ایک سلطنت کے بادشاہ کا دستور تھا کہ ہفتے میں ایک دن دربارِ عام منعقد کیا جاتا، جہاں امیر و غریب، تاجر و کسان، گورنر و سپاہی، ہر شخص کو اپنی فریاد بادشاہ کے سامنے پیش کرنے کی اجازت ہوتی۔ دربار میں کسی کی حیثیت اس کے لباس، دولت یا عہدے سے نہیں، بلکہ اس کی شکایت کی نوعیت سے پہچانی جاتی تھی۔ کم از کم بادشاہ کا دعویٰ یہی تھا کہ اس کے ہاں انصاف کے دروازے سب کے لیے یکساں کھلے ہیں۔
ایک روز دربار لگا تو شکایت کرنے والوں کی ایک لمبی قطار بادشاہ کے سامنے موجود تھی۔ ایک طرف شہر کے بڑے تاجر کھڑے تھے، جن کے قافلے دور دراز ملکوں تک جاتے تھے۔ دوسری طرف ایک صوبے کا گورنر اپنے عہدے اور وقار کے ساتھ حاضر تھا۔ چند بڑے زمیندار بھی اپنی شکایات لے کر آئے تھے، اور ان سب کے درمیان ایک بوسیدہ لباس پہنے، دھوپ سے جھلسا ہوا چہرہ لیے، ایک غریب کسان بھی خاموشی سے کھڑا تھا۔ اس کے ہاتھ میں کپڑے کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا تھا، جس میں چند کاغذات بندھے ہوئے تھے۔
بادشاہ نے یکے بعد دیگرے شکایتیں سنیں۔ جب اس کی نگاہ غریب کسان پر پڑی تو اس نے درباری منشی سے پوچھا، ’’اس شخص کی کیا شکایت ہے؟‘‘
منشی نے عرض کیا، ’’حضور! اس کی زمین پر شاہی نہر کا پانی روک دیا گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ ایک بااثر زمیندار نے اپنے کھیتوں کی طرف پانی کا رخ موڑ دیا ہے، جس کے باعث اس کی فصل سوکھ رہی ہے۔ یہ کئی ہفتوں سے سرکاری اہلکاروں کے چکر لگا رہا ہے، مگر کوئی اس کی فریاد سننے کو تیار نہیں۔‘‘
بادشاہ نے فوراً حکم دیا، ’’سب سے پہلے اس کا معاملہ حل کیا جائے۔ متعلقہ افسر کو ابھی طلب کرو، اور جب تک اس شخص کی شکایت کا فیصلہ نہیں ہو جاتا، دربار میں کسی دوسرے مقدمے کی کارروائی شروع نہ کی جائے۔‘‘
یہ حکم سن کر دربار میں چند نگاہوں نے ایک دوسرے کا رخ کیا۔ کسی نے زبان نہ کھولی، مگر ایک شخص کے چہرے پر حیرت صاف دکھائی دے رہی تھی۔
وہ ایک ہمسایہ سلطنت کا سفیر تھا، جو اپنے ملک کے بادشاہ کی طرف سے ایک اہم معاہدے کے سلسلے میں آیا ہوا تھا۔ اس نے دنیا کے کئی دربار دیکھے تھے، بڑے بڑے بادشاہوں کے ساتھ کھانا کھایا تھا، ان کے وزیروں کی مجلسوں میں بیٹھا تھا اور سلطنتوں کے عروج و زوال کی داستانیں سنی تھیں۔ لیکن ایک غریب کسان کی شکایت کو اس قدر اہمیت ملتے اس نے شاید پہلی بار دیکھا تھا۔
اس سے رہا نہ گیا۔ اس نے بادشاہ سے اجازت چاہی اور عرض کیا، ’’عالی جاہ! اگر گستاخی نہ سمجھی جائے تو ایک سوال پوچھنے کی جسارت کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
بادشاہ نے مسکرا کر کہا، ’’سفیر صاحب! سوال وہی اچھا ہوتا ہے جو دل میں رہ کر انسان کو بے چین کرے۔ فرمائیے۔‘‘
سفیر نے کسان کی طرف دیکھا، پھر دربار میں موجود دوسرے لوگوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا، ’’حضور! یہاں بڑے بڑے تاجر موجود ہیں، جن کی دولت سے سلطنت کے خزانے بھرتے ہیں۔ ان میں سے کسی کا کاروبار رک جائے تو شاہی محصول کم ہو سکتا ہے، تجارتی قافلے کسی دوسرے راستے کا انتخاب کر سکتے ہیں، حتیٰ کہ دوسرے ملکوں کے ساتھ تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہاں ایک گورنر بھی موجود ہے، جس کے ہاتھ میں ہزاروں سپاہیوں اور ایک پورے صوبے کا اختیار ہے۔ اگر وہ ناراض ہو جائے تو بغاوت تک کر سکتا ہے۔ بڑے زمینداروں اور بااثر لوگوں کے اپنے اپنے حلقے اور طاقتیں ہیں۔ ان سب کو نظرانداز کرنا بادشاہ کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔‘‘
وہ کچھ لمحے رکا، پھر بولا، ’’لیکن آپ نے ان سب کو انتظار کرنے کا حکم دیا اور ایک ایسے شخص کی فریاد پہلے سننے کا فیصلہ کیا، جس کے پاس نہ دولت ہے، نہ عہدہ، نہ کوئی لشکر اور نہ کوئی ایسا تعلق جو آپ پر دباؤ ڈال سکے۔ میں نے بہت سے بادشاہوں کو دیکھا ہے، مگر کسی کو کمزور ترین آدمی کے لیے طاقتور ترین لوگوں کو انتظار کرواتے نہیں دیکھا۔ آخر اس فیصلے میں ایسی کیا حکمت ہے جو میری سمجھ میں نہیں آ رہی؟‘‘
دربار پر خاموشی چھا گئی۔ بعض امرا کو توقع تھی کہ بادشاہ اس سوال کو اپنی توہین سمجھے گا، مگر اس نے نہ برا مانا، نہ جواب دینے میں جلدی کی۔ اس نے کسان کی طرف دیکھا، جو اب بھی نظریں جھکائے کھڑا تھا، جیسے اسے یقین ہی نہ آ رہا ہو کہ اس کی معمولی سی شکایت کے باعث سلطنت کے بڑے بڑے لوگ انتظار کر رہے ہیں۔
بادشاہ نے سفیر سے کہا، ’’آپ نے جن لوگوں کا ذکر کیا، وہ سب اپنی جگہ اہم ہیں۔ لیکن آپ نے ان کی طاقت کا حساب تو لگایا ہے، ان کی مجبوریوں کا نہیں۔ آئیے، ایک ایک کر کے بات سمجھتے ہیں۔‘‘
اس نے تاجر کی طرف دیکھا اور کہا، ’’فرض کیجیے، میں اس تاجر کی شکایت ابھی نہیں سنتا۔ تو کیا یہ شخص اپنا کاروبار چھوڑ کر میرے دروازے پر بیٹھا رہے گا؟ نہیں! یہ اپنے وکیل کے پاس جائے گا، اپنے تعلقات استعمال کرے گا، دوسرے تاجروں سے مدد لے گا، متعلقہ افسر تک پہنچے گا اور اپنا معاملہ حل کرنے کی کوشش کرے گا۔ ممکن ہے اسے نقصان ہو، ممکن ہے وہ مجھ سے ناراض بھی ہو، لیکن اس کے پاس کوشش کرنے کے کئی راستے ہیں۔ اور اگر ان سب کے باوجود اس کا مسئلہ حل نہ ہوا تو میں کل اسے بھی سن سکتا ہوں۔ اس کی شکایت چند گھنٹے انتظار کر سکتی ہے، بشرطیکہ اس انتظار سے اس کا حق ضائع نہ ہو۔‘‘
پھر اس نے گورنر کی طرف دیکھا۔
’’جہاں تک گورنر کا تعلق ہے، اس کے پاس اختیار ہے، اس کے پاس سپاہی ہیں، مشیر ہیں اور اس کے پاس مجھ تک پہنچنے کے ذرائع بھی ہیں۔ اگر میں آج اس کی بات نہیں سنتا تو وہ میرے کسی وزیر سے ملے گا، کوئی خط بھیجے گا، اپنا مقدمہ دوبارہ پیش کرے گا۔ اور اگر وہ اپنی طاقت کے نشے میں مجھے دھمکانے لگے تو یہ بھی دیکھنا پڑے گا کہ اس کی شکایت حق پر مبنی ہے یا محض اقتدار کی خواہش ہے۔ میں اس کے عہدے کی وجہ سے اسے انصاف سے محروم نہیں کروں گا، لیکن صرف اس لیے اس کی بات پہلے بھی نہیں سنوں گا کہ اس کے پاس مجھے نقصان پہنچانے کی طاقت ہے۔‘‘
بادشاہ کی آواز قدرے سنجیدہ ہو گئی۔
’’ایک بادشاہ کی سب سے بڑی آزمائش یہ نہیں کہ وہ اپنے دشمن کو کیسے سزا دیتا ہے، بلکہ یہ ہے کہ وہ اپنے فائدے کے لیے طاقتور آدمی کے سامنے کتنا جھکتا ہے۔ اگر میں کسی گورنر سے اس خوف سے ڈرتا رہوں کہ وہ بغاوت کر دے گا، تو پھر بادشاہ میں اور اس کے ماتحت ایک کمزور حاکم میں کیا فرق رہ جائے گا؟‘‘
سفیر نے سر ہلایا، مگر اس کی حیرت ابھی باقی تھی۔
بادشاہ نے اب اس غریب کسان کی طرف اشارہ کیا۔
’’لیکن اس شخص کو دیکھیے۔ اس کی فصل سوکھ رہی ہے۔ فصل سوکھ گئی تو اس کے گھر کا چولہا کیسے جلے گا؟ اس کے بچے کیا کھائیں گے؟ اگلی بوائی کے لیے بیج کہاں سے آئے گا؟ اس نے پہلے سرکاری اہلکاروں کے دروازے کھٹکھٹائے۔ کسی نے اس کی بات نہیں سنی۔ اب یہ اپنا آخری سہارا سمجھ کر میرے سامنے آیا ہے۔ اگر میں بھی اسے انتظار کرنے کا حکم دے دوں تو یہ کہاں جائے گا؟ کس کے پاس جائے گا؟ کس سے سفارش کروائے گا؟ کس کے سامنے اپنی بے بسی کا رونا روئے گا؟‘‘
دربار میں بیٹھے لوگوں نے پہلی بار اس کسان کو غور سے دیکھا۔ اس کے پھٹے ہوئے جوتوں پر مٹی جمی تھی، چہرے پر تھکن تھی اور آنکھوں میں وہ بے بسی تھی جو اکثر ان لوگوں کے حصے میں آتی ہے جن کی آواز طاقتور لوگوں کے شور میں دب جاتی ہے۔
بادشاہ نے بات جاری رکھی۔
’’یہ شخص جب اپنے تمام دروازے بند پائے گا تو میرے دروازے سے لوٹ کر کسی وزیر کے پاس نہیں جائے گا، کسی تاجر کی مدد نہیں لے گا، کسی گورنر کو خط نہیں لکھے گا۔ یہ گھر جائے گا، اپنے سوکھتے کھیت کو دیکھے گا اور رات کی تاریکی میں اپنے رب کے سامنے ہاتھ پھیلا دے گا۔ یہ کہے گا: اے اللہ! میں نے اپنے بادشاہ سے فریاد کی تھی۔ میں نے اس سے انصاف مانگا تھا۔ اگر وہ بھی میری نہیں سنتا تو اب تو ہی میرا فیصلہ فرما۔‘‘
یہ کہتے ہوئے بادشاہ چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گیا۔ اس کی نگاہیں کسان پر جمی تھیں، مگر اس کے الفاظ جیسے پورے دربار کے لیے تھے۔
’’سفیر صاحب! تاجر کی ناراضی دور کرنے کے لیے میں اس کے نقصان کی تلافی کر سکتا ہوں۔ کسی گورنر کی شکایت دور کرنے کے لیے اسے خط لکھ سکتا ہوں، اس کے اختیارات کی وضاحت کر سکتا ہوں یا اس کی جائز بات مان سکتا ہوں۔ لیکن اگر ایک غریب میرے ظلم یا غفلت کے باعث اپنے رب کے سامنے میرے خلاف فریاد کر دے تو میں اسے کس طرح روکوں گا؟ میں اسے کیا جواب دوں گا؟ اس کے دل کو توڑ کر میں اسے چند سکے دے بھی دوں، تب بھی میں اس کے رب کے سامنے اپنے عمل کا حساب دینے سے کیسے بچ سکوں گا؟‘‘
سفیر نے آہستہ سے پوچھا، ’’لیکن عالی جاہ! کیا آپ کو یقین ہے کہ ایک مظلوم کی فریاد آپ کے اقتدار کو نقصان پہنچا سکتی ہے؟‘‘
بادشاہ نے جواب دیا، ’’اقتدار تو انسانوں کے ہاتھ میں دکھائی دیتا ہے، مگر اس کی اصل بقا اس ذات کے حکم سے ہے جس کے سامنے بادشاہ اور فقیر دونوں برابر ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر مظلوم کی ہر بات درست ہوتی ہے۔ اسی لیے تو انصاف ضروری ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کی شکایت درست ہو، اس کے پاس کوئی سہارا نہ ہو اور میں اپنی طاقت کے نشے میں اسے نظرانداز کر دوں، تو پھر میرا تخت مجھے اس کے رب کے سامنے بے قصور نہیں بنا سکتا۔‘‘
اس نے منشی کو حکم دیا کہ کسان کی شکایت کا فیصلہ اسی وقت کیا جائے، نہر کا پانی اس کے کھیت تک پہنچایا جائے اور جس اہلکار نے اس کی فریاد کو بلاوجہ دبائے رکھا ہے، اس سے بازپرس کی جائے۔
کچھ ہی دیر میں متعلقہ افسر دربار میں حاضر ہوا۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ بااثر زمیندار نے واقعی پانی کا رخ غیرقانونی طور پر اپنی زمین کی طرف موڑ رکھا تھا، جبکہ اہلکار اس کے اثر و رسوخ کے باعث خاموش تھے۔ بادشاہ نے پانی کی تقسیم درست کرنے کا حکم دیا اور اہلکار کو اس کی غفلت پر سزا دی۔
کسان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ اس نے بادشاہ کے قدموں کی طرف جھکنا چاہا تو بادشاہ نے اسے روک دیا۔
’’میرے قدموں میں مت جھکو،‘‘ اس نے کہا، ’’اپنا حق لے کر اپنے گھر جاؤ۔ تمہارا حق دینا تم پر احسان نہیں، میری ذمہ داری ہے۔‘‘
کسان دعائیں دیتا ہوا دربار سے چلا گیا۔
سفیر دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔ پھر اس نے کہا، ’’آج مجھے معلوم ہوا کہ ایک بادشاہ کی عظمت اس بات میں نہیں کہ کتنے طاقتور لوگ اس کے سامنے سر جھکاتے ہیں، بلکہ اس میں ہے کہ اس کے دروازے پر آنے والا کمزور شخص بھی سر اٹھا کر واپس جا سکے۔‘‘
بادشاہ نے جواب دیا، ’’طاقتور آدمی کی ناراضگی اکثر اسی دنیا میں سنائی دیتی ہے، مگر مظلوم کی خاموشی بھی کبھی کبھی وہاں پہنچ جاتی ہے جہاں سے فیصلے اترتے ہیں۔ عقلمند حاکم وہ نہیں جو صرف لوگوں کی آوازیں سنے، بلکہ وہ ہے جو یہ بھی سمجھے کہ اس کے دروازے سے لوٹنے والا شخص کس کے سامنے فریاد لے کر جائے گا۔‘‘
اس روز سفیر نے اپنے ملک واپسی پر بادشاہ کے لیے بہت سی باتیں لکھیں، مگر سب سے نمایاں بات یہی تھی کہ اس سلطنت میں ایک حاکم ایسا بھی تھا جو کمزور کی شکایت کو اس لیے پہلے سنتا تھا کہ اسے اس کمزور سے نہیں، اس رب سے خوف آتا تھا جس کے سامنے ایک دن اسے اپنے تمام فیصلوں کا جواب دینا تھا۔
حاصلِ سبق:
جس کے پاس دنیا کے سہارے ہوں، وہ اپنا راستہ خود بھی تلاش کر سکتا ہے؛ مگر جس کے پاس کوئی سہارا نہ ہو، اس کی امید اکثر صرف اللہ کی ذات ہوتی ہے۔ اس لیے کسی کمزور کو حقیر سمجھ کر اس کی فریاد کو معمولی نہ جانیے۔ ممکن ہے آپ کے نزدیک وہ ایک بے اختیار انسان ہو، مگر اس کے نزدیک آپ کے خلاف فریاد سننے والا سب سے زیادہ اختیار رکھنے والا ہے۔

