لالچ بری بلا ہے

لالچ بری بلا ہے

نیچے دی گئی کہانی کا اخلاقی سبق بتائیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جنگل میں لکڑیاں کاٹتے ہوئے ایک غریب لکڑہارے کو درختوں کے جھنڈ میں کوئی چیز نظر آئی۔ قریب جا کر دیکھا تو وہ پتھر کا ایک بت تھا۔ لکڑہارے نے بت ہٹایا تو وہاں ایک چھوٹا سا سوراخ تھا۔ سوراخ کے اردگرد سے مٹی ہٹانے پر اسے ایک بہت بڑا خزانہ ملا۔ لکڑہارا اکیلا اتنا بڑا خزانہ نہیں اٹھا سکتا تھا، چنانچہ اسے ڈھانپ کر گھر کی طرف چل دیا۔
راستے میں اس کی ملاقات چھ اونٹوں والے ایک سوداگر سے ہوئی جو اپنا مال فروخت کر کے آ رہا تھا۔ لکڑہارے نے سوداگر سے کہا: “مجھے جنگل میں بہت بڑا خزانہ ملا ہے، میں تمہیں صرف ایک شرط پر وہاں لے جاؤں گا۔”
سوداگر نے بے صبری سے کہا: “جلدی بتاؤ، میں تمہاری ہر شرط ماننے کو تیار ہوں۔”
لکڑہارے نے کہا: “جتنے اونٹ خزانے سے بھرو گے، ان میں سے آدھے مجھے دینے ہوں گے۔” سوداگر فوراً مان گیا اور بولا: “منظور ہے، تم مجھے وہاں لے چلو۔”
لکڑہارا اسے جنگل لے گیا، خزانے کی جگہ دکھائی اور دونوں نے مل کر سارے اونٹوں پر خزانہ لاد دیا۔ وہاں سے ایک چھوٹی سی ڈبی میں قیمتی لعل بھی ملا جو لکڑہارے نے اپنی جیب میں رکھ لیا۔ حسبِ وعدہ سوداگر نے خزانے سے بھرے تین اونٹ لکڑہارے کے حوالے کر دیے۔
کچھ دور جا کر سوداگر کے دل میں لالچ آ گیا کہ خواہ مخواہ آدھا حصہ لکڑہارے کو دے دیا۔ اگر کم اونٹ بھی دیتا تو یہ مان جاتا۔ یہ سوچ کر اس نے کہا: “اے لکڑہارے! میں نے تمہیں آدھے اونٹ دے تو دیے ہیں، مگر تمہارے لیے دو اونٹ بھی کافی ہیں۔ اگر تم مجھے ایک اونٹ واپس کر دو تو بڑی مہربانی ہوگی۔”
لکڑہارے نے سادگی سے جواب دیا: “جناب! آپ ایک اونٹ لے سکتے ہیں، میرے لیے دو بھی کافی ہیں۔”
اونٹ ملنے پر سوداگر نے شکریہ ادا کیا مگر لالچ نے اسے چین نہ لینے دیا۔ تھوڑی دور جا کر وہ پھر بولا: “بابا جی! آپ تو درویش آدمی ہیں اور میں ٹھہرا دنیا دار۔ باقی دو اونٹ بھی مجھے دے دیں، میرے چھوٹے چھوٹے بچے آپ کو دعائیں دیں گے۔”
لکڑہارے نے پوچھا: “میرے بھائی! اگر میں نے تمہیں باقی دو اونٹ بھی دے دیے تو میرے پاس کیا رہ جائے گا؟”
سوداگر بولا: “میں آپ کو اس کے بدلے کچھ رقم دے دیتا ہوں، وہ آپ کے لیے کافی ہوگی۔” لکڑہارے نے وہ دو اونٹ بھی سوداگر کو دے دیے۔
سوداگر کا لالچ ابھی بھی ختم نہ ہوا تھا۔ اس نے سوچا کہ کیوں نہ جنگل میں بچا ہوا باقی خزانہ بھی حاصل کر لیا جائے۔ یہ سوچ کر وہ چھ کے چھ اونٹ اپنے نوکر کے حوالے کر کے دوبارہ جنگل کی طرف نکل گیا۔
کافی دیر تلاش کے باوجود اسے خزانہ نہ ملا۔ تھک ہار کر وہ ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہی تھا کہ ادھر سے ایک شیر آ نکلا۔ سوداگر نے بھاگنے کی کوشش کی مگر شیر نے ایک ہی چھلانگ میں اسے دبوچ لیا اور چیر پھاڑ دیا۔
یوں سوداگر کا لالچ اسے لے ڈوبا؛ جان بھی گئی اور مال و اسباب بھی یہیں دھرا رہ گیا۔

Leave a Reply

NZ's Corner