ایک بادشاہ اپنے غلام کے ساتھ کشتی میں سفر کر رہا تھا۔ غلام نے نہ کبھی دریا دیکھا تھا اور نہ کبھی کشتی میں بیٹھا تھا۔ خوف کے مارے وہ کانپنے لگا اور رونے لگا۔
بادشاہ پریشان ہو گیا، مگر اسے خاموش کرانے کی کوئی تدبیر سمجھ نہ آئی۔ کشتی میں موجود ایک دانا شخص نے کہا:
“اگر اجازت ہو تو میں اسے خاموش کر سکتا ہوں۔”
بادشاہ نے اجازت دے دی۔
دانا کے اشارے پر غلام کو دریا میں پھینک دیا گیا۔ چند لمحے پانی میں ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد اسے نکال کر دوبارہ کشتی میں بٹھا دیا گیا۔
اب وہ خاموشی سے ایک کونے میں بیٹھ گیا اور ذرا بھی شکایت نہ کی۔
بادشاہ نے حیران ہو کر دانا سے پوچھا:
“یہ کیا حکمت تھی؟”
دانا بولا:
“جس نے ڈوبنے کا خوف محسوس نہ کیا ہو، وہ کشتی کے سکون کی قدر نہیں جان سکتا۔”
انسان اکثر نعمتوں کی قدر تب کرتا ہے جب وہ کسی مشکل یا محرومی کا سامنا کر چکا ہو۔
