ایک گاؤں میں ایک بہت پرانا مسجد تھا۔ اس مسجد کی سب سے خاص بات وہاں رہنے والا ایک دیو ہیکل مگر نہایت نرم دل ہاتھی تھا۔
وہ ہاتھی ہر صبح مسجد کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا اور آنے والے زائرین کو اپنی سونڈ اٹھا کر سلام کرتا۔ بچے اس سے بے حد محبت کرتے، بوڑھے اسے دعائیں دیتے، اور ہر کوئی اسے مسجد کی شان سمجھتا تھا۔
ہر شام سورج ڈھلنے کے بعد ہاتھی قریبی تالاب پر نہانے جایا کرتا تھا۔ راستے میں ایک درزی کی چھوٹی سی دکان پڑتی تھی۔ یہ درزی روز ہاتھی کا انتظار کرتا، اور جیسے ہی ہاتھی اپنی سونڈ بڑھاتا، وہ محبت سے اسے ایک کیلا کھلا دیتا۔
ہاتھی خوش ہو کر سونڈ بلند کرتا، گویا شکریہ ادا کر رہا ہو، اور پھر آہستہ آہستہ تالاب کی طرف بڑھ جاتا۔
وقت گزرتا گیا، اور یہ معمول ایک خوبصورت دوستی میں بدل گیا۔
لیکن ایک شام…
درزی کے دل میں شرارت جاگ اٹھی۔
ہاتھی حسبِ معمول دکان کے سامنے رکا، اس نے اپنی سونڈ آگے بڑھائی تاکہ کیلا لے سکے۔ مگر اس بار درزی نے کیلے کے بجائے ایک نوکیلی سوئی ہاتھی کی سونڈ میں چبھو دی۔
“آہہہ!”
ہاتھی درد سے بری طرح تڑپ اٹھا۔ اس کی آنکھوں میں حیرت اور تکلیف صاف دکھائی دے رہی تھی۔
درزی زور زور سے ہنسنے لگا۔
“ہاہاہا! دیکھو تو ذرا، کیسے ڈر گیا!”
ہاتھی خاموشی سے اسے دیکھتا رہا۔ اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سا دکھ تھا… جیسے اسے کسی اپنے کی بے وفائی نے زخمی کر دیا ہو۔
وہ کچھ کہے بغیر وہاں سے چلا گیا۔
اگلے دن سب کچھ معمول کے مطابق تھا… مگر حقیقت میں کچھ بھی معمول کے مطابق نہیں تھا۔
ہاتھی تالاب پر نہانے گیا، لیکن واپسی پر وہ ایک دوسرے گندے جوہڑ کے پاس رکا۔ اس نے اپنی سونڈ میں کیچڑ بھرا پانی بھر لیا۔
پھر وہ سیدھا درزی کی دکان کی طرف بڑھا۔
ادھر درزی اپنی دکان میں مصروف تھا۔ اس نے بڑی محنت سے کئی خوبصورت کپڑے سلے تھے۔ استری کیے ہوئے نئے جوڑے ترتیب سے رکھے ہوئے تھے، اور وہ خوشی سے اپنی کاریگری کو دیکھ رہا تھا۔
اتنے میں ہاتھی دکان کے سامنے آ کر رک گیا۔
درزی مسکرایا، “اوہ! میرا دوست آ گیا…”
مگر اگلے ہی لمحے—
ہاتھی نے پوری طاقت سے اپنی سونڈ سے کیچڑ بھرا پانی اچھال دیا!
چھپاک!!!
تمام نئے کپڑے، استری شدہ جوڑے، اور پوری دکان گندے پانی میں بھیگ گئی۔
درزی کی خوشی ایک لمحے میں خاک میں مل گئی۔
وہ حیرت سے ہاتھی کو دیکھتا رہ گیا۔
اب ہنسنے کی باری ہاتھی کی نہیں تھی… بلکہ خاموشی کی تھی۔
درزی کو فوراً اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس نے شرمندگی سے ہاتھ جوڑ لیے اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا:
“دوست… یہ میرے اپنے برے عمل کا نتیجہ ہے۔ میں نے تمہیں تکلیف دی، اور آج وہی درد میرے پاس لوٹ آیا۔ مجھے معاف کر دو۔ آئندہ کبھی کسی بے زبان دل کو نہیں دکھاؤں گا۔”
ہاتھی نے آہستہ سے اپنا سر ہلایا، جیسے اس کی معافی قبول کر لی ہو۔
پھر اس نے اپنی سونڈ بلند کی… اور شاہانہ انداز میں وہاں سے چل دیا۔
جو درد ہم دوسروں کو دیتے ہیں، ایک دن وہی درد کسی نہ کسی صورت ہمارے اپنے دروازے پر واپس آتا ہے۔
