مراد کے ابو تھانیدار تھے۔ ایک دفعہ ان کا تبادلہ شہر سے دور ایک پہاڑی گاؤں میں ہو گیا۔ مراد بھی اپنے امی ابو کے ساتھ اس گاؤں میں رہنے لگا۔ ان کا گھر گاؤں سے ہٹ کر تھا اور اس کے اطراف میں پہاڑیاں اور جنگل تھے جن میں ریچھ بہت زیادہ تھے۔ گاؤں والے ان سے بہت تنگ رہتے تھے، کیونکہ وہ ان کے کھیت اور باغ اجاڑ دیتے تھے۔ گاؤں میں اونچے اونچے درخت بھی تھے جن میں شہد کے بڑے بڑے چھتے لگے تھے۔
ان چھتوں کو ریچھوں سے بچانے کے لیے گاؤں والوں نے درختوں کے ساتھ رسیاں باندھ رکھی تھیں جن میں موٹی موٹی لکڑیاں لٹک رہی تھیں۔ جب ہوا چلتی تو یہ لکڑیاں جھولنے لگتیں اور ان کی آواز اور حرکت سے ریچھ درختوں سے دور رہتے تھے۔
ریچھ کا بچہ اور مراد
ایک رات ایک ریچھنی اپنے ننھے منے بچے کے ساتھ گاؤں میں گھس آئی۔ وہ مراد کے گھر کے قریب ایک درخت پر چڑھنا چاہتی تھی کہ اتنے میں اس کا بچہ رسی سے بندھی لکڑی کے ٹکڑے سے کھیلنے لگا۔ لکڑی کچھ اس طرح جھولی کہ بچے کے سر پر زور سے آ لگی اور ریچھ کا بچہ صدمے سے بے ہوش ہو گیا۔
اس کی ماں رات بھر اسے جگانے کی کوشش کرتی رہی، لیکن جب صبح ہوئی اور بچہ ہوش میں نہ آیا تو وہ ڈر کر اکیلی جنگل میں چلی گئی۔ مراد کے ابو اس ریچھ کے بچے کو اٹھا کر اپنے گھر لے آئے اور اسے آگ کے پاس لٹایا۔ آگ کی گرمی پا کر وہ جلد ہی ہوش میں آ گیا۔ مراد کے ابو اسے فورا جنگل میں چھوڑنا چاہتے تھے، لیکن مراد کی ضد کے آگے وہ مجبور ہو گئے اور بچے کو گھر ہی رکھ لیا۔
ریچھ کا بچہ اب مراد اور گاؤں کے دوسرے بچوں کے ساتھ رہنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے بڑا ہو گیا۔ اس کا نام “بھولا” رکھا گیا تھا۔ ایک دن بھولا جنگل میں ایسا گیا کہ پھر لوٹ کر واپس نہ آیا۔ مراد اور گاؤں کے سب بچے بہت اداس ہوئے۔ کچھ عرصے بعد مراد کے ابو کا تبادلہ بھی وہاں سے ہو گیا جانے سے پہلے مراد نے گاؤں کی ایک بوڑھی اماں سے، جو بھولے کے لیے اکثر تربوز، خربوزے اور پھل لایا کرتی تھی، کہا کہ اگر بھولا کبھی واپس آئے تو وہ اسے ضرور کچھ کھانے کو دے اور اس کا خیال رکھے۔
نئے تھانیدار کی آمد
کچھ عرصے بعد نئے تھانیدار اسی گھر میں رہنے کے لیے آئے جس میں پہلے مراد کا خاندان رہتا تھا۔ ان کا بس ایک ہی چھوٹا بچہ تھا۔ ایک دن دوپہر کے وقت ایک ریچھ گھر کے اندر آ گیا۔ تھانیدار کی اہلیہ اسے دیکھ کر ڈر گئیں اور زور زور سے چیخنے لگیں۔ تھانیدار فوراً ہاتھ میں لٹھ لے کر دوڑے اور انھوں نے ریچھ کی پیٹھ پر خوب ڈنڈے برسائے، جس پر ریچھ وہاں سے بھاگ گیا۔
کچھ دن بعد سردیوں کے دن تھے۔ تھانیدار کی اہلیہ نے اپنے بچے کو دھوپ میں چار پائی پر سلا دیا تھا اور خود باورچی خانے میں کام میں مصروف تھیں۔ گھر کا بیرونی دروازہ کھلا ہوا تھا کہ اتنے میں وہی ریچھ چپکے سے اندر گھس آیا اور اس نے بچے کو پیار سے گود میں اٹھا کر جنگل کا رخ کیا۔
تھانیدار کی اہلیہ جب صحن میں آئیں اور بچے کو غائب پایا تو وہ رونے اور چلانے لگیں۔ شور سن کر گاؤں والے جمع ہو گئے۔ زمین پر ریچھ کے پاؤں کے نشان موجود تھے، جس سے سب کو یقین ہو گیا کہ ریچھ ہی بچے کو اٹھا کر لے گیا ہے۔ لوگ بچے کی تلاش میں چاروں طرف پھیل گئے۔
سمجھ دار بڑھیا کا کمال
اتنے میں کسی نے خبر دی کہ ایک ریچھ بچے کو لیے قریبی ٹیلے پر بیٹھا ہے۔ تھانیدار اپنے سپاہیوں کو لے کر فوراً ٹیلے کے پاس پہنچ گئے اور سب غصے میں ریچھ کو گولی سے اڑانے کی باتیں کرنے لگے۔
اتنے میں وہی بوڑھی بڑھیا اپنے سر پر پھلوں کی ٹوکری اٹھائے وہاں پہنچی اور سب سے کہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائیں اور کوئی بھی ریچھ کو نقصان نہ پہنچائے، وہ خود بچے کو صحیح سلامت چھڑا لائے گی۔ آخرکار لوگوں نے اس کی بات مانی اور وہ سب ادھر ادھر جھاڑیوں میں چھپ گئے۔
بڑھیا نے آگے بڑھ کر ایک چٹان پر وہ پھلوں کی ٹوکری رکھ دی۔ ریچھ بچے کو لے کر نیچے آیا، اسے محبت سے زمین پر لٹایا اور ٹوکری میں رکھے مزیدار پھل کھانے لگا۔ پیٹ بھر کر جب اس نے دیکھا تو وہ بڑھیا کے قریب آیا۔ بڑھیا نے آگے بڑھ کر اسے پیار کیا—وہ دراصل وہی پرانا بھولا ریچھ تھا جو بچپن میں مراد کے پاس پلا بڑھا تھا۔
تھوڑی دیر پیار لینے کے بعد بھولا واپس جنگل کی طرف چلا گیا۔ تھانیدار اور گاؤں والے دوڑ کر بڑھیا کے پاس آئے اور اس کی گود سے بچے کو صحیح سلامت اٹھا لیا۔ تھانیدار نے بڑھیا کی اس عقلمندی اور بہادری کی دل کھول کر تعریف کی اور سب لوگ خوشی سے اسے جلوس کی شکل میں عزت کے ساتھ گاؤں میں واپس لائے۔ وہ بڑھیا جب تک زندہ رہی، بھولا ریچھ اکثر گاؤں میں اس سے ملنے آتا رہا۔


