حقیقت بتانے والا کنواں

حقیقت بتانے والا کنواں

اس شہر میں ایک کنواں تھا… مگر لوگ کہتے تھے، اس میں پانی سے زیادہ سچ دفن ہے۔”
شہر کے بوڑھے اکثر بچوں کو اس کنویں سے دور رکھتے تھے۔
جب بھی کوئی پوچھتا…
“آخر اس میں ایسا کیا ہے؟”
وہ صرف ایک جملہ کہتے۔
“یہ کنواں پیاس نہیں بجھاتا… انسان کو اس کی حقیقت دکھاتا ہے۔”
سال گزر گئے۔
ایک نوجوان، جو ہر بات پر سوال کرتا تھا، ایک صبح اکیلا اس کنویں تک پہنچ گیا۔
وہ جھکا…
پانی بالکل صاف تھا۔
اس نے اپنا چہرہ دیکھا…
مگر چند لمحوں بعد پانی میں اس کا عکس بدلنے لگا۔
اسے ایک ایسا انسان نظر آیا…
جو ہر موقع پر سچ کی بات کرتا تھا…
مگر جب سچ اس کے اپنے خلاف جاتا…
تو خاموش ہو جاتا تھا۔
وہ گھبرا کر پیچھے ہٹا۔
اسی وقت ایک بوڑھا شخص آہستہ آہستہ چلتا ہوا آیا۔
نوجوان نے بےچینی سے پوچھا:
“یہ کنواں جادو کرتا ہے؟”
بوڑھا مسکرایا۔
“نہیں…”
“یہ صرف وہی دکھاتا ہے جسے تم ساری زندگی دوسروں سے چھپاتے رہے ہو۔”
نوجوان نے پھر پانی میں دیکھا۔
اس بار اسے اپنا چہرہ نہیں…
اپنے فیصلے نظر آئے۔
وہ لمحے…
جب اس نے فائدے کے لیے سچ چھوڑا۔
وہ وقت…
جب اس نے ظلم دیکھ کر خاموشی اختیار کی۔
اور وہ دن…
جب اس نے اپنی غلطی ماننے کے بجائے دوسروں کو قصوروار ٹھہرا دیا۔
وہ لرز گیا۔
“یہ کیسے ممکن ہے؟”
بوڑھے نے کنویں میں ایک چھوٹا سا پتھر پھینکا۔
لہریں اٹھیں…
اور عکس غائب ہو گیا۔
پھر وہ بولا:
“پانی کبھی جھوٹ نہیں بولتا…”
“بس ہم اپنی آنکھوں سے سچ دیکھنے کی ہمت نہیں رکھتے۔”
نوجوان نے آخری سوال کیا۔
“کیا ہر انسان کو یہی نظر آتا ہے؟”
بوڑھے نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا:
“نہیں…”
“جس کا ضمیر جاگ رہا ہو، اسے حقیقت نظر آتی ہے…”
“اور جس کا ضمیر سو چکا ہو… اسے صرف اپنا چہرہ نظر آتا ہے۔”
اس دن نوجوان پانی بھرے بغیر واپس چلا گیا…
کیونکہ اسے پہلی بار احساس ہوا…
دنیا کی سب سے گہری چیز کنواں نہیں تھا…
انسان کا اپنا ضمیر تھا۔

Leave a Reply

NZ's Corner