فرہاد

فرہاد

راوی کہتا ہے  جب زمین نئی تھی، جب پہاڑ ابھی اپنی جگہ تلاش کر رہے تھے، جب دریا اپنا راستہ بنانے میں تھے، اور جب پہلا انسان اس زمین پر قدم رکھنے والا تھا۔ اس وقت کسی کو علم نہیں تھا کہ انسان کیا ہے، اسے کیا ملے گا، اور وہ کیا کھو دے گا۔

اس زمین کے پہلے انسانوں میں ایک شخص جیسے  قیس کہا جاتا تھا۔ قیس کو اللہ تعالیٰ نے پوری زمین کا بادشاہ بنا دیا تھا، ہر پہاڑ، ہر دریا، ہر جنگل، ہر جانور، ہر پرندہ، ہر وہ چیز جو زمین پر تھی، سب قیس کی بادشاہت میں تھی۔ اس کے پاس اتنا کچھ تھا کہ ہزاروں سال خوشی سے گزار سکتا تھا۔ مگر قیس کا دل ٹھہرا نہیں۔

ایک چھوٹا سا حصہ تھا، زمین کے مشرقی کنارے پر، پہاڑی سلسلے کے پیچھے، جو قیس کی بادشاہت میں شامل نہیں تھا۔ یہ حصہ اللہ تعالیٰ نے کسی اور مخلوق کے لیے مخصوص کر رکھا تھا۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ مخلوق کیا تھی، شاید جنات، شاید فرشتے، شاید کوئی اور، مگر یہ واضح تھا کہ قیس کو اس حصے میں قدم رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔

یہ ایک خاموش معاہدہ تھا، انسان اور اس کے رب کے درمیان۔

قس کو پوری زمین پر بادشاہت ملی ہوئی تھی، اس کے پاس اتنا کچھ تھا کہ وہ کبھی بھی کسی چیز کی کمی محسوس نہ کر سکتا تھا، مگر اس کے دل میں ایک عجیب سی خلش پیدا ہو گئی۔ وہ دن رات سوچتا رہتا کہ “میرے پاس پوری زمین ہے، پھر وہ ایک چھوٹا سا ٹکڑا مجھ سے کیوں چھپا ہے؟” یہ سوال اس کے دل میں گھر کر گیا، اس کی نیند اڑ گئی، اس کی خوشیاں ماند پڑ گئیں، اور وہ بے چین ہو گیا۔

اس نے اپنے وزیر زربام کو بلایا جو اس کا سب سے قریبی ساتھی تھا، اور کہا کہ “زربام، مجھے اس چھوٹے سے حصے کو حاصل کرنا ہے۔” زربام نے کہا کہ “بادشاہ سلامت، آپ کے پاس پوری زمین ہے، کیا یہ ایک چھوٹا سا ٹکڑا اس سب کے مقابلے میں کوئی معنی رکھتا ہے؟” مگر قیس نے غصے سے کہا کہ “تم نہیں سمجھتے، زربام! جب تک وہ ٹکڑا میرا نہیں ہوگا، میری بادشاہت ادھوری ہے۔” زربام خاموش ہو گیا، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کے بادشاہ نے ایک ایسا راستہ اختیار کر لیا ہے جس کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔

قیس نے اپنی فوج جمع کی، ہزاروں سپاہی، ہزاروں گھوڑے، ہزاروں تیر اور تلوار۔ اس نے اپنے سپہ سالار کو حکم دیا کہ اس چھوٹے سے حصے پر حملہ کرو اور اسے میرے لیے فتح کرو۔ سپہ سالار نے کہا کہ “بادشاہ سلامت، یہ وہ جگہ ہے جہاں قدرت کا کوئی راز چھپا ہے، کیا آپ کو یقین ہے کہ یہ درست ہے؟” مگر قیس نے کہا کہ “میں بادشاہ ہوں، میرا حکم مانو۔”

فوج روانہ ہوئی، پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے اس چھوٹے سے حصے میں داخل ہوئی۔ اور پھر وہ ہوا جو ہونا تھا۔ قدرت نے اپنا انتظام کیا، آسمان سے آگ برسی، زمین پھٹی، ہواؤں نے طوفان اٹھایا، اور قیس کی پوری فوج تباہ ہو گئی۔ قیس خود بھی اس جنگ میں مارا گیا۔

قیس کی موت کے بعد زربام تخت پر بیٹھا، وہ پوری زمین کا بادشاہ تھا — سوائے اس ایک چھوٹے سے ٹکڑے کے۔ ابتدائی دنوں میں زربام خوش تھا، اسے لگا کہ اسے وہ سب کچھ مل گیا جو قیس کے پاس تھا۔ مگر پھر اس کے دل میں بھی وہی خلش پیدا ہوئی جو قیس کو کھا گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ “قیس نہ کر سکا، مگر میں کروں گا۔ میں اس چھوٹے سے حصے کو فتح کروں گا اور پوری زمین کا اکلوتا بادشاہ بنوں گا۔”

زربام نے فوج جمع کی، سپہ سالار کو حکم دیا، اور حملہ کر دیا۔ سپہ سالار نے کہا کہ “بادشاہ سلامت، قیس بھی یہی کرنا چاہتا تھا اور وہ تباہ ہو گیا، کیا آپ اس سے سبق نہیں لیتے؟” مگر زربام نے کہا کہ “میں قیس نہیں ہوں، میں زیادہ ہوشیار ہوں، زیادہ چالاک ہوں، میں کامیاب ہوں گا۔”

اس کی فوج پہاڑی سلسلے کو عبور کر کے اس جگہ میں داخل ہوئی، اور پھر وہی ہوا جو قیس کے ساتھ ہوا تھا۔ قدرت نے اپنا انتظام کیا، اور زربام کی فوج تباہ ہو گئی، زربام خود بھی مارا گیا۔

زربام کی موت کے بعد ایک اور بادشاہ آیا، فیروز۔ اس نے بھی وہی کہانی دہرائی۔ اسے پوری زمین کی بادشاہت ملی، مگر وہ اس ایک چھوٹے سے ٹکڑے کو بھول نہ سکا، اس نے بھی حملہ کیا، اور وہ بھی تباہ ہو گیا۔ پھر چوتھا آیا، پانچواں آیا، چھٹا آیا، ہر ایک نے وہی غلطی کی۔ ہر ایک کے پاس اتنا کچھ تھا کہ وہ خوشی سے رہ سکتا تھا، مگر ہر ایک نے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے پیچھے بھاگ کر اپنا سب کچھ کھو دیا۔

ساتویں بادشاہ کا نام تھا فرہاد۔ فرہاد پچھلے بادشاہوں کی کہانیوں کو جانتا تھا، اس نے اپنے وزیروں، مشیروں، مورخوں سے سب کچھ پوچھا، اور دیکھا کہ ہر بادشاہ کے پاس پوری زمین تھی، مگر وہ ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی وجہ سے تباہ ہو گیا۔ فرہاد نے ایک دن اپنے وزیر سے کہا کہ “مجھے ایک حکیم چاہیے، کوئی ایسا شخص جو مجھے بتائے کہ انسان کو کیا چیز تباہ کرتی ہے۔” وزیر نے ایک بوڑھے حکیم کا نام بتایا، دانش، جو جنگل کے کنارے ایک چھوٹی سی جھونپڑی میں رہتا تھا۔

فرہاد خود دانش کے پاس گیا اور کہا کہ “حکیم، میرے ساتھ چھ بادشاہ گزر چکے ہیں، ہر ایک کے پاس پوری زمین تھی، مگر ہر ایک ایک چھوٹے سے ٹکڑے کی وجہ سے تباہ ہو گیا، میں یہ سمجھنا چاہتا ہوں کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟” دانش نے ایک پیالہ پانی اٹھایا اور فرہاد کو دیا، کہا کہ “بادشاہ سلامت، یہ پیالہ دیکھیں، اس میں پانی بھرا ہے، کیا یہ پیالہ بھرا ہوا ہے؟” فرہاد نے کہا کہ “جی ہاں، یہ بھرا ہوا ہے۔” دانش نے پیالے میں ایک اور قطرہ پانی ڈالا — پیالہ چھلک گیا اور پانی بہہ گیا۔ دانش نے کہا کہ “بادشاہ سلامت، یہ پیالہ آپ کی سلطنت ہے، یہ پہلے سے بھرا ہوا ہے، مگر آپ ایک اور قطرہ ڈالنا چاہتے ہیں، جب پیالہ پہلے سے بھرا ہو تو ایک قطرہ بھی اسے چھلکا دیتا ہے اور سارا پانی بہہ جاتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ انسان کے پاس جتنا بھی ہو، وہ ہمیشہ اس سے زیادہ چاہتا ہے، جو اس کے پاس ہے وہ اسے نظر نہیں آتا، جو اس کے پاس نہیں وہ اسے ہر وقت کھائے جاتا ہے، یہی انسان کی سب سے بڑی کمزوری ہے۔”

فرہاد نے پوچھا کہ “تو پھر حل کیا ہے؟” دانش نے کہا کہ “حل یہ ہے کہ آپ اپنے پاس موجود چیزوں کو دیکھیں اور ان پر شکر کریں، جو آپ کے پاس نہیں اسے اللہ کی امانت سمجھیں، جب آپ شکر گزار ہوں گے تو آپ کا پیالہ کبھی نہیں چھلکے گا۔”

فرہاد واپس آیا اور اس نے اپنے دل میں فیصلہ کیا، وہ اس چھوٹے سے حصے کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس نے اپنی سلطنت کا سفر کیا، اس کی خوبصورتی کو دیکھا، اس کے لوگوں سے ملا، اور ہر روز شکر کیا۔ اس نے اپنے وزیروں سے کہا کہ “میں نے فیصلہ کر لیا ہے، وہ چھوٹا سا حصہ اللہ کی امانت ہے، میں اسے چھوڑ دوں گا۔” لوگوں نے فرہاد کی دانشمندی کی تعریف کی، اس کی سلطنت میں امن آیا، خوشحالی آئی، اور فرہاد لمبی عمر تک خوشی سے رہا۔

فرہاد کی موت کے بعد اس کا بیٹا فریبرز تخت پر بیٹھا، فریبرز نے اپنے باپ کی حکمت کو سنا تھا، مگر اس کے دل میں وہی خلش پیدا ہوئی جو قیس، زربام، فیروز اور باقیوں کو کھا گئی تھی۔ اس نے سوچا کہ “میرے باپ نے غلطی کی، وہ کمزور تھا، میں اس چھوٹے سے حصے کو فتح کروں گا اور ثابت کروں گا کہ میں سب سے بڑا بادشاہ ہوں۔” فریبرز نے حملہ کیا  اور وہ بھی تباہ ہو گیا۔ اور پھر وہی داستان دہرائی گئی، ہر بادشاہ نے وہی غلطی کی، ہر بادشاہ نے اپنا سب کچھ کھو دیا، اور ہر بادشاہ نے یہ ثابت کیا کہ انسان کا سب سے بڑا دشمن اس کی اپنی حرص ہے۔

صدیاں گزر گئیں، شہر آباد ہوئے، تہذیبیں آئیں اور گئیں، زبانیں بدلیں، رسمیں بدلیں، مگر انسان کی فطرت نہ بدلی۔ آج بھی انسان وہی ہے جو قیس تھا۔ آج بھی انسان کے پاس اتنا کچھ ہے، خاندان، صحت، دوست، رزق، سکون  مگر وہ ہمیشہ اس چیز کو دیکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں۔ وہ دوسروں کی کامیابی کو دیکھتا ہے اور جل جاتا ہے، دوسروں کی دولت کو دیکھتا ہے اور حسد کرتا ہے، دوسروں کی خوشی کو دیکھتا ہے اور سوچتا ہے کہ اسے کیوں نہیں ملی۔ اور اس طرح وہ اپنی زندگی کو جہنم بنا لیتا ہے۔

یہ کہانی ہمیں پانچ اہم سبق دیتی ہے۔ پہلا سبق یہ کہ جو تمہارے پاس ہے اس پر شکر کرو، یہی سکون کی کلید ہے۔ دوسرا سبق یہ کہ حرص انسان کو اس کا سب کچھ کھوا دیتی ہے۔ تیسرا سبق یہ کہ جو تمہارے پاس ہے اسے دیکھو، جو نہیں اس کے پیچھے مت بھاگو۔ چوتھا سبق یہ کہ قناعت وہ خزانہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ اور پانچواں سبق یہ کہ انسان ہمیشہ زیادہ چاہتا ہے، مگر یہی اس کی کمزوری ہے۔

کہتے ہیں کہ آج بھی اس پہاڑی سلسلے کے پیچھے وہ چھوٹا سا حصہ موجود ہے، کوئی اس میں نہیں گیا، کوئی اسے فتح نہیں کر سکا۔ مگر کہتے ہیں کہ اگر تم اس پہاڑی سلسلے کی چوٹی پر چڑھو اور وہاں سے اس حصے کو دیکھو تو تمہیں ایک عجیب سی خاموشی سنائی دے گی  جیسے کوئی تم سے کہہ رہا ہو کہ “تمہارے پاس اتنا کچھ ہے، پھر اس ایک ٹکڑے کے پیچھے کیوں بھاگتے ہو؟” اور جو شخص اس آواز کو سن لیتا ہے، وہ کبھی حرص کا شکار نہیں ہوتا۔

یہ کہانی صرف بادشاہوں کی نہیں ہے، یہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر انسان ایک سلطنت کا مالک ہے، اس کی اپنی زندگی، اس کا خاندان، اس کی صحت، اس کا رزق، اس کے دوست، اس کی یادیں۔ یہ سب اس کا حاصل ہے۔ مگر ہر انسان اس لاحاصل کو دیکھتا ہے، جو دوسروں کے پاس ہے، جو اس کے پاس نہیں، جو وہ حاصل کرنا چاہتا ہے مگر نہیں کر پاتا۔ اور یہی لاحاصل انسان کو کھا جاتا ہے۔

حکیم دانش نے فرہاد کو جو سبق دیا تھا، وہ آج بھی اتنا ہی سچا ہے  “جو تمہارے پاس ہے، اسے دیکھو، اس پر شکر کرو۔ جو تمہارے پاس نہیں، اسے اللہ کی امانت سمجھو۔ جب تم شکر گزار ہو گے تو تمہارا پیالہ کبھی نہیں چھلکے گا۔” یہی وہ کلید ہے جو انسان کو سکون دیتی ہے، یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو خوشی تک لے جاتا ہے۔

اور اس طرح یہ کہانی ختم ہوتی ہے  مگر اس کا سبق کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر دور میں کوئی نہ کوئی قیس پیدا ہوتا ہے، کوئی نہ کوئی زربام، کوئی نہ کوئی فیروز، کوئی نہ کوئی فریبرز۔ مگر بہت کم لوگ فرہاد بن پاتے ہیں۔ اور جو فرہاد بن جاتے ہیں، وہی اصل بادشاہ ہیں — کیونکہ انہوں نے اپنے دل کی سلطنت کو فتح کر لیا ہوتا ہے۔

Leave a Reply

NZ's Corner