچھ بتا دوں، مگر دماغ کہتا ہے ابھی نہیں۔”
اس طرح کئی دن گزر گئے۔ کبھی گدھا پانی لاتا، کبھی گھاس، کبھی سایہ کرنے کے لیے پنکھا جھلتا، اور ہر بار یہی جواب ملتا:

“دل کہتا ہے بتا دوں، مگر دماغ منع کرتا ہے۔”

آخر ایک دن گدھا تھک گیا اور غصے میں بولا:
“بہن! آج فیصلہ کر لو، آخر وہ راز ہے کیا؟”

بھینس زور سے ہنسی اور بولی:
“بھائی گدھے! راز تو صرف اتنا ہے کہ میں وہی کھا رہی ہوں جو تم کھاتے ہو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تم دوسروں کی صحت دیکھ کر حسد کرتے رہے اور میں اپنی خوراک کو آرام سے ہضم کرتی رہی۔”

گدھا حیران رہ گیا۔

اتنے میں کسان وہاں آیا اور ہنستے ہوئے بولا: “ارے نادان! دوسروں کی موٹی کھال اور مضبوط جسم دیکھ کر یہ نہ سمجھ لیا کرو کہ ان کے پاس کوئی جادو ہے۔ ہر مخلوق کی ساخت، ضرورت اور فطرت الگ ہوتی ہے۔”

گدھے نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا لیا۔ اسے سمجھ آ چکی تھی کہ چند دنوں سے وہ راز نہیں، بلکہ اپنی سادگی کی قیمت ادا کر رہا تھا۔

اخلاقی سبق:

دنیا میں اکثر لوگ دوسروں کی کامیابی، طاقت، دولت یا خوشحالی کا صرف نتیجہ دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ضرور اس کے پیچھے کوئی خفیہ نسخہ ہے۔ اسی تلاش میں وہ دوسروں کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور کبھی کبھی اپنا وقت، محنت اور عزت بھی گنوا دیتے ہیں۔ دانائی یہ نہیں کہ ہر چمکتی چیز کے پیچھے دوڑا جائے، بلکہ یہ ہے کہ حقیقت کو سمجھا جائے اور اپنی صلاحیتوں کو پہچانا جائے اور ان کو زیادہ سے زیادہ کام میں لایا جائے۔



Leave a Reply

NZ's Corner