پرانا کنواں

پرانا کنواں

ایک گاؤں کے کنارے ایک پرانا کنواں تھا۔

سالوں پہلے پورا گاؤں اسی کنویں سے پانی لیتا تھا۔

مگر وقت کے ساتھ نلکے لگ گئے اور لوگ کنویں کو بھول گئے۔

کنواں ویران پڑا رہتا۔

صرف ایک بوڑھا آدمی، بابا رحمت، ہر ہفتے وہاں آتا۔

کنویں کی صفائی کرتا۔

اس کے اردگرد جھاڑیاں کاٹتا۔

اور پانی نکال کر دیکھتا کہ سب ٹھیک ہے یا نہیں۔

لوگ اسے دیکھ کر ہنستے۔

“بابا جی! اب اس کنویں کا زمانہ گیا۔”

“فضول محنت کیوں کرتے ہیں؟”

بابا رحمت مسکرا کر کہتے:

“بیٹا، ضرورت کبھی بتا کر نہیں آتی۔”

کسی کو ان کی بات سمجھ نہ آتی۔

وقت گزرتا گیا۔

پھر ایک سال شدید گرمی پڑی۔

بارشیں نہ ہوئیں۔

نلکوں کا پانی کم ہونے لگا۔

چند ہفتوں میں پورے گاؤں میں پانی کا بحران پیدا ہو گیا۔

لوگ پریشان ہو گئے۔

جانور پیاسے رہنے لگے۔

بچے پانی کے لیے ترسنے لگے۔

تب کسی کو پرانا کنواں یاد آیا۔

لوگ دوڑتے ہوئے وہاں پہنچے۔

حیرت کی بات یہ تھی کہ کنواں اب بھی صاف تھا۔

پانی ٹھنڈا اور وافر تھا۔

پورا گاؤں کئی ہفتوں تک اسی کنویں سے پانی لیتا رہا۔

ایک شام گاؤں کے بزرگ جمع ہوئے۔

انہوں نے بابا رحمت کو بلایا۔

اور سب کے سامنے کہا:

“آج اگر یہ کنواں زندہ ہے تو صرف آپ کی وجہ سے۔”

لوگوں کی آنکھیں جھک گئیں۔

جنہوں نے کبھی ان کا مذاق اڑایا تھا، آج وہی شکریہ ادا کر رہے تھے۔

بابا رحمت نے آسمان کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولے:

“جو چیز دوسروں کے کام آ سکتی ہو، اسے کبھی مت چھوڑو۔”

اس دن گاؤں والوں نے ایک بڑا سبق سیکھا۔

دانش مند لوگ صرف آج نہیں دیکھتے… وہ آنے والے کل کے لیے بھی سوچتے ہیں۔

Leave a Reply

NZ's Corner