دو لکڑہارے

دو لکڑہارے

ایک قصبے میں ہر سال لکڑیاں کاٹنے کا مقابلہ ہوتا تھا۔ مقابلے کا سادہ سا اصول یہ تھا کہ جو دن کے آخر میں سب سے زیادہ لکڑیاں کاٹے گا وہی فاتح ہوگا۔

اس سال فائنل میں صرف دو لوگ پہنچے ۔ ایک بوڑھا اور تجربہ کار لکڑہارا ،اور دوسرا ایک مضبوط نوجوان۔

نوجوان بڑا پُر جوش تھا ۔ مقابلہ شروع ہوتے ہی وہ جنگل میں چلا گیا اور فوراً لکڑیاں کاٹنے لگا۔ بوڑھا لکڑہارا جنگل کی دوسری سمت میں گیا اور سکون سے اپنا کام شروع کر دیا۔

مقابلے کے دوران نوجوان لکڑہارے کو محسوس ہوا کہ جنگل کے دوسری طرف وقفے وقفے سے بوڑھے آدمی کے لکڑیاں کاٹنے کی آوازیں بند ہو جاتی ہیں۔

نوجوان نے اندازہ لگایا کہ بوڑھا لکڑہارا اپنی تھکاوٹ دور کرنے کے لیے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آرام کر رہا تھا۔ نوجوان نے اس موقع کو غنیمت جانا اور زیادہ تیزی سے لکڑیاں کاٹنے لگا۔

مقابلہ ختم ہونے پر نوجوان نے پُراعتماد نظروں سے اپنی کاٹی ہوئی لکڑیوں کے ڈھیر کی طرف دیکھا۔اُسے یقین تھا کہ وہ مقابلہ جیت جائے گا کیونکہ اس نے بوڑھے لکڑہارے کی طرح آرام نہیں کیا اور بغیر کسی وقفے کےلکڑیاں کاٹتا رہا۔

جب نتیجہ کا اعلان ہوا تو اُس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ بوڑھا لکڑہارا مقابلہ جیت چکا تھا۔وہ نوجوان کے مقابلے میں کم تھکا ہوا بھی نظرآ رہا تھا۔

نوجوان نے تعجّب سے پوچھا، “یہ کیسے ممکن ہے؟ آپ وقفے وقفے سے آرام کرتے رہے ، پھر بھی مقابلہ جیت گئے۔”

بوڑھے آدمی نے بڑے سکون سے جواب دیا، “ہاں، میں ہر گھنٹے کے بعد آرام کرتا تھا، لیکن میں صرف آرام نہیں کرتا تھا بلکہ اپنے اوزاروں کو تیز بھی کرتا تھا۔”

تو سبق یہ ملا کہ اکثر اوقات ہم اپنی زندگی کے کاموں میں اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ ہم بھول جاتے ہیں کہ ہمیں تھوڑا رُکنے ، خود کو آرام دینے اور اپنی مہارتوں کو بہتر بنانے کی ضرورت ہوتی ہے.

Leave a Reply

NZ's Corner