محلے میں ایک آدمی رہتا تھا جس کا نام قاسم تھا۔ قاسم کو ایک عجیب بیماری تھی۔
اسے ہر کام میں شک ہوتا تھا۔
اگر گھر میں چائے کم میٹھی ہو تو کہتا:
“ضرور کسی نے چینی چوری کی ہے!”
اگر پنکھا آہستہ چلے تو کہتا:
“اس میں بھی کوئی سازش ہے!”
اور اگر بیوی خاموش بیٹھی ہو تو فوراً پوچھتا:
“کیا ہوا؟ کس سے بات ہوئی؟ میرے خلاف کیا منصوبہ بن رہا ہے؟”
ایک دن محلے میں خبر پھیلی کہ چودھری صاحب کے گھر سے قیمتی گھڑی غائب ہوگئی ہے۔
قاسم نے خبر سنی تو فوراً سینہ پھلا کر بولا:
“یہ کیس میں حل کروں گا!”
محلے والوں نے پوچھا:
“تمہیں جاسوسی آتی ہے؟”
قاسم نے فخر سے کہا:
“نہیں، لیکن مجھے شک بہت اچھا کرنا آتا ہے!”
سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا۔
“چلو، یہی سہی!” 😂
قاسم نے سب سے پہلے چودھری صاحب سے پوچھا:
“گھڑی آخری بار کہاں دیکھی تھی؟”
چودھری صاحب نے کہا:
“ڈرائنگ روم میں۔”
قاسم نے فوراً نوٹ بک نکالی۔
“اور ڈرائنگ روم میں کون کون آتا ہے؟”
“گھر والے، ملازم اور کبھی کبھار مہمان۔”
قاسم نے سر ہلایا۔
“ہُم… بہت خطرناک معاملہ ہے!”
پھر اس نے گھر کے ملازم سے پوچھا:
“تم نے گھڑی دیکھی تھی؟”
ملازم نے کہا:
“نہیں۔”
قاسم نے آنکھیں تنگ کرکے کہا:
“اتنی جلدی جواب؟ مشکوک!”
ملازم بولا:
“صاحب، آپ نے سوال ہی ایسا پوچھا تھا!”
قاسم نے فوراً لکھا:
“ملزم بہت چالاک ہے۔” 😂
پھر وہ باورچی کے پاس گیا۔
“تم کل رات کہاں تھے؟”
باورچی نے کہا:
“باورچی خانے میں۔”
قاسم نے پوچھا:
“گواہ؟”
“کوئی نہیں۔”
قاسم اچھل پڑا:
“بس! یہی تو مسئلہ ہے!”
باورچی گھبرا گیا۔
“لیکن میں کھانا بنا رہا تھا!”
قاسم نے سنجیدگی سے کہا:
“اور چور بھی تو کھانا کھا سکتا ہے!” 🤣
تین گھنٹے کی تفتیش کے بعد قاسم نے پورے محلے کو جمع کیا۔
وہ ایک چارپائی پر کھڑا ہوا اور اعلان کیا:
“میں نے چور کا پتا لگا لیا ہے!”
سب حیران ہوگئے۔
“کون ہے؟”
قاسم نے ڈرامائی انداز میں انگلی اٹھائی۔
“چور… اسی گھر میں ہے!”
سب نے ایک دوسرے کو دیکھا۔
چودھری صاحب نے پوچھا:
“تمہیں کیسے معلوم؟”
قاسم نے کہا:
“کیونکہ باہر کا کوئی شخص گھڑی چوری کرکے دوبارہ گھر کے اندر نہیں رکھ سکتا!”
سب نے تالیاں بجائیں۔
“واہ! کیا ذہانت ہے!”
قاسم نے سینہ پھلا لیا۔
اچانک چودھری صاحب کا چھوٹا بیٹا بولا:
“انکل، ایک بات بتاؤں؟”
“ہاں بیٹا، بتاؤ!”
“وہ گھڑی چوری نہیں ہوئی تھی۔”
قاسم کا رنگ اڑ گیا۔
“تو پھر؟”
لڑکے نے کہا:
“ابو نے کل گھڑی اتار کر الماری میں رکھی تھی۔”
چودھری صاحب فوراً الماری کے پاس گئے۔
دروازہ کھولا…
اور واقعی گھڑی اندر پڑی تھی۔
سب لوگ قاسم کو دیکھنے لگے۔
قاسم نے ذرا بھی شرمندہ ہوئے بغیر اپنی نوٹ بک بند کی اور بولا:
“دیکھا! میں نے کہا تھا نا کہ چور گھر کے اندر ہے!”
چودھری صاحب نے غصے سے کہا:
“لیکن یہاں کوئی چور ہے ہی نہیں!”
قاسم نے مسکرا کر کہا:
“یہی تو میری جاسوسی کی سب سے بڑی کامیابی ہے… میں نے ثابت کردیا کہ چور بےگناہ ہے!” 😂😂
اس دن کے بعد محلے والوں نے قاسم کو “جاسوس صاحب” کہنا چھوڑ دیا۔
اب سب اسے ایک نئے نام سے پکارتے تھے:
“شک کے بادشاہ!” 🤣
