پرانے زمانے کی بات ہے، ایک خوبصورت اور پرسکون گاؤں میں شیخ چلی نام کا ایک نوجوان رہتا تھا۔ شیخ چلی اپنی سادگی، معصومیت اور سب سے بڑھ کر اپنے خیالی پلاؤ پکانے کی عادت کی وجہ سے دور دور تک مشہور تھا۔ وہ اکثر دن کے اجالے میں ایسے خواب دیکھتا جن کا حقیقت سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہوتا تھا۔ کبھی وہ خود کو کسی سلطنت کا بادشاہ تصور کرتا تو کبھی دنیا کا سب سے بڑا تاجر۔ لیکن حقیقت یہ تھی کہ اس کے پاس پہننے کو ایک پھٹا ہوا کُرتا، سر پر ایک پرانی پگڑی اور ایک وفادار گدھا تھا، جسے وہ پیار سے “مفتوں” کہتا تھا۔
مفتوں کوئی عام گدھا نہیں تھا۔ وہ شیخ چلی کی ہر بات نہ صرف سمجھتا تھا بلکہ اکثر اس کی حماقتوں پر اپنی لمبی لمبی زبان ہلا کر یا زور سے ہینگ کر اپنا احتجاج بھی ریکارڈ کرواتا تھا۔ گاؤں کے لوگ شیخ چلی اور مفتوں کی جوڑی کو دیکھ کر ہنستے تھے، کیونکہ جہاں شیخ چلی اپنے خیالات کی دنیا میں گم آگے کی طرف اشارہ کر رہا ہوتا، وہاں مفتوں بے چارہ سر جھکائے اس کے پیچھے چل رہا ہوتا تھا۔
ایک دن، شیخ چلی گاؤں کے چوک پر بیٹھا ہوا تھا کہ اس کے ذہن میں ایک زبردست کاروباری منصوبہ آیا۔ اس نے سوچا:
“اگر میں اپنے اس گدھے پر دنیا کی سب سے انوکھی چیزیں لاد کر شہر لے جاؤں، تو وہاں کا امیر ترین تاجر میری ان چیزوں کو دیکھ کر دنگ رہ جائے گا اور مجھے منہ مانگی قیمت دے گا۔ پھر میں ایک بہت بڑا محل بناؤں گا، ریشمی لباس پہنوں گا اور پورا دن آرام کروں گا!”
اس خیالی منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے شیخ چلی نے فوراً تیاری شروع کر دی۔ اس نے اپنے گھر اور آس پاس سے تمام “فنی اور عجیب و غریب” چیزیں جمع کرنا شروع کر دیں۔
اگلی صبح جب سورج کی پہلی کرن نمودار ہوئی، تو شیخ چلی نے مفتوں کو تیار کیا۔ لیکن اس بار مفتوں پر صرف روایتی بوریاں نہیں تھیں، بلکہ شیخ چلی نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بے دریغ استعمال کیا تھا۔
سب سے پہلے اس نے گدھے کی پیٹھ پر مٹی کے بڑے بڑے مٹکے باندھے، جن میں اس کے بقول “خالص ہوا” بھری ہوئی تھی جو شہر کے امیروں کے دماغ کو تروتازہ کرے گی۔ ان مٹکوں کے اوپر اس نے ایک لکڑی کی سیڑھی الٹی کر کے باندھ دی، تاکہ اگر راستے میں آسمان تک پہنچنا ہو تو سیڑھی کام آ سکے۔ اس سیڑھی پر اس نے ایک پنجرہ لٹکایا جس میں ایک چڑیال (توطا) بند تھا، اور سب سے حیران کن بات یہ تھی کہ اس نے اپنی پالتو بکری کو بھی اس سیڑھی کے اوپر کھڑا کر دیا۔ بکری بے چاری حیرت سے کبھی شیخ چلی کو دیکھتی تو کبھی نیچے موجود گدھے کو۔
بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ راستے میں شیخ چلی کو ایک شرارتی بندر ملا، جو اس کے مٹکوں پر لٹک گیا اور پنجرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے لگا۔ شیخ چلی نے اسے بھگانے کی بجائے سوچا، “واہ! شہر کے لوگ اس بندر اور بکری کی دوستی دیکھ کر تالیاں بجائیں گے، یہ بھی میرے سامان کا حصہ ہے!”
جب یہ انوکھا قافلہ گاؤں کی گلیوں سے گزرا، تو بچے، بوڑھے اور خواتین سب اپنے گھروں سے باہر نکل آئے۔ لوگ حیرت اور ہنسی کے ملے جلے جذبات کے ساتھ شیخ چلی کو دیکھ رہے تھے۔ ایک بچہ تالیاں بجا کر ہنس رہا تھا، جبکہ ایک بزرگ اپنی داڑھی پر ہاتھ رکھے سوچ رہے تھے کہ اس شخص کی عقل کو کیا ہو گیا ہے۔
شیخ چلی نے فخر سے اپنے ہاتھ سے آگے کا راستہ دکھاتے ہوئے بلند آواز میں کہا، “دیکھتے جاؤ بھائیو! آج یہ شیخ چلی تاریخ رقم کرنے جا رہا ہے!”
مفتوں نے ایک گہری سانس لی، گویا وہ کہہ رہا ہو، “یا اللہ! مجھے اس پاگل کے چنگل سے بچا لے!” اور یوں، یہ سفر شروع ہو گیا۔
باب سوم: پراسرار جنگل اور پہلا سسپنس
گاؤں کی حدود ختم ہوتے ہی ایک گھنا اور پرانا جنگل شروع ہوتا تھا، جس کے بارے میں طرح طرح کی کہانیاں مشہور تھیں۔ لوگ کہتے تھے کہ اس جنگل میں ایک قدیم خزانہ چھپا ہوا ہے، لیکن وہاں ایک جادوگر یا کوئی پراسرار سایہ رہتا ہے جو مسافروں کو گمراہ کر دیتا ہے۔
شیخ چلی چونکہ اپنی ہی دھن میں مگن تھا، اس لیے اسے کسی جادوگر یا سائے کا کوئی خوف نہیں تھا۔ وہ گدھے کے آگے آگے چل رہا تھا اور گنگنا رہا تھا۔ دوپہر کے وقت، جب دھوپ تیز ہو گئی، تو جنگل میں اچانک ایک عجیب سی خاموشی چھا گئی۔ پرندوں کی چہچہاہٹ بند ہو گئی اور ہوا سرد ہونے لگی۔
بندر جو اب تک مٹکوں پر اچھل کود کر رہا تھا، اچانک ڈر کر شیخ چلی کے کندھے پر چڑھ گیا۔ بکری نے بھی خوفزدہ ہو کر “میں میں” کرنا شروع کر دیا۔ مفتوں کے قدم زمین پر جم گئے اور اس نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔
“ارے مفتوں کے بچے! چل آگے، شہر ابھی بہت دور ہے!” شیخ چلی نے گدھے کی رسی کھینچتے ہوئے کہا۔
لیکن مفتوں اپنی جگہ سے نہ ہلا۔ اس کے کان کھڑے ہو چکے تھے اور وہ سامنے جھاڑیوں کی طرف دیکھ رہا تھا جہاں ایک کالا سایہ تیزی سے حرکت کر رہا تھا۔
اچانک جھاڑیوں میں سے ایک خوفناک، بھاری آواز گونجی:
“کون ہے جو میری حدود میں داخل ہونے کی جرات کر رہا ہے؟ اور یہ کیا عجیب و غریب مخلوق ہے جو گدھے پر بکری اور بندر لادے چلی آ رہی ہے؟”
شیخ چلی کا دل دھک سے رہ گیا، لیکن اس کی حماقت نے یہاں بھی اس کا ساتھ نہ چھوڑا۔ اس نے پگڑی سیدھی کی اور بولا، “میں ہوں شیخ چلی! اور یہ میرا شاہی قافلہ ہے۔ تم کون ہو اور چُھپ کر کیوں بات کر رہے ہو؟ سامنے آؤ!”
جھاڑیوں سے ایک لمبا چوڑا آدمی نمودار ہوا، جس نے سیاہ لباس پہنا ہوا تھا اور اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ وہ اس جنگل کا بدنام زمانہ چور “کالو ڈاکو” تھا، جو مسافروں کو ڈرا کر لوٹتا تھا۔ لیکن شیخ چلی کا انوکھا سامان دیکھ کر وہ خود چکرا گیا۔
کالو ڈاکو نے اپنی تلوار نکالی اور گرج کر کہا، “جو کچھ بھی مال و اسباب ہے، فوراً میرے حوالے کر دو، ورنہ میں تمہاری جان لے لوں گا!”
شیخ چلی نے مٹکوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے اطمینان سے کہا، “ارے بھائی ڈاکو! غصہ کیوں کرتے ہو؟ میرے پاس کوئی سونا چاندی تو نہیں ہے، لیکن اس سے بھی قیمتی چیز ہے۔ ان مٹکوں میں ‘الہامی ہوا’ بند ہے۔ جو بھی اسے سونگھتا ہے، اس کا دماغ کمپیوٹر سے تیز چلنے لگتا ہے۔ اور یہ جو اوپر بکری کھڑی ہے، یہ کوئی عام بکری نہیں، یہ مستقبل کا حال بتاتی ہے!”
کالو ڈاکو زندگی میں پہلی بار ایسے کسی بیوقوف انسان سے ملا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ شاید یہ واقعی کوئی جادوئی سامان ہے، کیونکہ کوئی بھی عام شخص گدھے پر اس طرح سیڑھی اور بکری لاد کر نہیں گھومتا۔
“اچھا؟ تو یہ بکری مستقبل بتاتی ہے؟” کالو ڈاکو نے تجسس سے پوچھا۔ “ذرا مجھے بتاؤ، میرا مستقبل کیا ہے؟”
شیخ چلی نے بکری کی دم ہلائی اور بولا، “ابھی بتاتی ہے۔” اسی لمحے، شرارتی بندر نے سیڑھی پر چڑھ کر مٹی کا ایک چھوٹا مٹکا اٹھایا اور کالو ڈاکو کے سر پر دے مارا۔ مٹکا ٹوٹ گیا اور اس میں سے دھول اڑنے لگی (جو دراصل شیخ چلی نے راستے کے لیے رکھی تھی)۔ کالو ڈاکو کو زور سے چھینکیں آنے لگیں اور وہ اندھا دھند تلوار چلانے لگا۔
مفتوں نے موقع پاتے ہی اپنی پچھلی دونوں ٹانگیں ہوا میں اٹھائیں اور کالو ڈاکو کے پیٹ پر زوردار دُلتی ماری۔ ڈاکو توازن کھو کر پیچھے گرا اور جھاڑیوں میں الٹا جا گرا۔
“بھاگو مفتوں!” شیخ چلی چلایا۔ اب گدھا، بکری، بندر اور شیخ چلی سب جنگل کی طرف تیزی سے بھاگ رہے تھے۔ یہ ایک انتہائی مضحکہ خیز منظر تھا، جہاں ایک ڈاکو چھینکتا رہ گیا اور ایک بیوقوف اپنے انوکھے جانوروں کی وجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو گیا۔
بھاگتے بھاگتے شام ہو گئی اور وہ جنگل کے وسط میں ایک گہری وادی میں پہنچ گئے۔ وہاں سامنے ایک پرانی، پراسرار غار دکھائی دی۔ جنگل میں اندھیرا پھیل رہا تھا اور بھیڑیوں کے رونے کی آوازیں آ رہی تھیں، اس لیے شیخ چلی نے فیصلہ کیا کہ رات غار کے اندر گزاری جائے۔
غار کے اندر گھپ اندھیرا تھا، لیکن جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے، غار کی دیواروں پر لگی پچی کاری چمکنے لگی۔ غار کے بالکل درمیان میں ایک پرانا صندوق رکھا ہوا تھا جس پر عجیب و غریب تالے لگے ہوئے تھے۔
“واہ! میرا خواب سچ ہو گیا! یہ تو خزانے کا صندوق ہے!” شیخ چلی خوشی سے اچھل پڑا۔
جوں ہی وہ صندوق کی طرف بڑھا، غار کے اندر ایک تیز ہوا چلی اور صندوق کے پیچھے سے ایک بوڑھا جادوگر نمودار ہوا، جس کی لمبی سفید داڑھی تھی اور ہاتھ میں ایک جادوئی چھڑی تھی۔
جادوگر نے غصے سے کہا، “تم نے اس غار میں قدم رکھ کر اپنی موت کو دعوت دی ہے۔ اس صندوق کو وہی کھول سکتا ہے جو تین پہیلیوں کے صحیح جواب دے گا، ورنہ تم سب پتھر کے بن جاؤ گے!”
شیخ چلی خوفزدہ تو ہوا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔ “ٹھیک ہے بابا! پوچھو اپنی پہیلیاں۔ میرا گدھا اور میں تمہارے ہر سوال کا جواب دیں گے۔”
جادوگر نے مسکرا کر اپنی پہلی پہیلی پوچھی:
“وہ کون سی چیز ہے جو جتنی زیادہ بڑھتی جائے، اتنی ہی کم دکھائی دیتی ہے؟”
شیخ چلی سوچ میں پڑ گیا۔ “شاید سڑک؟ یا پیٹ کا گھیرا؟”
اسی وقت غار کے باہر اندھیرا گہرا ہو گیا۔ مفتوں نے زور سے اپنی دُم ہلائی۔ شیخ چلی کا دماغ چمکا اور وہ بولا، “بابا! اس کا جواب ہے ‘اندھیرا’! کیونکہ جتنا اندھیرا بڑھتا ہے، چیزیں اتنی ہی کم دکھائی دیتی ہیں!”
جادوگر حیران رہ گیا۔ “صحیح جواب! اب دوسری پہیلی سنو:”
“وہ کون سا شہر ہے جسے کوئی بھی انسان خرید نہیں سکتا، لیکن وہاں ہر وقت بازار لگا رہتا ہے؟”
شیخ چلی نے بندر کی طرف دیکھا جو اپنے سر کو کھجا رہا تھا، اور پھر اپنے گدھے پر لدی ہوئی سیڑھی کو دیکھا۔ اچانک اسے یاد آیا کہ وہ بچپن میں ستاروں کو دیکھ کر کیا سوچتا تھا۔
“بابا! وہ ہے ‘آسمان کا شہر’ یا ‘خوابوں کا شہر’ جہاں ستاروں کا بازار لگتا ہے!”
جادوگر کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ “یہ بھی ٹھیک! اب آخری اور سب سے مشکل پہیلی، اگر اس کا جواب نہ دیا تو تم ہمیشہ کے لیے یہاں قید ہو جاؤ گے:”
“دنیا کا سب سے بڑا بیوقوف کون ہے، اور دنیا کا سب سے بڑا عقلمند کون ہے؟”
شیخ چلی تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو گیا۔ پھر اس نے اپنے گدھے مفتوں کو دیکھا، اپنے لادے ہوئے مٹکوں کو دیکھا، اور ہنس کر بولا:
“بابا! دنیا کا سب سے بڑا بیوقوف میں (شیخ چلی) ہوں، جو حقیقت کو چھوڑ کر صرف خوابوں کی دنیا میں جیتا ہے اور گدھے پر بکری لاد کر سفر کرتا ہے۔ اور دنیا کا سب سے بڑا عقلمند یہ میرا گدھا ‘مفتوں’ ہے، جو یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کا مالک بیوقوف ہے، وفاداری سے اس کا ساتھ نبھا رہا ہے اور خاموشی سے زندگی کا بوجھ اٹھائے آگے بڑھ رہا ہے!”
شیخ چلی کا یہ جواب سن کر جادوگر کے چہرے پر ایک نرم مسکراہٹ آ گئی۔ اس نے اپنی جادوئی چھڑی ہوا میں لہرائی، اور صندوق کا تالا خود بخود کھل گیا۔ لیکن اس صندوق میں سونا چاندی نہیں تھا، بلکہ اس میں چمکتی ہوئی کتابیں اور اناج کی بوریاں تھیں۔
جادوگر نے کہا، “اے شیخ چلی! تم بیوقوف نہیں، بلکہ ایک صاف دل انسان ہو۔ دنیا کا سب سے بڑا خزانہ ‘سچائی کا اعتراف’ اور ‘وفاداری’ ہے۔ تم نے اپنی خامیوں کو تسلیم کیا، یہی تمہاری سب سے بڑی عقل مندی ہے۔ یہ اناج اور علم کی کتابیں لے جاؤ، اپنے گاؤں کے لوگوں کی مدد کرو، اور خیالی دنیا سے باہر نکل کر محنت کی زندگی گزارو۔”
جیسے ہی جادوگر غائب ہوا، صبح کا سورج نکل آیا۔ غار کا راستہ سیدھا شہر کی طرف نکلتا تھا جہاں اب کوئی خوف نہیں تھا۔ شیخ چلی نے وہ اناج اور کتابیں اپنے گدھے پر لادیں، فالتو اور مضحکہ خیز چیزیں (سیڑھی، مٹکے) وہیں چھوڑ دیں، اور ایک بدلا ہوا انسان بن کر شہر کی طرف بڑھ گیا۔ اب اس کے چہرے پر حماقت کی نہیں، بلکہ سچی سمجھداری کی مسکراہٹ تھی۔
اس سفر نے اسے سکھا دیا تھا کہ زندگی خیالی پلاؤ پکانے سے نہیں، بلکہ حقیقی دنیا میں سچائی اور محنت کے ساتھ جینے سے بنتی ہے
