بہت عرصہ گزرا۔ایک خرگوش ایک جزیرے پر رہتا تھا۔اُس کی دلی خواہش تھی کہ وہ کسی طرح سے سمندر کا پانی عبور کر کے جائے اور وہاں بنی ہوئی تاریخی عمارتیں دیکھے۔وہ سوچتا رہتا تھا کہ اُسے کیا کرنا چاہیے؟
ایک دن وہ سمندر کے کنارے بیٹھا ہوا اسی بارے میں سوچ رہا تھا اور اُس کی لمبی اور گھنی دُم اِدھر اُدھر ہل رہی تھی۔
یہ تب کی بات ہے جب خرگوشوں کی دُمیں بہت لمبی ہوا کرتی تھیں۔مگرمچھوں کا بادشاہ وہاں نزدیک ہی تیر رہا تھا۔اس کی نظر خرگوش پر پڑی تو اُس کے منہ سے بے ساختہ نکلا:”اوں! کس قدر مزے کی شے اتنی نزدیک بیٹھی ہوئی ہے۔“ پھر وہ تیرتا ہوا ساحل کے پاس پہنچا اور خرگوش سے بولا:”صبح بخیر ننھے خرگوش!“
خرگوش نے اُسے دیکھا اور اہمیت نہ دیتے ہوئے بولا:”میں صرف ننھا خرگوش نہیں ہوں اور مجھے مخاطب کرنا ہے تو بادشاہ سلامت کہو۔
“ مگرمچھ کی ہنسی نکل گئی وہ طنزاً بولا:”بادشاہ سلامت! تم بادشاہ سلامت کیسے ہو گئے یہ خطاب تو مجھ جیسے بہادروں پر جچتا ہے۔“
خرگوش اکڑتے ہوئے کہنے لگا:”میں بھی بادشاہ ہوں۔“
حالانکہ وہ سبزیوں کو کیاریوں سے چوری کرنے والے خرگوش کا بیٹا تھا۔وہ کہنے لگا:”مجھ سے عزت کے ساتھ بات کرو۔میری رعایا میں خرگوش تم مگرمچھوں سے کہیں زیادہ ہیں۔
مگرمچھ غصے سے دانت کچکچاتے ہوئے بولا:”یہ سچ نہیں ہو سکتا۔اس جزیرے سے لے کر جہاں تک اتنی تعداد میں مگرمچھ ہیں جو پوری دنیا میں پائے جانے والے خرگوشوں سے زیادہ ہیں۔“
خرگوش حیرانی سے بولا:”اگر واقعی ایسا ہے تو ان سے کہو کہ پانی سے سر باہر نکالیں۔میں ان کو دیکھنا چاہتا ہوں۔“
مگرمچھوں کے بادشاہ نے اپنی دُم سے پانی میں تیز تیز چھپاکے مارنے شروع کر دیے۔
یہ مگرمچھوں کو بلانے کا طریقہ تھا اور اتنی دیر میں تو کوئی دانتوں کا ڈاکٹر کسی مریض کی دُکھتی داڑھ نہیں نکال سکتا، جتنی جلدی مگرمچھ دانت نکالے ہوئےجزیرے اور شہر کے ساحل کے درمیان اکٹھے ہو گئے۔دور دور تک اب سمندر کے پانی کی ایک بوند بھی دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ہر طرف مگرمچھ ہی مگرمچھ دکھائی دیتے تھے۔خرگوش نے یہ نظارہ دیکھا تو دوبارہ زیادہ اعتماد سے بولا:”میں اب بھی اسی بات پر قائم ہوں کہ دنیا میں مگرمچھوں سے زیادہ خرگوش ہیں۔
“ مگرمچھوں کا بادشاہ کہنے لگا:”یہ ناممکن ہے۔“
مگرمچھ کی بات سن کر خرگوش بولا:”تو اس بات کا فیصلہ صرف ایک طریقے سے ہو سکتا ہے کہ میں ان مگرمچھوں کی گنتی کر لوں۔جب ہی اندازہ ہو سکتا ہے کہ کون جیتا ہے؟“
مگرمچھ بولا:”تو جلدی گنتی شروع کرو، میں تو اس بے کار کی بحث سے تنگ آ گیا ہوں۔“
خرگوش نے مگرمچھوں کے بادشاہ کو مشورہ دیتے ہوئے کہا:”میں یہ گنتی تبھی جلدی کر سکتا ہوں اگر یہ مگرمچھ ساتھ ساتھ لیٹ کر قطار بنا لیں اور اس سے یہ فائدہ بھی ہو گا کہ کوئی مگرمچھ گنتی سے رہ نہیں جائے گا۔
“
مگرمچھ نے اپنی رعایا کو حکم دیا تو وہ قطار بنا کر ساتھ ساتھ لیٹ گئے۔اب جزیرے سے لے کر شہر تک مگرمچھ ہی مگرمچھ لیٹے ہوئے تھے۔خرگوش اب اُن کی کمروں پر سے پُھدکتا ہوا جا رہا تھا اور گنتی بھی کر رہا تھا۔ایک․․․․․ دو․․․․․ تین․․․․․اور اس سے پہلے کہ مگرمچھوں کے بادشاہ کو اندازہ ہوا کہ اُس کے ساتھ دھوکہ ہوا ہے۔خرگوش شہر کے ساحل پر محفوظ طریقے سے اُتر چکا تھا۔
مگرمچھ کی سمجھ میں جب اُس کی چالاکی آ گئی تو غصے سے بولا:”تم ہر گز بادشاہ نہیں ہو سکتے؟“
خرگوش شوخی سے بولا:”ہر گز نہیں۔لیکن میں تم سے زیادہ عقل مند ہوں۔میں تمہارا شکر گزار ہوں کہ تم نے مجھے بادشاہوں کی طرح اپنے مگرمچھوں کے بنائے ہوئے پُل سے گزارا۔“
مگرمچھ یہ سن کر خرگوش پر جھپٹا، لیکن اُس کے منہ میں صرف خرگوش کی لمبی دُم ہی آ سکی اور وہ کٹ کر چھوٹی رہ گئی۔خرگوش ہنسا اور شہر کی تاریخی عمارتیں دیکھنے چلا گیا۔تب سے اب تک خرگوشوں کی دُم ہمیشہ چھوٹی ہی ہوتی ہے۔
