🌿 عقل، صبر اور حاضر دماغی کی خوبصورت مثال

🌿 عقل، صبر اور حاضر دماغی کی خوبصورت مثال

🌿

گاؤں میں خدا بخش نامی ایک کسان رہتا تھا۔ اس کا ایک چھوٹا سا مگر خوبصورت گھر تھا اور ساتھ ہی ایک باغ بھی تھا۔ باغ کے آخری کونے میں ایک بہت گہرا کنواں تھا، جہاں سے وہ بڑی مشقت سے پانی نکال کر اپنے پودوں کو سیراب کرتا تھا۔

ایک سال شدید قحط پڑ گیا۔ بارش بالکل نہ ہوئی، سورج آگ برسا رہا تھا اور زمین خشک ہو چکی تھی۔

خدا بخش نے اپنے مرجھاتے ہوئے پودوں کو دیکھا اور افسردہ ہو کر بولا:

“اگر پانی نہ ملا تو میرے سارے پودے مر جائیں گے… مگر پانی اب بہت نیچے جا چکا ہے۔ میں بوڑھا بھی ہوں اور کمزور بھی۔ آخر کیا کروں؟”

یہ سوچتے ہوئے وہ باغ کی دیوار کے قریب ایک درخت کے نیچے جا بیٹھا۔ اچانک اسے کھسر پھسر کی آواز سنائی دی۔ کوئی اس کا نام لے رہا تھا۔

اس نے خاموشی سے کان لگا کر سنا۔

دیوار کے دوسری طرف دو چور بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔

ایک بولا:

“خدا بخش اور اس کی بیوی روز ٹھیک نو بجے سو جاتے ہیں۔ ہم گیارہ بجے دیوار میں سوراخ کریں گے، میرا بیٹا اندر جا کر دروازہ کھول دے گا۔”

دوسرے نے پوچھا:

“کیا واقعی خدا بخش بہت امیر ہے؟”

پہلا بولا:

“ہاں! اس کے پاس سونا، روپیہ اور ہیرے جواہرات سے بھرا ایک صندوق ہے۔”

یہ سن کر خدا بخش خاموشی سے گھر واپس آ گیا۔

اس نے بیوی کو ساری بات بتائی، پھر اپنا اصل روپیہ اور زیورات محفوظ جگہ چھپا دیے۔ اس کے بعد گھر میں موجود چھوٹے بڑے پتھر جمع کیے اور انتظار کرنے لگا۔

رات نو بجے اس نے جان بوجھ کر بلند آواز میں بیوی سے کہا:

“آج کل بہت چوریاں ہو رہی ہیں۔ ہمیں اپنا سونا اور جواہرات کسی محفوظ جگہ چھپا دینے چاہئیں۔ ذرا صندوق لے آؤ!”

بیوی صندوق لے آئی۔

خدا بخش نے چپکے سے صندوق میں پتھر بھرنے شروع کیے اور بلند آواز میں کہتا رہا:

“پہلے سونے کی اینٹیں دو… اب ہیرے جواہرات دو…”

چور کھڑکی سے سب دیکھ رہے تھے اور یہی سمجھ رہے تھے کہ واقعی خزانہ صندوق میں رکھا جا رہا ہے۔

پھر خدا بخش اور اس کی بیوی صندوق اٹھا کر باغ کے کنویں تک لے گئے اور زور سے کنویں میں پھینک دیا۔

چھپاک!

صندوق پانی میں جا گرا۔

یہ دیکھ کر چور خوش ہو گئے۔

ایک بولا:

“بس! اب ہمیں صرف کنویں کا پانی نکالنا ہے۔ پانی کم ہوتے ہی صندوق نکال لیں گے۔”

چنانچہ دونوں پوری رات پانی نکالتے رہے۔

ایک پانی کھینچتا اور دوسرا اسے باغ کی نالیوں میں بہا دیتا۔

ساری رات محنت کرتے کرتے صبح ہو گئی، مگر وہ ابھی تک پانی نکال رہے تھے۔

اسی وقت خدا بخش نے کھڑکی کھولی اور زور سے آواز لگائی:

“بہت شکریہ میرے دوستو! تم نے میرا سارا باغ سیراب کر دیا۔ ویسے صندوق میں سونا نہیں، صرف پتھر ہیں… اور ہاں، پولیس بھی راستے میں ہے!”

یہ سنتے ہی چور گھبرا کر بھاگ کھڑے ہوئے۔

🌸 سبق:
عقل، صبر اور حاضر دماغی انسان کو بڑی سے بڑی مشکل سے نکال سکتی ہے۔
ہر مسئلے کا حل طاقت سے نہیں، کبھی دانائی اور حکمت سے بھی نکلتا ہے۔

مشکل وقت میں گھبرانے کے بجائے سوچ سمجھ کر قدم اٹھائیں۔ 🤍

اگر آپ کو یہ تحریر اچھی لگے تو مجھے فالو ضرور کریں۔

Leave a Reply

NZ's Corner