کہتے ہیں کسی دور دراز افریقی سلطنت میں ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے عجائبات دیکھنے کا بے حد شوق تھا۔ دربار میں اگر کوئی مداری، شعبدہ باز یا جادوگر آ جاتا تو بادشاہ سب کام چھوڑ کر اس کا کرتب دیکھنے بیٹھ جاتا۔
ایک دن ایک پراسرار جادوگر دربار میں حاضر ہوا۔ اس کی لمبی چغہ پوشی، نوکیلی ٹوپی اور چمکتی ہوئی آنکھیں دیکھ کر لوگ ویسے ہی مرعوب ہو گئے۔
اس نے جھک کر سلام کیا اور بڑے اعتماد سے بولا:
“بادشاہ سلامت! میں ایسا جادو جانتا ہوں کہ پانی کو جام میں بدل سکتا ہوں۔”
دربار میں سرگوشیوں کا طوفان اٹھ گیا۔
بادشاہ نے حیرت سے پوچھا:
“واقعی؟ اگر ایسا ہے تو فوراً ہمیں دکھاؤ!”
جادوگر مسکرایا۔ اس نے ایک شفاف گلاس میں پانی بھرا، آنکھیں بند کیں، چند پراسرار منتر پڑھے، ہاتھ ہوا میں گھمایا، اور پھر نہایت سنجیدگی سے بولا:
“حضور! اب یہ پانی نہیں، خالص جام ہے۔ نوش فرمائیے!”
بادشاہ نے گلاس لیا، ایک گھونٹ بھرا، پھر دوسرا، پھر پورا گلاس خالی کر دیا۔
چند لمحے خاموشی رہی۔
پھر بادشاہ نے ماتھا سکیڑ کر کہا:
“یہ تو پانی ہی تھا!”
جادوگر نے فوراً تعظیم سے سر جھکایا اور بولا:
“جی ہاں، حضور! وہ پانی ہی تھا۔”
بادشاہ کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا۔
“تو پھر جام کہاں گئی؟”
جادوگر نے نہایت سکون سے جواب دیا:
“حضور، اصل جادو پانی کو جام بنانا نہیں تھا۔ اصل جادو تو یہ تھا کہ آپ ایک لمحے کے لیے یقین کر بیٹھے کہ یہ جام ہے۔ فریب کا جادو، دنیا کے ہر جادو سے بڑا ہوتا ہے!”
دربار میں کچھ لوگ سر ہلانے لگے، مگر بادشاہ کو یہ فلسفہ پسند نہ آیا۔
وہ دھاڑا:
“ہمیں بے وقوف بنانے کی سزا ملے گی! اسے فوراً قید خانے میں ڈال دو!”
سپاہیوں نے جادوگر کو زنجیروں میں جکڑ کر قید خانے میں بند کر دیا۔
رات گہری ہوئی۔ محل خاموش ہو گیا۔ پہرے دار اونگھنے لگے۔
مگر صبح جب قید خانے کا دروازہ کھولا گیا تو سب کے ہوش اڑ گئے۔
قید خانہ خالی تھا!
نہ زنجیر، نہ قیدی، نہ کوئی سراغ۔
صرف ایک خط فرش پر پڑا تھا۔
خط بادشاہ کے سامنے لایا گیا۔
اس میں لکھا تھا:
“بادشاہ سلامت!
کل میں نے آپ کو پانی پلا کر یہ جادو دکھایا کہ انسان اپنی سوچ سے دھوکا کھا سکتا ہے۔
اور آج میں نے آپ کو یہ جادو دکھایا کہ ایک قیدی بھی قید سے غائب ہو سکتا ہے۔
اب فیصلہ آپ کریں اصل جادو کون سا تھا؟”
خط پڑھ کر بادشاہ کے چہرے کے رنگ بدلتے رہے۔
کچھ درباری حیران تھے، کچھ مسکرا رہے تھے، اور کچھ دل ہی دل میں سوچ رہے تھے کہ شاید جادوگر واقعی بڑا فنکار تھا… یا شاید محل کے پہرے دار بہت ہی کمزور تھے!
سبق
دنیا میں سب سے طاقتور جادو اکثر منتر یا تعویذ نہیں، بلکہ انسان کا یقین اور فریب ہوتا ہے۔
#منقول
