کہتے ہیں ایک پرسکون تالاب کے کنارے ایک کچھوا رہتا تھا۔
وہ نہ سب سے تیز تھا، نہ سب سے طاقتور، نہ سب سے خوبصورت۔
مگر ایک خوبی یا یوں کہیے ایک خرابی ایسی تھی جس میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا:
وہ بے حد بولتا تھا۔
اتنا بولتا تھا کہ اگر صبح سورج نکلنے پر بات شروع کرتا تو شام کو چاند نکلنے تک سانس لیے بغیر قصے سناتا رہتا۔
تالاب کے مینڈک اس سے تنگ تھے۔
بطخیں اس سے بچ کر تیرتی تھیں۔
اور مچھلیاں تو اسے دیکھتے ہی پانی کے اندر غوطہ لگا دیتی تھیں۔
دوست کا مشورہ
ایک دن اس کا ایک پرانا دوست اس کے پاس آیا۔
اس نے محبت سے کہا:
“کچھوا بھائی، ایک نصیحت کروں؟”
“ضرور کرو، لیکن پہلے میری کل والی کہانی سن لو۔”
“نہیں، پہلے میری بات سنو۔”
“اچھا کہو۔”
دوست نے گہری سانس لی۔
“کبھی کبھی خاموشی بھی نعمت ہوتی ہے۔”
کچھوا ہنس پڑا۔
“خاموشی؟”
“ہاں۔”
“وہ کیوں؟”
“کیونکہ زیادہ بولنے والا اکثر اپنی مصیبت خود بلا لیتا ہے۔”
کچھوا گردن اکڑا کر بولا:
“میں چپ نہیں رہ سکتا۔”
“کیوں؟”
“کیونکہ میرے پاس کہنے کو بہت کچھ ہے!”
دوست نے سر پکڑ لیا۔
مصیبت کی آمد
چند دن بعد دوپہر کا وقت تھا۔
تالاب کے کنارے ہوا نرم نرم چل رہی تھی۔
کچھوا حسبِ معمول اپنی تقریر میں مصروف تھا۔
کبھی خود سے بات کرتا۔
کبھی پانی سے۔
کبھی درختوں سے۔
اور کبھی اُن جانوروں سے جو وہاں موجود ہی نہیں ہوتے تھے۔
اسی دوران ایک شکاری جنگل سے گزرا۔
اس نے شور سنا۔
قریب آیا۔
اور دیکھا کہ ایک موٹا تازہ کچھوا بغیر کسی خوف کے بیٹھا بولے جا رہا ہے۔
شکاری کی آنکھیں چمک اٹھیں۔
“آج رات کا کھانا مل گیا!”
گرفتاری
چند لمحوں بعد کچھوا شکاری کے تھیلے میں تھا۔
اب بھی بول رہا تھا۔
“یہ زیادتی ہے!”
“مجھے چھوڑ دو!”
“تمہیں پتا ہے میں کون ہوں؟”
شکاری ہنسا۔
“نہیں۔”
کچھوا سینہ پھلا کر بولا:
“میں بادشاہ کا خاص دوست ہوں!”
عظیم جھوٹ
شکاری رک گیا۔
“بادشاہ کا دوست؟”
“بالکل!”
“اگر میں تمہیں پکڑے رکھوں تو؟”
“بادشاہ ناراض ہو جائے گا۔”
شکاری سوچ میں پڑ گیا۔
“اگر واقعی بادشاہ کا دوست ہوا تو مصیبت بن جائے گی۔”
اس نے پوچھا:
“اچھا یہ بتاؤ، تمہاری رہائی کے لیے بادشاہ کیا دے گا؟”
کچھوا جوش میں آ گیا۔
“دس ہزار اشرفیاں!”
شکاری کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
“اتنی قیمت؟”
“کم از کم!”
آزادی
شکاری نے فوراً تھیلا کھول دیا۔
“جاؤ!”
کچھوا باہر نکلا۔
اب اسے سیدھا تالاب کی طرف دوڑ جانا چاہیے تھا۔
پانی میں غوطہ لگانا چاہیے تھا۔
اور زندگی بھر اس دن کو یاد رکھنا چاہیے تھا۔
مگر…
یہاں ایک مسئلہ تھا۔
وہ کچھوا تھا۔
اور کچھوے سے بھی بڑھ کر، وہ بہت بولنے والا کچھوا تھا۔
زبان کی بیماری
چند قدم چلنے کے بعد وہ رک گیا۔
اس کے دل میں ایک عجیب بے چینی پیدا ہوئی۔
اسے محسوس ہوا کہ اگر اس نے حقیقت نہ بتائی تو شاید اس کا سینہ پھٹ جائے گا۔
وہ واپس مڑا۔
شکاری ابھی وہیں کھڑا تھا۔
تباہی کی واپسی
کچھوا دوبارہ اس کے سامنے آیا۔
شکاری حیران رہ گیا۔
“اب کیا ہوا؟”
کچھوا مسکرایا۔
“میں ایک بات بتانا بھول گیا تھا۔”
“کیا؟”
“میں نے تمہیں دھوکا دیا تھا۔”
شکاری پلکیں جھپکنے لگا۔
“کیا مطلب؟”
“بادشاہ میرا دوست نہیں ہے۔”
“نہیں ہے؟”
“بالکل نہیں۔”
“اور دس ہزار اشرفیاں؟”
“وہ بھی جھوٹ تھا۔”
شکاری کی خاموشی
چند لمحوں تک شکاری خاموش رہا۔
اتنا خاموش کہ کچھوے کو لگا شاید وہ بات سمجھ نہیں پایا۔
چنانچہ اس نے مزید وضاحت شروع کر دی۔
“دراصل میں نے سوچا کہ اگر—”
مگر وہ جملہ مکمل نہ کر سکا۔
کیونکہ شکاری نے دوبارہ اسے پکڑ لیا۔
انجام
اس بار شکاری نے کوئی سوال نہیں پوچھا۔
کوئی بحث نہیں کی۔
کوئی رعایت نہیں دی۔
شام ہوئی۔
آگ جلائی گئی۔
اور کچھوا اس رات شکاری کے دسترخوان کا حصہ بن گیا۔
جنگل کی مجلس
اگلے دن جانوروں میں اس واقعے کا چرچا تھا۔
ایک خرگوش نے افسوس سے کہا:
“بیچارہ بچ تو گیا تھا۔”
لومڑی نے قہقہہ لگایا۔
“مصیبت سے بچنا آسان ہے، اپنی حماقت سے بچنا مشکل۔”
بوڑھا کچھوا، جو سب کچھ سن رہا تھا، آہ بھر کر بولا:
“اسے شکاری نے نہیں کھایا۔”
“پھر؟”
“اسے اس کی زبان کھا گئی۔”
سبق
بعض اوقات نجات کا دروازہ کھل جاتا ہے، مگر انسان اپنی بے احتیاطی سے دوبارہ مصیبت میں جا گھستا ہے۔
ہر سچ فوراً بولنا ضروری نہیں، اور ہر بات کہہ دینا عقل مندی نہیں۔
ازوپ کے قصہ گو یوں کہتے ہیں:
“زبان میں ہڈی نہیں ہوتی، مگر یہ اکثر پورا وجود تڑوا دیتی ہے۔”
