ایک کسان تھا۔ اس کے گھر میں ایک بھینس اور ایک گدھا تھا۔ بھینس کسان کے ساتھ ہر روز عصر کے وقت جنگل کی طرف چرانے جاتی اور شام کو واپس آ جاتی۔ گدھا گھر ہی میں بند رہتا مگر اس کی اور بھینس کی آپس میں گہری دوستی تھی۔
جب بھینس واپس آتی تو وہ گدھے کو جنگل کی سبز گھاس، ٹھنڈی ہواؤں اور دور دریا کے کناروں کی باتیں سناتی۔ وہ اسے بتاتی کہ وہاں زمین اتنی نرم ہے جیسے قالین، اور سبزہ ایسا گھنا کہ آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ بھینس کی باتیں سن سن کر گدھے کے دل میں ایک عجیب سا شوق پیدا ہو گیا تھا۔ وہ بار بار سوچتا کہ کاش وہ بھی اس جنت جیسے منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ سکے۔
ایک دن ایسا ہوا کہ کسان گھر سے باہر چلا گیا۔ موقع دیکھ کر بھینس نے گدھے سے کہا:
“آج چلو، میں تمہیں وہ جگہ دکھاتی ہوں جس کا میں ہمیشہ ذکر کرتی ہوں۔”
گدھا خوشی سے تیار ہو گیا۔ دونوں گھر سے نکلے اور جنگل کی طرف چل پڑے۔ راستے میں بھینس اسے ہر ہر جگہ کے بارے میں بتاتی رہی، اور گدھا حیرت سے سب کچھ سنتا رہا۔
چلتے چلتے وہ دریا کے کنارے پہنچ گئے۔ دور تک سبزہ پھیلا ہوا تھا، پانی چمک رہا تھا اور ہوا میں ایک عجیب سی تازگی تھی۔
بھینس رکی نہیں۔
اس نے بغیر سوچے سمجھے دریا میں چھلانگ لگا دی۔
گدھا بھی اسی کی دیکھا دیکھی میں پیچھے دریا میں کود پڑا۔
لیکن گدھے کو تیراکی نہیں آتی تھی۔
وہ پانی میں ہاتھ پاؤں مارتا رہا، جدوجہد کرتا رہا، مگر دریا کی گہرائی اور بہاؤ اس پر غالب آ گیا۔ کچھ ہی دیر میں وہ تھک کر ڈوب گیا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔
اخلاقی سبق:
کہتے ہیں، کچھ خواب خوبصورت ضرور ہوتے ہیں مگر ہر خواب حقیقت نہیں ہوتا۔ اور ہر وہ راستہ جس پر کوئی اور چل رہا ہو، ضروری نہیں کہ وہ آپ کے لیے بھی محفوظ ہو۔
یہ کہانی یہ سبق دیتی ہے کہ صرف دوسروں کی باتوں اور ان کے تجربے پر اندھا اعتماد نہیں کرنا چاہیے، بلکہ ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھانا چاہیے۔
