تیسری دستک

تیسری دستک

رات کے ٹھیک تین بجے، پورے گاؤں کی بجلی چلی گئی۔

بارش نہیں ہو رہی تھی، ہوا بھی بند تھی…

پھر بھی عائشہ کی آنکھ اچانک کھل گئی۔

ٹھک… ٹھک…

دروازے پر دو ہلکی دستکیں ہوئیں۔

اس نے سمجھا شاید وہم ہے۔

خاموشی چھا گئی۔

چند لمحوں بعد…

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

اس بار تین دستکیں تھیں۔

اس کی دادی کی ایک بات اسے فوراً یاد آ گئی۔

“اگر رات کے آخری پہر کوئی تین بار دروازہ کھٹکھٹائے… تو پہلے کھڑکی سے ضرور دیکھنا، دروازہ فوراً مت کھولنا۔”

عائشہ نے کانپتے ہاتھوں سے پردہ ہٹایا۔

باہر کوئی نہیں تھا۔

صرف گیلی مٹی پر ننگے قدموں کے نشان…

جو دروازے تک آ کر ختم ہو جاتے تھے۔

واپس نہیں جاتے تھے۔

اس کا گلا خشک ہو گیا۔

اچانک اس کے پیچھے سے پھر وہی آواز آئی۔

ٹھک… ٹھک… ٹھک…

مگر اس بار…

دروازے پر نہیں۔

الماری کے اندر سے۔

کمرے کی ہوا برف کی طرح ٹھنڈی ہو گئی۔

الماری کا ہینڈل آہستہ آہستہ خود ہلنے لگا۔

عائشہ چیخنا چاہتی تھی…

مگر آواز گلے میں اٹک گئی۔

پھر ایک سرگوشی سنائی دی۔

“دروازہ تم نے بند کیا تھا…

مجھے نہیں۔”

الماری کا دروازہ خود بخود کھل گیا۔

اندر کپڑوں کے سوا کچھ نہیں تھا…

مگر الماری کی پچھلی دیوار پر اندر سے کسی نے انگلیوں سے تین تازہ لکیریں کھینچی ہوئی تھیں۔

اسی لمحے پورے گھر کی بجلی واپس آ گئی۔

ہر چیز معمول پر آ گئی۔

عائشہ نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہ سب ڈر کا وہم تھا۔

صبح ناشتے پر اس نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔

لیکن جب اس کی دادی چائے رکھنے آئیں…

ان کے ہاتھ کانپنے لگے۔

عائشہ کے کمرے کی دیوار پر، الماری کے بالکل سامنے، کوئلے جیسے سیاہ حروف میں صرف ایک جملہ لکھا تھا…

“آج رات دروازہ مت کھولنا… میں دوبارہ دستک دوں گا۔”

Leave a Reply

NZ's Corner