ایک کامیاب تاجر تھا۔ اس کے پاس دولت، شہرت اور آسائش کی ہر چیز موجود تھی۔ شہر کے لوگ اس کی کامیابی کی مثالیں دیا کرتے تھے۔ لیکن ایک چیز تھی جو اس کے پاس نہیں تھی: سکون۔
وہ راتوں کو جاگتا رہتا، بے چینی سے کروٹیں بدلتا اور ہمیشہ کسی نہ کسی خوف میں مبتلا رہتا۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں اس کی دولت کم نہ ہو جائے، کاروبار نقصان میں نہ چلا جائے یا لوگ اس سے آگے نہ نکل جائیں۔
ایک دن سفر کے دوران اس کی گاڑی خراب ہو گئی۔ قریب ہی ایک چھوٹا سا گاؤں تھا۔ وہ پیدل چلتے ہوئے ایک کچے گھر کے سامنے پہنچا جہاں ایک بوڑھا شخص چارپائی پر بیٹھا مسکرا رہا تھا۔
تاجر نے پانی مانگا۔ بوڑھے نے خوش دلی سے پانی پلایا اور کھانے کی دعوت بھی دی۔
کھانے کے بعد تاجر نے پوچھا، “آپ کے پاس نہ بڑی زمین ہے، نہ دولت، نہ نوکر۔ پھر بھی آپ اتنے مطمئن کیوں ہیں؟”
بوڑھا ہنس پڑا۔
“میں تمہیں ایک راز بتاتا ہوں۔”
اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹا سا پتھر نکالا اور کہا:
“جوانی میں میں بھی دولت کے پیچھے بھاگتا تھا۔ ایک دن ایک فقیر نے مجھے یہ پتھر دیا اور کہا کہ جب بھی کسی چیز کی خواہش کرو تو اس کی قیمت بھی سوچ لینا۔”
تاجر حیران ہوا۔
بوڑھا بولا:
“میں نے دولت چاہی، مگر اس کی قیمت وقت تھی۔ میں نے شہرت چاہی، اس کی قیمت سکون تھی۔ میں نے طاقت چاہی، اس کی قیمت تعلقات تھے۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ ہر چیز نہیں خریدنی۔”
پھر اس نے تاجر کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا:
“تم نے بہت کچھ حاصل کیا ہے، مگر ذرا سوچو، اس کی قیمت کیا دی ہے؟”
اس رات تاجر پہلی بار اپنے بارے میں سوچتا رہا۔
اسے یاد آیا کہ دولت کمانے کی دوڑ میں وہ اپنے والد کے آخری دنوں میں ان کے پاس نہ تھا۔ اس کے بچے بڑے ہو گئے تھے اور وہ ان کی یادوں میں کہیں موجود ہی نہیں تھا۔ اس کی بیوی اب اس سے صرف رسمی باتیں کرتی تھی۔
صبح جب وہ روانہ ہونے لگا تو اس نے بوڑھے سے پوچھا:
“زندگی کی سب سے قیمتی چیز کیا ہے؟”
بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا:
“وہ چیز جسے کھونے کے بعد دولت بھی واپس نہ لا سکے۔”
تاجر خاموش ہو گیا۔
اس دن کے بعد اس نے کاروبار نہیں چھوڑا، لیکن زندگی جینا سیکھ لیا۔ کیونکہ اسے سمجھ آ گیا تھا کہ کامیابی کی اصل قیمت پیسہ نہیں، بلکہ وہ چیزیں ہیں جو ہم راستے میں کھو دیتے ہیں۔
سبق:
زندگی میں ہر کامیابی کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ عقل مند وہ نہیں جو سب کچھ حاصل کر لے، بلکہ وہ ہے جو جانتا ہو کہ کس چیز کے لیے کیا قیمت ادا کرنی ہے۔
