ایک شہر کی بلی تھی۔ عمر بھر اس نے گلیوں، محلّوں اور صحنوں میں زندگی گزاری تھی۔ اس کے دن بڑے مزے سے گزرتے تھے۔ کہیں دودھ کا پیالہ مل جاتا، کہیں روٹی کا ٹکڑا، اور اگر قسمت زیادہ مہربان ہوتی تو کوئی موٹا تازہ چوہا بھی ہاتھ آ جاتا۔
مگر ایک دن شہر بھر میں عجیب مصیبت آ گئی۔
چوہے جیسے زمین کھا گئی ہو۔
نہ کسی گودام میں آواز، نہ کسی دیوار کے سوراخ میں جنبش، نہ رات کے اندھیرے میں دوڑتے قدموں کی چاپ۔
بلی پریشان ہو گئی۔
پہلے ایک دن انتظار کیا، پھر دوسرا، پھر تیسرا۔
آخر اس نے سوچا:
“اگر رزق شہر میں ختم ہو گیا ہے تو کیوں نہ جنگل کا رخ کیا جائے؟ سنا ہے وہاں چوہوں کی بھرمار ہے۔”
یہ سوچ کر وہ جنگل کی طرف چل پڑی۔ جنگل پہنچ کر اس کی آنکھیں خوشی سے پھیل گئیں۔
واقعی چوہے ہی چوہے تھے۔
جھاڑیوں میں، درختوں کی جڑوں کے پاس، پتھروں کے درمیان، ہر طرف چوہے دوڑ رہے تھے۔
بلی نے دل ہی دل میں سوچا:
“بس! اب تو عیش ہی عیش ہے۔”
اس نے ایک چوہے پر جھپٹا۔
مگر چوہا ہوا کی طرح نکل گیا۔ اس نے دوسرے کا پیچھا کیا۔
وہ بھی آنکھ جھپکنے میں غائب۔
تیسرے کے پیچھے دوڑی، وہ بھی ہاتھ نہ آیا۔ یوں ایک دن گزرا۔
پھر دوسرا۔
پھر تیسرا۔
پھر پورا ہفتہ۔
مگر نتیجہ وہی۔
چوہے نظر بہت آتے تھے، مگر پکڑ میں ایک بھی نہیں آتا تھا۔
جنگلی چوہے شہر کے چوہوں جیسے نرم مزاج اور سست نہیں تھے۔
وہ ہر وقت چوکس رہتے تھے۔
ذرا سی آہٹ سنتے اور بجلی کی طرح غائب ہو جاتے۔
اب حالت یہ تھی کہ بلی صبح سے شام تک دوڑتی رہتی، دھول پھانکتی رہتی، مگر پیٹ خالی کا خالی رہتا۔
چند دن بعد اس کا غرور بھی ٹوٹ گیا اور سانس بھی پھولنے لگی۔
چنانچہ تھک ہار کر اس نے واپس شہر جانے کا فیصلہ کر لیا۔ کم از کم وہاں روٹی اور دودھ تو مل جاتا تھا۔
چند دن بعد اس کی ملاقات ایک پرانی بلی سے ہوئی۔
اس نے حیرت سے پوچھا:
“ارے بہن! سنا تھا تم جنگل گئی ہو۔ وہاں تو چوہوں کی بھرمار ہے۔ پھر واپس کیوں آ گئی؟”
شہری بلی نے فوراً اپنی مونچھیں سنواریں اور بڑے وقار سے بولی:
“کیا بتاؤں! وہاں تو اتنے چوہے تھے کہ ایک دن میں پچاس پچاس کھانے کو ملتے تھے۔ بڑے مزے تھے۔”
دوسری بلی نے حیران ہو کر کہا: “اگر اتنے مزے تھے تو پھر واپس کیوں آ گئی؟”
بلی نے ایک لمبی آہ بھری، گردن جھکائی اور نہایت سنجیدگی سے بولی:
“تم لوگ نہیں تھے نا وہاں، اس لیے میرا دل نہیں لگ رہا تھا۔”
یہ سن کر دوسری بلی ایک لمحے کو خاموش ہو گئی، پھر جیسے اس کے اندر کچھ ٹوٹ سا گیا ہو، وہ آہستہ سے آگے بڑھی، اس کے سر پر اپنی ناک رکھی، اور بے اختیار اس کے گرد چکر کاٹتے ہوئے ہلکی ہلکی آواز میں میاؤں کرنے لگی، جیسے وہ اس کی اداسی کو اپنے وجود سے سمیٹ لینا چاہتی ہو۔
اخلاقی سبق:
“بعض لوگ کسی کام میں ناکام ہونے کے بعد اپنی نااہلی تسلیم کرنے کے بجائے ایسی جذباتی کہانی سنا دیتے ہیں کہ لوگ اصل سوال پوچھنا ہی بھول جاتے ہیں۔”
