کہتے ہیں بشیرا نام کا ایک مراثی اپنا گاؤں اور برادری چھوڑ کر شہر آ گیا۔ کام پیدائش سے ایک ہی آتا تھا، تو شہر میں بھی گلے میں ڈھول ڈالے، رنگین کپڑے پہنے، لمبے بال ہلاتے ڈھول بجاتا پھرتا تھا۔
قسمت کا دن آیا، کسی میوزک ڈائریکٹر نے اسے اسٹوڈیو میں رکھ لیا۔ وہاں سے ترقی کرتے کرتے پہلے اسسٹنٹ ڈائریکٹر بنا، پھر اپنا اسٹوڈیو بنا کر *”استاد بشیر خاں”* کے نام سے مشہور ہو گیا۔
وقت گزرتا گیا۔ استاد کی دھنیں عالمی سطح پر مقبول ہوئیں۔ فلم میں نام آ جانا کامیابی کی ضمانت تھا۔ نگار ایوارڈ سے تمغہ حسن کارکردگی تک، لالی سے بالی وڈ اور پھر ہالی وڈ تک کا سفر۔ آسکر کے لیے نامزدگی، امریکہ منتقلی، گوری میم سے شادی، آکسفورڈ سے اعزازی ڈاکٹریٹ، میلوں کے فیتے، فائیو اسٹار ہوٹلوں میں ڈبکیاں، کیسینو، برانڈز، “چوہدری بشیر اینڈ سنز” کے نام سے سپر اسٹورز کی چین۔
*پچاس سال گزر گئے۔*
گھٹنے سیڑھیاں چڑھتے کٹکٹانے لگے، تو چوہدری صاحب کو خدا یاد آیا۔ حج کیا، سفید داڑھی رکھی، پانچ وقت کی نماز شروع کی۔ وطن واپس آ کر ٹرسٹ بنایا، وعظ و نصیحت، رمضان ٹرانسمیشن میں غریبوں کے آپریشن، گاؤں میں حویلی، کنواں، اسکول، ماں باپ کی قبر پر “استاد حاجی رشید خاں مرحوم” کا کتبہ، مسجد و مدرسہ۔ حویلی میں آخری ایام یادِ الٰہی میں گزارنے لگے۔
اب گاؤں میں عزت کا یہ عالم کہ جہاں سے کلف لگے سوٹ اور اونچے شملے والی پگڑی میں گزرتے، لوگ “سلام چوہدری صاحب” کہہ کر جھکتے۔ ہر فیصلہ حویلی کے صحن میں سنایا جاتا۔ غریبوں کا علاج ہو کہ بچیوں کی شادی، اسکول کی تقریب ہو یا الیکشن مہم، چوہدری صاحب کے بغیر سب ادھورا۔
*پھر ایک دن…*
چوہدری صاحب کی خوبرو پوتی امریکہ سے گاؤں آئی۔ گاؤں گھومتے ہوئے گاڑی کا ایک پراڈو سے معمولی ایکسیڈنٹ ہوا۔ پراڈو والے سے تعارف، دوستی اور پھر محبت۔ بات شادی تک پہنچی۔
لڑکا اچھا خاندان، پڑوس کے گاؤں میں جاگیر، چوہدری فرزند علی کا بیٹا۔ خاندان راضی، تاریخ طے، حویلی سج گئی، بارات آ گئی۔
اسٹیج پر چوہدری صاحب کے برابر لڑکی کے دادا آ کر بیٹھے۔ تعارف ہوا، آنکھیں چار ہوئیں، یادداشت کھنگالی گئی، اور پھر ایک دوسرے کو پہچان لیا۔
*”اوئے بشیرے! تو کب کا چوہدری بن گیا؟”*
*”اوئے بوٹے! تو کب کا مسلمان ہوا؟”*
بس پھر کیا تھا۔۔۔ پچاس سال کی محنت، عزت، سوٹ، شملہ، ڈگری، حویلی، ٹرسٹ، سب ایک طرف۔ زبان کھلی تو سارا بھرم کھل گیا۔ ایسی زبان درازی ہوئی کہ لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے واپس جانے لگے۔
*بشیرے مراثی کو چوہدری بشیر خاں بننے میں پچاس برس لگے تھے، واپسی میں پانچ منٹ لگے تھے۔*
سبق یہ ملا کہ زمان و مکان بدل جائے، لباس بدل جائے، عہدہ مل جائے، اسے ایوان اقتدار پر بٹھا دیا جائے یا منبر و محراب کا ٹھیکیدار بنا دیا جائے۔۔۔
*انسان کی اصل کبھی نہیں بدلتی، منہ کھولتے ہی اوقات کا پتہ چل جاتا ہے۔*


