لومڑ کی ایک عجیب عادت تھی۔ وہ کھانا کھانے بیٹھتا تو روٹی کا اچھا حصہ کھا جاتا اور کناروں پر رہ جانے والی کنیاں اور دوسرے چھوٹے چھوٹے حصے چھوڑ دیتا۔ اس کے گھر والے مدت سے اس عادت پر ٹوکتے آ رہے تھے۔ بیوی کہتی، ’’یہ کھانے کا سلیقہ نہیں، تمہاری بری عادت ہے۔ کسی دن کسی بڑے کے سامنے یہی حرکت تمہیں شرمندہ کر دے گی۔‘‘ لومڑ ہر بار بے فکری سے مسکرا دیتا اور جواب دیتا، ’’تم دنیا کو نہیں جانتیں۔ عقل مند آدمی وہ نہیں جو ہر بات پر شرمندہ ہو، بلکہ وہ ہے جو اپنی بات منوانا جانتا ہو۔‘‘ بیوی سر ہلا کر رہ جاتی، مگر لومڑ کو اپنی عادت سے زیادہ اپنے جوابوں پر ناز تھا۔
ایک روز جنگل کے بادشاہ شیر نے شاہی ضیافت کا اہتمام کیا۔ ہر طرف خوشبوؤں کا بسیرا تھا، سونے چاندی کے برتن جگمگا رہے تھے اور دسترخوان پر طرح طرح کے کھانے سجے تھے۔ بڑے بڑے جانور بادشاہ کے پہلو میں بیٹھے تھے۔ یہ وہ مجلس تھی جہاں کھانے سے زیادہ آداب، ذائقے سے زیادہ رکھ رکھاؤ اور لقمے سے زیادہ نگاہوں کی اہمیت تھی۔ لومڑ بھی بڑے اہتمام سے تیار ہو کر پہنچا اور اپنی جگہ سنبھال لی۔
کھانا شروع ہوا تو کچھ ہی دیر میں اس کی پرانی عادت جاگ اٹھی۔ اس نے روٹی اٹھائی اور حسبِ معمول اس کا اچھا حصہ کھانے لگا، جبکہ کناروں پر رہ جانے والی کنیاں اور چھوٹے چھوٹے حصے دسترخوان پر چھوڑتا گیا۔ پہلے شیر نے ایک نظر دیکھا، پھر دوسری؛ مگر جب لومڑ اپنی ہی دھن میں روٹی کے اچھے حصے کھا کر باقی حصے چھوڑنے لگا تو بادشاہ کا ضبط جواب دے گیا۔
شیر نے دسترخوان پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، ’’لومڑ! یہ تم کیا کر رہی ہو؟ کیا تمہیں کھانے کے آداب بھی معلوم نہیں؟ یہ شاہی دسترخوان ہے، کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں روٹی کے پرخچے اڑائے جائیں‘، خوش قسمتی سے اچھی بات یہ تھی کہ شیر کی نظر ٹکروں پر ہوئی تھی ناکہ اچھے حصّہ کھانے پر اور باقی چھوڑ دینے پر۔
مجلس پر یکایک خاموشی چھا گئی۔ کئی جانوروں نے نظریں اٹھا کر لومڑ کی طرف دیکھا۔ جس عادت پر گھر میں بارہا تنبیہ ہو چکی تھی، آج وہی اسے سب کے سامنے شرمندہ کرنے جا رہی تھی۔ ایک لمحے کے لیے لومڑ کے کان جھک گئے، مگر اس کی آنکھوں میں گھبراہٹ کے بجائے ایک تیز سی چمک ابھری۔ وہ جانتا تھا کہ اپنی غلطی مان لی تو محفل میں شرمندگی اس کا پیچھا نہیں چھوڑے گی؛ لہٰذا اس نے اپنی عادت کو ہی خوبی ثابت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
اس نے فوراً سر جھکایا اور نہایت مؤدبانہ لہجے میں بولا، ’’حضورِ والا! گستاخی معاف، شاید آپ کو میری حرکت کا مقصد سمجھنے میں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘
شیر نے تیوری چڑھائی۔ ’’اچھا! تو پھر ہمیں بھی بتاؤ کہ روٹی کے ٹکڑے کرنے میں کون سی حکمت پوشیدہ ہے؟‘‘
لومڑ نے چہرے پر ایسی سنجیدگی طاری کی جیسے کوئی بہت بڑی علمی بات سمجھانے لگی ہو۔ ’’حضور! میں ٹکڑے نہیں کر رہا، بلکہ لقمے تیار کر رہا ہوں۔ میں نے سوچا، آپ بادشاہ ہیں، آپ کے ہاتھ میں روٹی توڑنے کی زحمت کیوں آئے؟ اگر میں روٹی پہلے ہی چھوٹے چھوٹے لقموں میں تقسیم کر دوں تو آپ کو سہولت رہے گی۔ آپ جس لقمے کی طرف ہاتھ بڑھائیں، وہ پہلے سے تیار ملے۔ یوں آپ کے شاہی ہاتھ بھی مصروفیت سے بچیں گے اور آپ اطمینان سے کھانا تناول فرما سکیں گے۔‘‘
یہ کہہ کر اس نے نہایت عاجزی سے سر جھکا دیا، گویا اس کی ساری محنت کا مقصد اپنی سہولت نہیں، بادشاہ کی خدمت تھا۔
شیر کے چہرے پر جو غصہ تھا، وہ آہستہ آہستہ ماند پڑنے لگا۔ اسے خیال آیا کہ شاید اس نے ایک مخلص مہمان کی نیت سمجھے بغیر اسے ڈانٹ دیا۔ اس نے کھنکار کر کہا، ’’اچھا، اگر تمہارا مقصد یہی تھا تو تمہیں پہلے بتا دینا چاہیے تھا۔‘‘
لومڑ نے فوراً عرض کیا، ’’حضور! خادموں کا کام اپنی خدمت کا اعلان کرنا نہیں، خدمت کو آسان بنانا ہوتا ہے۔ میں نے تو یہی سوچا کہ آپ کو تکلیف نہ ہو۔‘‘
اب شیر کے لیے مزید کچھ کہنا مشکل ہو گیا۔ جس حرکت پر وہ لومڑ کو شرمندہ کرنا چاہتا تھا، اسی حرکت کو وہ بادشاہ کی سہولت کے نام پر ایک خدمت بنا چکا تھا۔ مجلس میں بیٹھے چند جانوروں نے بھی سر ہلا دیا، اور لومڑ خاموشی سے اپنی روٹی کے باقی حصے چھوڑتا رہا؛ البتہ اب اس کے چہرے پر وہی اطمینان تھا جو کسی شخص کو اپنی چال کامیاب ہونے کے بعد نصیب ہوتا ہے۔
حاصلِ سبق:
مکار آدمی اپنی کمزوری کو بھی خوبی بنا کر پیش کرنے کا ہنر جانتا ہے۔ وہ غلطی کی اصلاح کرنے کے بجائے اس کے لیے ایسی دلیل تراشتا ہے کہ الزام لگانے والا بھی اپنے لہجے پر شرمندہ ہونے لگے۔ اس لیے ہر خوب صورت وضاحت کو سچائی اور ہر عاجزانہ انداز کو خلوص نہ سمجھو؛ بعض اوقات الفاظ کا حسن، کردار کی خامی پر پردہ ڈالنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔


