بخارا کے ایک بازار میں
ایک تاجر رہتا تھا۔
اچھا خاصا کاروبار تھا — مصالحے، ریشم، عطر —
لیکن اس کے گھر کی سب سے قیمتی چیز —
نہ ریشم تھی، نہ عطر —
بلکہ —
ایک طوطا تھا۔
وہ طوطا جیسے کوئی اور نہیں —
پنجرے میں بیٹھتا — سبز پروں کو سنوارتا —
اور پھر بولتا —
اس طرح بولتا کہ سننے والے دنگ رہ جاتے۔
شعر سناتا —
باتیں کرتا —
مہمانوں کا نام لے کر سلام کرتا —
مزاق کرتا — قہقہہ لگاتا۔
تاجر اسے بہت چاہتا تھا —
صبح اٹھ کر پہلے طوطے کے پاس جاتا —
رات کو سوتے وقت پنجرے کو کپڑے سے ڈھانپتا —
“میرا سورج — میری خوشی۔”
ایک دن —
تاجر کو ہندوستان کا سفر درپیش ہوا —
کاروباری معاملہ تھا — جانا ضروری تھا۔
اس نے گھر والوں سے پوچھا —
“کیا لاؤں تمہارے لیے؟”
کسی نے کپڑا مانگا —
کسی نے زیور —
کسی نے مصالحے۔
آخر میں تاجر طوطے کے پنجرے کے پاس آیا —
اور پیار سے بولا:
“بتاؤ — تمہارے لیے کیا لاؤں؟”
طوطے نے اپنی گول آنکھوں سے دیکھا —
پھر ایک لمحے کے لیے خاموش ہوا —
اور بولا:
“آقا — میرے لیے کچھ نہ لانا —
بس اتنا کرنا —
ہندوستان کے جنگل سے گزرو —
وہاں میرے جیسے طوطے ملیں گے —
انہیں میرا سلام کہنا —
اور کہنا کہ —
تمہارا بھائی یہاں بخارا میں ایک پنجرے میں ہے —
تڑپ رہا ہے —
یاد کر رہا ہے۔”
تاجر نے وعدہ کیا —
اور روانہ ہو گیا۔
ہندوستان —
جہاں جنگل گھنے تھے —
درخت اتنے اونچے کہ آسمان چھوتے تھے —
ہر شاخ پر رنگ برنگے پرندے —
اور انہی درختوں میں —
سبز طوطوں کا جھنڈ۔
تاجر نے قافلہ روکا —
جنگل کے کنارے کھڑا ہوا —
اور اس جھنڈ کو دیکھ کر —
اپنے طوطے کا پیغام سنایا:
“اے آزاد پرندو —
بخارا میں ایک طوطا ہے —
تمہاری ہی نسل کا —
پنجرے میں بند —
اس نے تمہیں سلام کہا ہے —
اور پوچھا ہے کہ —
آزاد بھائیوں کو یاد کرتا ہے۔”
طوطے سن رہے تھے —
اور تب —
ایک طوطے نے —
جو سب سے اونچی شاخ پر تھا —
ایک لرزش محسوس کی —
پھر اس کے پر ڈھیلے پڑ گئے —
اور وہ —
شاخ سے گر کر —
زمین پر آ گیا۔
تاجر دوڑ کر گیا —
طوطے کو اٹھایا —
وہ ساکت تھا — آنکھیں بند —
مر گیا تھا۔
تاجر پریشان ہو گیا —
“یہ کیا ہوا؟
میں نے بس ایک پیغام دیا تھا —
اس میں ایسی کیا بات تھی؟”
وہ واپس چلا —
لیکن یہ سوال اس کے ساتھ چلتا رہا —
پورے سفر میں —
مہینوں بعد —
تاجر بخارا واپس آیا۔
گھر والوں نے تحفے لیے —
خوشیاں منائیں —
لیکن تاجر سیدھا پنجرے کے پاس گیا۔
طوطا اپنی جگہ تھا —
چمکدار آنکھیں، سبز پر —
تاجر کو دیکھ کر پروں کو پھڑپھڑایا —
“آقا! آ گئے! کیسا رہا سفر؟”
تاجر نے بیٹھ کر سارا سفر سنایا —
پھر وہ لمحہ آیا —
اس نے ہندوستان کا قصہ سنایا —
طوطوں کا جھنڈ —
اور وہ طوطا جو پیغام سن کر —
گر پڑا —
مر گیا۔
پنجرے میں طوطا سنتا رہا —
آہستہ آہستہ —
اس کی آنکھیں بند ہوتی گئیں —
سر ڈھلک گیا —
پر لٹک گئے —
اور وہ —
پنجرے کی تلی پر گر گیا۔
تاجر چیخ اٹھا:
“یہ کیا ہوا؟!
میرا طوطا — میری خوشی —
یہ کیسے؟
میں نے کیا کر دیا؟!”
وہ رویا —
اس نے پنجرہ کھولا —
طوطے کو باہر نکالا —
کمزور، ساکت جسم —
“میں نے پیغام دے کر تجھے مار دیا —
کاش میں کبھی ہندوستان نہ جاتا۔”
تاجر نے طوطے کو کھڑکی کے پاس لے جا کر —
باہر پھینکنے کا ارادہ کیا —
اور جیسے ہی ہاتھ کھلا —
طوطا اڑ گیا۔
سیدھا — تیزی سے —
اوپر اٹھا — اور ایک درخت کی اونچی شاخ پر جا بیٹھا۔
تاجر حیران —
آنکھیں پھٹی کی پھٹی —
“تم — تم تو مر گئے تھے؟!”
طوطے نے اوپر سے دیکھا —
اور پہلی بار —
اس کی آواز پہلے سے مختلف تھی —
گہری — پر سکون — آزاد —
“آقا —
وہ ہندوستانی طوطے نے مجھے پیغام بھیجا تھا —
لیکن الفاظ میں نہیں —
عمل میں —
وہ بتا رہا تھا کہ —
آزادی کا راستہ کیا ہے۔”
تاجر نے کہا:
“میں نہیں سمجھا —
بتاؤ — وہ پیغام کیا تھا؟”
طوطے نے کہا:
“آقا —
میں اس پنجرے میں کیوں تھا؟
کیونکہ میں بولتا تھا —
میری آواز خوبصورت تھی —
میں شعر سناتا تھا —
میں لوگوں کو خوش کرتا تھا —
یہی میری خوبی تھی —
اور یہی میرا پنجرہ تھا۔
وہ ہندوستانی طوطے نے مرنے کا ناٹک کیا —
اور مجھے سکھایا کہ —
اگر آزاد ہونا ہے —
تو وہ “میں” مرنی چاہیے —
جو لوگوں کو دکھاتی ہے —
جو تعریف چاہتی ہے —
جو پنجرے کے بدلے دانہ لیتی ہے —
جب میں مر گیا —
تو آپ نے پنجرہ کھول دیا —
اور میں اڑ گیا۔”
تاجر خاموش کھڑا رہا —
آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے —
“تو میں نے تجھے نہیں مارا —
تو خود مرا — اپنی مرضی سے —
تاکہ جی سکے۔”
طوطے نے کہا:
“ہاں آقا —
اور آج سے آپ بھی سوچیں —
آپ کا پنجرہ کیا ہے؟
آپ کی وہ خوبی کیا ہے —
جس کے بدلے آپ قید میں ہیں؟”
اور یہ کہہ کر —
طوطا اڑ گیا —
آسمان میں —
آزاد —
لامحدود —
حکایت حضرت مولانا جلال الدین رومی
منتخب
