لمبی ناک

لمبی ناک



ایک گھر میں ایک ایسا بچہ رہتا تھا جس کی ذہانت سے زیادہ اس کی تجسس بھری طبیعت مشہور تھی۔ ہر بات پر سوال کرنا اس کی عادت تھی۔ سوال کر کر کے والدین کا ناک میں دم کیے رکھتا تھا۔ ایک دن شوہر گھر آیا تو غیر معمولی طور پر سنجیدہ تھا۔ بیوی نے سوال داغا:

“کیا دفتر میں کسی سے جھگڑا ہوا ہے؟”

“نہیں، جھگڑا تو تمہیں پتہ ہے میں کسی سے نہیں کرتا۔ اصل میں ایک جگہ خالی ہوئی ہے جہاں میری ترقی کا چانس بنتا ہے۔ میں نے کل باس کی دعوت کی ہے، اگر خوش ہو گیا تو سمجھو کام بن جائے گا۔”

“یہ تو بہت اچھی بات ہے، پھر پریشانی کس بات کی ہے؟”

“پریشانی یہ ہے کہ باس کی ناک کچھ زیادہ ہی لمبی ہے۔ اب اگر ہمارے افلاطون بیٹے نے اس کی ناک پر تبصرہ کر دیا تو سمجھو بیڑہ غرق ہو جائے گا۔”

“کوئی بات نہیں! میں ہوں نا، سب سنبھال لوں گی۔”

اگلے دن مہمان کے آنے سے کافی پہلے بیگم بچے کو سمجھاتی رہیں کہ انکل سے ان کی ناک کے بارے میں بالکل کوئی سوال نہیں کرنا۔ پھر بھی بے اعتباری کے باعث وہ بچے کو بیٹ بال دے کر کرکٹ کھیلنے چھوڑ آئی۔ مہمان تشریف لے آئے۔ خاتونِ خانہ ابھی چائے بنا کر لائی ہی تھی کہ گیند مہمان کے پاس آ گری۔ گیند کے پیچھے پیچھے منا بھی دوڑتا ہوا آ پہنچا۔ منے کو دیکھ کر اس کی ماں کا رنگ فق ہو گیا۔

مہمان نے بڑے پیار سے گیند اٹھا کر منے کی طرف بڑھائی، مگر منا گیند کو بھول کر باس کی ناک کو یوں دیکھ رہا تھا جیسے قصائی بکرے کو دیکھا کرتا ہے۔

ابھی منے نے تبصرہ شروع کرنے کا پورا ارادہ ہی کیا تھا کہ منے کی ماں نے مہمان کی توجہ بٹانے کے لیے معمول سے اونچی آواز میں ہڑبڑاہٹ سے پوچھا:

“آپ کی ‘ناک’ میں کتنے چمچے چینی ڈالوں؟؟”

ایک لمحے کے لیے کمرے میں خاموشی چھا گئی۔
باس صاحب نے حیرت سے اپنی ناک کی طرف دیکھا، منا نے معصومیت سے ماں کی طرف، اور بیگم کو فوراً احساس ہو گیا کہ گھبراہٹ میں وہ کیا کہہ بیٹھی ہے۔
ادھر شوہر کی حالت یہ تھی کہ اپنی ترقی کے خوابوں سمیت کرسی سے نیچے جا گرے!
اور منا؟
وہ اب بھی حیران تھا کہ چائے میں چینی ڈالنی تھی یا ناک میں!

Leave a Reply

NZ's Corner