سہارا

سہارا

بہت پرانے زمانے کی بات ہے۔ ایک عظیم بادشاہ تھا جس کی بہادری کے چرچے دور دور تک تھے۔ اس کی سلطنت روز بروز پھیلتی جا رہی تھی۔ ایک روز اس نے اپنی ریاست سے ملحق ایک نہایت خوبصورت، سرسبز اور خوشحال علاقہ فتح کیا۔ وہ علاقہ اتنا قیمتی تھا کہ بادشاہ نے سوچا، “یہ میرے بڑے شہزادے کے لیے بہترین تحفہ ہوگا۔”

چنانچہ اس نے وہ علاقہ اپنے شہزادے کے سپرد کر دیا اور اسے وہاں کا حاکم مقرر کر دیا۔
مگر چند ہی مہینے گزرے تھے کہ ہمسایہ ریاست نے حملہ کر دیا۔ شہزادہ میدانِ جنگ میں زیادہ دیر نہ ٹھہر سکا۔ اس نے جان بچانے ہی میں عافیت سمجھی اور دارالحکومت واپس آ گیا۔

بادشاہ نے خود لشکر لے کر دوبارہ وہ علاقہ فتح کر لیا۔
کچھ عرصے بعد اس نے پھر وہی علاقہ شہزادے کے حوالے کر دیا۔
لیکن تاریخ خود کو دہرا گئی۔
دوبارہ حملہ ہوا، اور شہزادہ پھر سب کچھ چھوڑ کر واپس بھاگ آیا۔

یہ سلسلہ کئی بار دہرایا گیا۔
ہر بار بادشاہ اپنی تلوار سے علاقہ واپس لیتا، اور ہر بار شہزادہ اسے چند ہی دنوں میں گنوا دیتا۔
آخر ایک دن بادشاہ پریشان ہو کر اپنے دانا وزیر سے بولا:
“میں نے دشمن کو ہر بار شکست دی، مگر میرا بیٹا ہر بار شکست کھا جاتا ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟”
وزیر نے ادب سے عرض کیا:
“حضور! اگر اجازت ہو تو اس بار ایک مختلف طریقہ آزمایا جائے۔”
بادشاہ نے سر ہلایا۔
وزیر نے کہا:
“اگر اس بار علاقہ ہاتھ سے نکل گیا تو آپ ہرگز لشکر لے کر اسے واپس لینے نہ جائیں۔ شہزادے کو خود ہی اس کا فیصلہ کرنے دیں۔”
بادشاہ نے دل پر پتھر رکھ کر وزیر کی بات مان لی۔
چند ماہ بعد پھر حملہ ہوا۔
اس بار بھی دشمن پہلے کی طرح پوری قوت سے آیا۔
اور شہزادہ ہمیشہ کی طرح واپس بھاگ آیا تو اس بار بادشاہ نے اسث ہی بھیج دیا، دوبارہ فتح کرنے کے لیے۔
شہزادہ میدان جنگ میں چند لمحوں کے لیے گھبرا گیا، مگر پھر اچانک اس کے ذہن میں ایک خیال آیا۔
“اگر آج میں بھاگ گیا تو اس بار میرے لیے کوئی نہیں آئے گا۔ نہ میرا باپ، نہ اس کا لشکر۔ اگر سلطنت بچانی ہے تو مجھے ہی لڑنا ہوگا، اور اگر مرنا ہے تو بھی میدان میں مرنا ہوگا۔”
یہ سوچتے ہی اس کے اندر جیسے ایک نئی جان آ گئی۔
اس نے فوج کی صفوں میں خود کھڑے ہو کر سپاہیوں کا حوصلہ بلند کیا۔
جنگ کئی دن جاری رہی۔
آخرکار دشمن شکست کھا کر واپس لوٹ گیا۔
اس دن کے بعد وہ علاقہ کبھی دوبارہ اس کے ہاتھ سے نہ نکلا۔
جب بادشاہ کو یہ خبر ملی تو اس نے وزیر کو دربار میں بلایا اور مسکرا کر پوچھا:
“آخر وہ کون سی حکمت تھی جس نے میرے بیٹے کو بدل دیا؟”
وزیر نے عرض کیا:
“حضور! پہلے شہزادے کے دل میں ایک سہارا موجود تھا۔ وہ جانتا تھا کہ اگر میں ہار بھی گیا تو میرے والد دوبارہ آ کر سب کچھ واپس لے لیں گے۔ اسی لیے وہ ہر بار جان بچانے کو ترجیح دیتا تھا۔”

“مگر جب اسے یقین ہو گیا کہ اب اس کے پیچھے کوئی نہیں آئے گا، تب اسے اپنی تلوار پر بھروسہ کرنا پڑا۔ اسی دن وہ شہزادہ نہیں، ایک حقیقی سپہ سالار بن گیا۔”
بادشاہ خاموشی سے وزیر کی بات سنتا رہا، پھر آہستہ سے بولا:
“بعض اوقات ضرورت سے زیادہ سہارا انسان کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتا ہے۔”

اخلاقی سبق:

ضرورت سے زیادہ سہارے انسان کی ہمت چھین لیتے ہیں۔ جب تک ہمیں یقین ہوتا ہے کہ کوئی اور ہماری لڑائی لڑ لے گا، ہم اپنی پوری طاقت استعمال نہیں کرتے۔ لیکن جس دن انسان کو احساس ہو جائے کہ اب اسے خود ہی کھڑا ہونا ہے، اسی دن اس کے اندر چھپی ہوئی قوت، ہمت اور صلاحیت بیدار ہو جاتی ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner