لکھنؤ کے ٹھگ

لکھنؤ کے ٹھگ


لکھنؤ میں ایک زمانے میں ٹھگوں کا بڑا چرچا تھا۔ یہ لوگ نہ زور زبردستی کرتے تھے اور نہ تلوار اٹھاتے تھے بلکہ اپنی باتوں، چالاکی اور ذہنی کھیل سے لوگوں کو لوٹ لیتے تھے۔
ایک دن ایک شخص بکری کا ننھا سا بچہ (میمنا) خرید کر اسے کندھے پر اٹھائے شہر سے باہر جا رہا تھا۔ راستے میں ٹھگوں کے ایک گروہ نے اسے دیکھ لیا۔ سب نے مل کر طے کیا کہ اس بکری کے بچے کو اس شخص سے ٹھگ لیا جائے ۔
انہوں نے ایک پلان بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہوگئے ۔
پہلا ٹھگ آگے بڑھا اور تعجب سے کہنے لگا
بھائی! تم کندھے پر کتا کیوں اٹھائے جا رہے ہو؟
وہ شخص ہنسا اور بولا
ارے بھائی! یہ کتا نہیں بکری کا بچہ ہے۔
وہ ٹھگ مسکرا کر آگے بڑھ گیا۔
تھوڑی دور دوسرا ٹھگ ملا
اس نے ناک سکوڑ کر کہا
اللہ خیر کرے! لوگ آج کل کتے کو کندھے پر کیوں اٹھائے پھرتے ہیں ۔
اب اس شخص کے دل میں ہلکی سی الجھن پیدا ہوئی مگر اس نے خود کو سنبھالا اور سوچا لگتا ہے لوگ میرے ساتھ مذاق کررہے ہیں ۔
کچھ فاصلے پر تیسرا ٹھگ ملا
اس نے ہمدردی جتاتے ہوئے کہا
بھائی اگرچہ یہ کتا تمہارا پالتو ہوگا لیکن پھر بھی اسے ایسے کندھے پر اٹھانا مناسب نہیں ۔
اب اس شخص کے قدم رک گئے۔
اس نے بکری کے بچے کو غور سے دیکھا دل میں وسوسہ پیدا ہوا کہیں یہ واقعی میں غلط تو نہیں دیکھ رہا؟
چوتھا اور پانچواں ٹھگ بھی یہی بات دہراتے گئے۔ آخرکار وہ شخص پوری طرح شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔ اس نے سوچا اتنے لوگ ایک ہی بات کہہ رہے ۔ لازمی مجھ سے غلطی ہوگئی ہے میں نے بکری 🐐 کا بچہ سمجھ کر کتا خرید لیا ہے ۔
اب اسے یہ بھی ڈر کہ جب میں گاؤں پہنچوں گا اور لوگوں کو بتاؤں گا کہ میں یہ بکری کا بچہ خرید کر لایا ہوں
اور یہ حقیقت میں کتا ہوا تو مجھے بڑی شرمندگی اٹھانی پڑے گی ۔
اسی سوچ کے تحت اس نے بکری کے بچے کو کندھے سے اتار کر سڑک پر رکھ دیا اور یہ کہہ کر چل دیا
کہ لوگ کتنے بے ایمان ہوگئے ہیں بکری کہہ کر کتے فروخت کررہے ہیں
جیسے ہی وہ شخص آگے بڑھا ٹھگوں نے فوراً بکری کے بچے کو اٹھایا اور خوشی خوشی غائب ہو گئے۔
سبق
ایک جھوٹ کو اگر بار بار کئی زبانوں سے دہرایا جائے تو بہت سے لوگ اسے سچ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے سننے والے کی ذمہ داری بھی ہوتی ہے کہ وہ تحقیق کرے۔

Leave a Reply

NZ's Corner