پرانے وقتوں کی بات ہے، ایک ملک پر ایک بہت رحم دل اور عقلمند بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ اپنی رعایا کا بہت خیال رکھتا تھا، لیکن اس کی ایک عجیب عادت تھی؛
وہ ہر سال اپنے وزیروں اور مشیروں کا امتحان لیتا تھا تاکہ یہ جان سکے کہ کون سب سے زیادہ دانا ہے۔ایک دن بادشاہ نے اپنے دربار میں ایک بڑا اور خوبصورت پیاسہ کوا (کرافٹڈ) لٹکایا اور اپنے تین سب سے خاص وزیروں کو بلایا۔
بادشاہ نے ان کے سامنے ایک عجیب سوال رکھا:”
مجھے یہ بتاؤ کہ دنیا میں سب سے بڑا سچ اور سب سے بڑا جھوٹ کیا ہے؟”بادشاہ نے انہیں سوچنے کے لیے تین دن کی مہلت دی۔
پہلے وزیر کا جواب: تین دن بعد پہلا وزیر آیا اور بولا، “عالی جاہ! دنیا کا سب سے بڑا سچ ‘موت’ ہے جس سے کوئی نہیں بھاگ سکتا، اور سب سے بڑا جھوٹ ‘دنیا کی زندگی’ ہے جو ایک دن ختم ہو جائے گی۔” بادشاہ مسکرایا لیکن خاموش رہا۔
دوسرے وزیر کا جواب: دوسرا وزیر آگے بڑھا اور کہنے لگا، “بادشاہ سلامت! سب سے بڑا سچ ‘اللہ کی ذات’ ہے اور سب سے بڑا جھوٹ ‘انسان کی طاقت’ ہے جو وقت کے ساتھ ڈھل جاتی ہے۔” بادشاہ نے اس کا جواب بھی سنا اور سر ہلا دیا۔
تیسرے دانا وزیر کا جواب: تیسرا وزیر، جو اپنی ذہانت کے لیے مشہور تھا، مسکرایا اور کہنے لگا، “جہانپناہ! میری نظر میں دنیا کا سب سے بڑا سچ انسان کا اچھا وقت ہے، جب وہ امیر ہوتا ہے تو سب اسے سچا اور اچھا کہتے ہیں چاہے وہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو۔ اور سب سے بڑا جھوٹ انسان کا برا وقت ہے، جب انسان کتنا ہی سچا اور ایماندار کیوں نہ ہو، غربت اور برے وقت میں دنیا اس کے سچ کو بھی جھوٹ سمجھتی ہے۔”
بادشاہ تیسرے وزیر کا جواب سن کر بہت خوش ہوا۔
اس نے دیکھا کہ تیسرے وزیر نے کتابی باتوں کے بجائے انسانی معاشرے اور دنیا کی تلخ حقیقت کو بیان کیا تھا۔ بادشاہ نے اس وزیر کو اپنا سب سے بڑا مشیر مقرر کیا اور اسے بھاری انعام و اکرام سے نوازا۔
کہانی کا سبق: یہ پرانی کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ دنیا اکثر انسان کے حالات دیکھ کر اس کے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرتی ہے، اس لیے ہمیں ظاہری حالات کے بجائے انسان کے کردار کو دیکھنا چاہیے۔
اگر کہانی اچھی لگے تو شئیر کردینا
