راجستھان کی تپتی ریتوں اور سنہری قلعوں کے زمانے کی بات ہے۔ ایک ریاست کا بادشاہ اپنے علم و دانش پر بڑا ناز کرتا تھا، مگر ساتھ ہی عجائبات اور کرامات سننے کا بھی شوقین تھا۔ اسی کمزوری کی خبر دور دور تک مشہور تھی۔
ایک دن دربار میں ایک جوگی آن پہنچا۔ اس کی لمبی جٹائیں کندھوں پر بکھری تھیں، گلے میں رنگ برنگے منکوں کی مالائیں تھیں اور پیشانی پر ایک بڑی سی آنکھ بنی ہوئی تھی۔
جوگی نے دربار میں داخل ہوتے ہی گرجدار آواز میں کہا:
“اے راجَن! عام انسان دو آنکھوں سے دنیا دیکھتے ہیں، مگر میرے پاس تیسری آنکھ ہے، جو پردۂ مستقبل کے پار بھی دیکھ لیتی ہے!”
درباری حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ کسی نے سبحان اللہ کہا، کسی نے کرامت کا چرچا چھیڑ دیا۔
مگر بادشاہ نے غور سے جوگی کی پیشانی دیکھی اور مسکراتے ہوئے بولا:
“بابا! یہ تیسری آنکھ کم اور رنگ روغن زیادہ معلوم ہوتی ہے۔”
جوگی نے گردن جھٹکی اور فلسفیانہ انداز میں کہا:
“مہاراج! یہ رنگ نہیں، نور ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اسے دیکھنے کے لیے غیر معمولی بصیرت چاہیے، اور عام آنکھیں اس راز کو نہیں پا سکتیں۔”
درباری فوراً سر ہلانے لگے، گویا انہوں نے ابھی ابھی کائنات کا کوئی عظیم راز جان لیا ہو۔
بادشاہ نے کہا:
“اچھا، اگر تم واقعی غیب دیکھ سکتے ہو تو بتاؤ، میرے خزانے میں کیا ہے؟”
جوگی نے آنکھیں موند لیں، چند لمحے سر ہلاتا رہا، کبھی آسمان کی طرف دیکھتا، کبھی زمین کی طرف۔ پھر دھیرے سے بولا:
“میں دیکھ رہا ہوں… چمک… بہت زیادہ چمک… سونے کے سکے… بے شمار سونے کے سکے!”
دربار میں سرگوشیاں شروع ہو گئیں۔
بادشاہ نے پھر پوچھا:
“اور کتنے ہیں؟”
جوگی نے فوراً ماتھا پکڑ لیا۔
“مہاراج! روشنی اتنی زیادہ ہے کہ گنتی ممکن نہیں۔ میری تیسری آنکھ چندھیا گئی ہے!”
یہ سن کر کئی درباری متاثر ہو گئے، لیکن بادشاہ کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ کھیل گئی۔
اس نے جوگی کو سو اشرفیاں بطور انعام عطا کر دیں۔
جوگی نے دعائیں دیں، ہاتھ اٹھائے، آسمان کی طرف دیکھا اور بولا:
“آپ کی قسمت ستاروں سے بھی زیادہ روشن ہے!”
اور پھر اشرفیوں کی تھیلی سنبھال کر چلتا بنا۔
اگلی صبح جب دربار لگا تو بادشاہ نے پوچھا:
“وہ صاحبِ تیسری آنکھ کہاں ہیں؟”
سپاہیوں نے تلاش کیا، مگر جوگی کا کہیں نام و نشان نہ تھا۔
ایک سپاہی ہانپتا کانپتا آیا اور بولا:
“جہاں پناہ! وہ رات ہی رات اشرفیاں لے کر رفو چکر ہو گیا۔ اس نے آپ کو دھوکہ دیا!”
درباری افسوس کرنے لگے، مگر بادشاہ قہقہہ مار کر ہنس پڑا۔
“نہیں، اس نے مجھے دھوکہ نہیں دیا، بلکہ ایک قیمتی سبق دے گیا ہے۔”
سب حیران ہوئے۔
بادشاہ نے کہا:
“دنیا میں جھانسے کی تیسری آنکھ ہر طرف کھلی ہوئی ہے۔ کوئی اسے کرامت کہتا ہے، کوئی علمِ غیب، کوئی معجزہ۔ لیکن عقلمند وہ ہے جو ہر دعوے پر فوراً یقین کرنے کے بجائے اپنی عقل کی آنکھ کھولے۔”
پھر اس نے تخت سے اٹھتے ہوئے کہا:
“کبھی کبھی آنکھیں بند کر لینا ہی سب سے بڑی بصیرت ہوتی ہے۔”
دربار خاموش ہو گیا، اور ہر شخص اپنے اپنے انداز میں اس جملے کا مطلب سمجھنے لگا۔
سبق
جھانسہ اکثر عقل کی کمزوری سے جنم لیتا ہے، نہ کہ دھوکے باز کی طاقت سے۔
جو ہر چمکتی چیز کو نور سمجھے، وہ اپنی اشرفیاں جلد یا بدیر گنوا بیٹھتا ہے۔
اور یاد رکھیے: جوگی کی تیسری آنکھ سے زیادہ خطرناک چیز اس کی خالی جھولی ہے، کیونکہ آخرکار وہی آپ کی اشرفیاں لے کر روانہ ہوتی ہے۔
#منقول
