فقیر کی حاصر جوابی اور چوروں کی لالچ!

فقیر کی حاصر جوابی اور چوروں کی لالچ!

کہتے ہیں کہ ایک گھنا جنگل تھا، جہاں درختوں کی شاخیں آسمان سے راز کی باتیں کرتی تھیں اور ہوا پتوں کے درمیان سرگوشیوں کی طرح بہتی تھی۔ اسی جنگل کے ایک سنسان گوشے میں ایک فقیر درخت کے نیچے آلتی پالتی مارے مراقبے میں بیٹھا تھا۔
اس کے چہرے پر ایسی طمانیت تھی جیسے دنیا کے تمام جھگڑے اور خواہشیں اس کے دل سے رخصت ہو چکی ہوں۔
اتنے میں تین چور وہاں آن پہنچے۔
ان کے کپڑے گرد آلود، آنکھیں لالچی اور نیت ایسی ٹیڑھی تھی جیسے بارش میں بھیگتی ہوئی بوسیدہ چھت۔
ایک چور آگے بڑھا اور غرایا:
“او فقیر! جو کچھ تیرے پاس ہے، نکال دے، ورنہ ابھی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے گا!”
فقیر نے آہستہ سے آنکھ کھولی، تینوں کو دیکھا اور بے فکری سے بولا:
“بھائیو! میرے پاس تو اپنی جان کے سوا کچھ بھی نہیں۔”
چوروں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور ہنس پڑے۔
“ہمیں بیوقوف سمجھتا ہے؟”
دوسرا چور بولا:
“یہ فقیر لوگ بڑے چالاک ہوتے ہیں۔ ضرور کہیں اشرفیاں گاڑ رکھی ہوں گی۔”
تیسرے نے فیصلہ سنایا:
“اسے درخت سے باندھ دو، پھر زمین کھودتے ہیں۔”
چنانچہ فقیر کو مضبوطی سے ایک درخت کے ساتھ باندھ دیا گیا اور تینوں بیلچوں اور کدالوں سے زمین کھودنے لگے۔
کبھی اِدھر، کبھی اُدھر۔
کبھی درخت کے نیچے، کبھی جھاڑیوں کے پاس۔
زمین کے سینے میں اتنے گڑھے پڑ گئے کہ جنگل کا وہ ٹکڑا کسی ناکام تعمیراتی منصوبے کا منظر پیش کرنے لگا۔
رات گزرتی گئی۔
چاند آسمان پر سفر کرتا رہا۔
چور پسینے میں نہاتے رہے۔
مگر اشرفی تو دور، ایک پھوٹی کوڑی بھی ہاتھ نہ آئی۔
آخر تھک ہار کر تینوں وہیں ڈھیر ہو گئے اور نیند کی آغوش میں چلے گئے۔
ادھر فقیر حسبِ عادت آنکھیں بند کیے خاموش بیٹھا رہا۔
صبح کی پہلی کرن نمودار ہوئی، پرندے چہچہانے لگے اور فقیر نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھولیں۔
اس نے حیرت سے اِدھر اُدھر دیکھا اور نہایت سنجیدگی سے پوچھا:
“بھائیو! ایک بات بتاؤ۔”
چور چونک کر اٹھ بیٹھے۔
“کیا؟”
فقیر نے کہا:
“وہ تین سو اشرفیاں جو میں نے کل رات یہاں دفن کی تھیں، تمہیں مل گئیں؟”
یہ سن کر تینوں کے ہوش اڑ گئے۔
“کیا؟ واقعی اشرفیاں تھیں؟”
“ہاں، تین سو پوری!”
چوروں کے چہروں کا رنگ فق ہو گیا۔
“مگر ہمیں تو کچھ نہیں ملا!”
فقیر نے گہری سانس لی اور افسوس بھرے لہجے میں کہا:
“ارے، یہ تو بڑی عجیب بات ہے!”
پھر رازدارانہ انداز میں بولا:
“شاید اس لیے کہ رات جب تم لوگ مجھے باندھ کر خود سو گئے تھے تو میں نے اشرفیاں نکال کر دوسری جگہ دفن کر دی تھیں۔”
اب تو چوروں کی آنکھوں میں لالچ کے چراغ جل اٹھے۔
“جلدی بتاؤ! کہاں دفن کی ہیں؟”
فقیر نے نہایت معصومیت سے جواب دیا:
“پہلے مجھے کھولو تو سہی۔”
چوروں نے ایک لمحہ ضائع کیے بغیر رسیاں کھول دیں۔
فقیر آزادی کے ساتھ کھڑا ہوا، اپنی چادر جھاڑی، کمر سیدھی کی اور پھر نہایت رعب دار آواز میں بولا:
“اب بھاگو!”
چور حیران رہ گئے۔
“کیوں؟”
فقیر نے مونچھوں پر ہاتھ پھیرنے کی ادا کرتے ہوئے کہا:
“اس لیے کہ اگر میں نے تمہیں پکڑ لیا تو تم تینوں کو بھی اسی درخت سے باندھ دوں گا جس سے تم نے مجھے باندھا تھا!”
یہ سنتے ہی تینوں ایسے بھاگے جیسے شکاری کی آواز سن کر ہرن دوڑ پڑتے ہیں۔
کچھ ہی لمحوں میں جنگل خالی تھا۔
فقیر دیر تک ان کی دوڑتی ہوئی پشتوں کو دیکھتا رہا، پھر بے اختیار ہنس پڑا۔
اتنا ہنسا کہ آنکھوں سے آنسو نکل آئے۔
کیونکہ حقیقت یہ تھی کہ نہ کوئی اشرفیاں تھیں، نہ کوئی خزانہ، نہ کوئی دفینہ
خزانہ اگر تھا تو صرف اس کی حاضر جوابی اور چوروں کی لالچ!
سبق
لالچ انسان کی عقل پر پردہ ڈال دیتی ہے، اور کبھی کبھی خالی جیب والا بھی بھرے خزانے والوں سے زیادہ چالاک نکل آتا ہے۔
اور ہاں، جس کے پاس کھونے کو کچھ نہ ہو، وہ اکثر سب سے مشکل حریف ثابت ہوتا ہے! 😄
#منقول


Leave a Reply

NZ's Corner