ہسپانیہ کے ایک قدیم قصبے کی پتھریلی گلیوں میں ایک عجیب منظر اکثر لوگوں کی توجہ اپنی جانب کھینچ لیا کرتا تھا۔
ہر شام، جب سورج سرخ سنہری چادر اوڑھ کر پہاڑوں کے پیچھے اترنے لگتا اور فضا میں زیتون کے باغات کی مہک گھل جاتی، ایک درویش مزاج موسیقار اپنے گدھے پر سوار بازار سے گزرتا۔
اس کے ہاتھ میں ایک پرانا گٹار ہوتا، جس کے تاروں میں وقت کی دھول بھی بسی تھی اور خوابوں کی خوشبو بھی۔
وہ چلتے چلتے گٹار چھیڑتا، اور مدھم دھنیں گلیوں میں تیرنے لگتیں۔
اس روز بھی وہ حسبِ معمول گدھے پر بیٹھا گٹار بجا رہا تھا کہ چند راہگیر رک گئے۔
ایک نے حیرت سے کہا:
“دیکھو! گدھا گٹار بجا رہا ہے!”
لوگوں میں ہنسی کی لہر دوڑ گئی۔
موسیقار نے بجانا بند کیا، مسکرایا اور بولا:
“گدھا نہیں، میں گٹار بجا رہا ہوں۔”
ایک نوجوان نے چٹکی لی:
“اچھا! تو پھر گدھا کیا کر رہا ہے؟”
موسیقار نے محبت سے اپنے گدھے کی گردن تھپتھپائی اور کہا:
“یہ سن رہا ہے۔”
مجمعہ ایک بار پھر قہقہوں سے گونج اٹھا۔
“گدھا موسیقی سنتا ہے؟”
کسی نے طنزیہ انداز میں پوچھا۔
موسیقار نے سنجیدگی سے جواب دیا:
“جی ہاں۔ بلکہ یہ میرا سب سے وفادار سامع ہے۔”
لوگ مزید ہنسنے لگے۔
“تمہارا سب سے بڑا مداح ایک گدھا ہے؟”
موسیقار نے آسمان کی طرف دیکھا، پھر دھیرے سے بولا:
“اس میں برائی کیا ہے؟”
لوگ خاموش ہو گئے۔
وہ بولا:
“میں جب بھی اسے گٹار سناتا ہوں، یہ کبھی نہیں کہتا کہ دھن خراب ہے۔ کبھی یہ نہیں کہتا کہ آواز کم کرو۔ کبھی یہ نہیں پوچھتا کہ اس سے مجھے کیا فائدہ ہوگا۔”
اس نے مسکرا کر کہا:
“یہ بس خاموشی سے سنتا ہے۔”
ہجوم کے چہروں پر ہنسی اور حیرت ایک ساتھ اتر آئی۔
موسیقار نے بات جاری رکھی:
“عجیب بات ہے۔ تم لوگ میری موسیقی سننے کے بجائے مجھ پر ہنستے ہو، اور یہ گدھا میری موسیقی کو سمجھے یا نہ سمجھے، کم از کم دل لگا کر سنتا تو ہے۔”
یہ کہہ کر اس نے دوبارہ گٹار کے تار چھیڑے۔
ایک اداس مگر خوبصورت دھن فضا میں پھیل گئی۔
گدھا خاموشی سے چلتا رہا۔
لوگ ساکت کھڑے رہے۔
اس شام موسیقار قصبے سے نکل گیا۔
کہتے ہیں کہ اس کے بعد اس نے کبھی کسی انسان کے لیے گٹار نہیں بجایا۔
وہ اپنے گدھے کے ساتھ پہاڑوں، وادیوں اور سنسان راستوں میں گھومتا رہا، اور اپنی دھنیں صرف اس سامع کو سناتا رہا جو سننا جانتا تھا، فیصلہ سنانا نہیں۔
اور شاید اسی لیے اس کی موسیقی پہلے سے کہیں زیادہ سچی ہو گئی۔
سبق
دنیا میں بولنے والے بہت ہیں، سننے والے کم۔ بعض اوقات ایک خاموش سامع ہزار ناقدوں سے بہتر ہوتا ہے، کیونکہ تخلیق کو ہمیشہ تعریف نہیں، توجہ اور سماعت کی ضرورت ہوتی ہے۔
🎸🐴✨
اور ایک لطیف انداز میں:
“اگر دنیا تمہاری بات پر ہنسے اور ایک گدھا دل سے سنے، تو شاید مسئلہ گدھے میں نہیں، سامعین میں ہو!” 😄🌙🎶
