ایک قصبے میں ایک عجیب مقدمہ آیا۔ دو آدمی ایک ہی گدھے پر اپنا حق جتا رہے تھے۔
پہلا بولا:
“حضور! گدھا میرا ہے، میں نے پالا ہے۔”
دوسرا فوراً بولا:
“نہیں جناب! یہ میرا ہے، میں نے خریدا ہے۔”
قاضی صاحب نے دونوں کی لمبی بحث سنی، مگر فیصلہ نہ ہو سکا۔
آخر انہوں نے سپاہی سے کہا:
“گدھے کو درمیان میں چھوڑ دو، اور دونوں آدمی دور جا کر کھڑے ہو جائیں۔”
جیسے ہی گدھا آزاد ہوا، وہ آرام سے چلتا ہوا سیدھا ایک گھاس کے ڈھیر کے پاس جا کھڑا ہوا اور کھانے لگا۔
دونوں آدمی حیران!
قاضی صاحب نے مسکرا کر کہا:
“اب ایک ایک کرکے اسے آواز دو۔”
پہلے آدمی نے بڑے پیار سے پکارا:
“آ جا میرے لال!”
گدھے نے ایک بار بھی مڑ کر نہ دیکھا۔
دوسرے نے زور سے آواز لگائی:
“او بدماش! آج پھر کھیت میں گھس گیا تھا نا؟ ادھر آ!”
گدھا فوراً کان کھڑے کرکے دوڑتا ہوا اس کے پاس پہنچ گیا۔
قاضی صاحب نے ہتھوڑا میز پر مارا اور بولے:
“فیصلہ ہو گیا!”
پہلا آدمی گھبرا کر بولا:
“حضور! آپ کو کیسے یقین ہو گیا؟”
قاضی صاحب ہنس کر بولے:
“بھئی، جانور اپنے مالک کی محبت سے کم اور اس کی ڈانٹ سے زیادہ واقف ہوتا ہے!”
یہ سن کر عدالت میں زور دار قہقہہ گونج اٹھا، حتیٰ کہ پہلا دعویدار بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔
سبق:
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ سچائی اکثر دلیلوں سے نہیں بلکہ عمل اور حقیقت سے سامنے آتی ہے۔ عقل مند انسان فیصلہ کرتے وقت صرف باتوں پر نہیں بلکہ ثبوت اور حالات پر بھی نظر رکھتا ہے۔ حاضر دماغی، انصاف اور دانائی ہر مشکل معاملے کو آسان بنا سکتے ہیں، جبکہ جھوٹ زیادہ دیر تک حقیقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اور ہاں، مزاح کے ساتھ کہی گئی اچھی بات دل پر بھی جلد اثر کرتی ہے۔
