کہتے ہیں ایک سرسبز گاؤں کے کنارے ایک پرانا شہتوت کا درخت تھا، اور اس درخت کی سب سے اونچی شاخ پر ایک مرغ رہتا تھا۔
یہ کوئی عام مرغ نہ تھا۔
صبح سویرے اذانِ سحر کی طرح بانگ دیتا، دوپہر کو فلسفہ بگھارتا اور شام کو خود کو جنگل کا سب سے بڑا گلوکار سمجھتا تھا۔
درخت کے نیچے ایک لومڑی بھی رہتی تھی۔
چالاک، مکار، خوش زبان اور تعریفوں کے جال بننے میں ایسی ماہر کہ اگر چاہتی تو کانٹے دار جھاڑی کو بھی یقین دلا دیتی کہ وہ گلاب کا پھول ہے۔
تعریفوں کا کاروبار
ہر صبح لومڑی درخت کے نیچے آتی اور نہایت ادب سے آواز دیتی:
“مرغے بھائی!”
مرغ اوپر سے گردن نکالتا۔
“جی فرمایئے؟”
لومڑی مسکراتی۔
“آپ کی آواز تو ایسی ہے کہ بلبلیں بھی شرما جائیں۔”
مرغ خوش ہو جاتا۔
“واقعی؟”
“بالکل! ذرا ایک نغمہ تو سنا دیجئے۔”
مرغ بانگ دیتا۔
اور جیسے ہی وہ اپنی موسیقی کے نشے میں مست ہوتا، لومڑی چھلانگ لگاتی۔
مگر مرغ پھڑپھڑا کر دوسری شاخ پر جا بیٹھتا۔
لومڑی منہ تکتی رہ جاتی۔
روز کا تماشا
یہ کھیل ایک دن نہیں، دو دن نہیں، بلکہ مہینوں جاری رہا۔
لومڑی آتی۔
تعریف کرتی۔
مرغ گاتا۔
لومڑی حملہ کرتی۔
مرغ بچ نکلتا۔
جنگل کے جانور اس ڈرامے سے خوب محظوظ ہوتے۔
ایک خرگوش نے تو یہاں تک کہنا شروع کر دیا:
“اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو ایک دن ٹکٹ لگا کر تماشا دکھایا جائے گا۔”
مرغ کی آنکھ کھل گئی
ایک دن مرغ نے سوچا:
“یہ عجیب بات ہے۔”
“میری آواز لومڑی کو اتنی پسند ہے تو وہ ہر بار مجھے پکڑنے کی کوشش کیوں کرتی ہے؟”
اس نے فیصلہ کیا کہ آج حقیقت معلوم کرنی چاہیے۔
چنانچہ جب اگلی صبح لومڑی آئی اور حسبِ معمول بولی:
“مرغے بھائی، آپ کی آواز تو جنت کے سازوں جیسی ہے!”
تو مرغ نے فوراً پوچھ لیا:
“لومڑی بہن، ایک بات بتاؤ۔”
“پوچھو۔”
“تمہیں میری آواز زیادہ پسند ہے یا میرا گوشت؟”
سچائی کا لمحہ
لومڑی چونکی۔
پھر ہنس دی۔
“کیوں نہ دونوں پسند ہوں؟”
“مطلب؟”
“پہلے تم گاؤ۔”
“پھر؟”
“پھر میں تمہیں کھا لوں۔”
مرغ نے سر ہلایا۔
“آخرکار سچ نکل ہی آیا۔”
استاد کا شاگرد
مگر اس دن مرغ بھی کچھ بدلا بدلا سا تھا۔
اس نے بڑے اطمینان سے کہا:
“بہت خوب۔”
لومڑی خوش ہو گئی۔
“تو گاؤ گے؟”
“ضرور!”
“آج بھاگو گے نہیں؟”
“ہرگز نہیں۔”
لومڑی کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔
اس نے سوچا:
“آخر اتنے دنوں کی محنت رنگ لے آئی۔”
خصوصی مہمان
مرغ بولا:
“مگر آج ایک خاص بات ہے۔”
“کیا؟”
“میں اپنے ایک دوست کو بھی بلا لایا ہوں۔”
“دوست؟”
“جی، وہ بھی میری آواز کا دیوانہ ہے۔”
لومڑی نے سوچا شاید کوئی اور مرغ ہوگا۔
“کہاں ہے؟”
مرغ نے مسکرا کر نیچے کی طرف اشارہ کیا۔
عظیم سامع
اگلے ہی لمحے جھاڑیوں کے پیچھے سے ایک بڑا، تنو مند اور خوفناک کتا نمودار ہوا۔
اس نے لومڑی کو دیکھا۔
لومڑی نے کتے کو دیکھا۔
اور دونوں نے فوراً ایک دوسرے کو پہچان لیا۔
پھر…
بھوں! بھوں! بھوں!
پورا جنگل گونج اٹھا۔
لومڑی کا نیا ریکارڈ
لومڑی نے زندگی میں شاید کبھی اتنی تیز دوڑ نہیں لگائی تھی۔
اس کے پاؤں زمین کو چھو بھی رہے تھے یا نہیں، اس پر مورخین آج تک متفق نہیں۔
وہ جھاڑیوں، پتھروں اور کانٹوں کو عبور کرتی ہوئی ایسی غائب ہوئی جیسے کبھی وہاں تھی ہی نہیں۔
کتا کچھ دور تک اس کے پیچھے بھاگا، پھر واپس آ گیا۔
آخری مکالمہ
مرغ درخت کی شاخ پر بیٹھا قہقہے لگا رہا تھا۔
اس نے بلند آواز میں پکارا:
“لومڑی بہن!”
دور سے جواب آیا:
“کیا ہے؟”
“پھر کبھی آنا!”
“کیوں؟”
“میرا کتا دوست بھی تمہاری بہت تعریف کرتا ہے!”
لومڑی نے جواب دینا مناسب نہ سمجھا۔
دانا مرغ
اس شام مرغ نے اپنے دوست کتے سے کہا:
“آج میں نے ایک بڑی بات سیکھی ہے۔”
کتا بولا:
“کیا؟”
مرغ مسکرایا۔
“جو لوگ روز تمہاری تعریف کریں، ضروری نہیں کہ وہ تمہارے خیرخواہ بھی ہوں۔”
“اور؟”
“بعض اوقات تعریف کے پیچھے دانت چھپے ہوتے ہیں۔”
کتا ہنس پڑا۔
“اور بعض اوقات دانتوں کے مقابلے کے لیے اپنے دانت والے دوست ساتھ رکھنے چاہئیں۔”
سبق
چاپلوسی اکثر وہاں جنم لیتی ہے جہاں کسی کا مفاد چھپا ہو۔
جو شخص بار بار تعریفوں کے جال بچھائے، اس کے ارادوں کو بھی پرکھ لینا چاہیے۔
اور ازوپ کے قصہ گو یوں کہتے ہیں:
“لومڑی کی تعریف اگر مفت لگے، تو سمجھ لو اس کا بل آخر میں ضرور آئے گا۔”
#منقول
