حکایت😅😅😅

حکایت😅😅😅

ماں اور بیٹے کے بیچ تکرار چل رہی تھی- ماں بیٹے کو بازار سے نئے موسمی آلو لانے کا کہ رہی تھی اور بیٹا سستی سے کبھی ایک کمرے میں جا چھپتا کبھی دوسرے میں جا پڑتا-

باپ رضائی میں لیٹا یہ تکرار سن رہا تھا- اسے اچھّا نہ لگا کہ اس کا جوان بیٹا اپنی ماں کی نافرمانی کرے-
اس نے رضائی پھینکی اور جا کر بیٹے سے کہا،
“میرے پچاس سالہ تجربات کا نچوڑ ہے کہ ماں کا نافرمان بیٹا دنیا میں بھی رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں تو اس کا ٹھکانہ دوزخ ہے ہی”

اس پر ماں نے بیٹے کو چھوڑا اور باپ پہ حملہ آور ہو گئی،
” دوزخ میں جائیں تیرے پچاس سالہ تجربات… کیا قصور ہے میرے بیٹے کا؟ کیوں جائے دوزخ میں…؟ تم کیوں نہیں چلے جاتے… آلو لینے؟”

باپ کان لپیٹ کر آلو کی تلاش میں نکل گیا اور اس کے پچاس سالہ تجربات میں آج دو نئے تجربات کا اضافہ ہو چکا تھا۔ اوّل یہ کہ ماں بیٹے کی تکرار میں گھسنا خواہ مخواہ آلو لینے والی بات ہے اور دوم یہ کہ ایک ماں بھلے کتنی ہی ناراض ہو، بیٹے کےلیے دوزخ کا لفظ نہیں سن سکتی-

Leave a Reply

NZ's Corner