مگرمچھ اور بندر

مگرمچھ اور بندر

دریا کے کنارے ایک سرسبز و شاداب جامن کا درخت کھڑا تھا۔ اُس کی گھنی شاخوں پر ایک چنچل اور ذہین بندر رہتا تھا۔ سارا دن وہ میٹھے رس بھرے جامن کھاتا، ہوا کے دوش پر جھولتا اور خوشی کے نغمے گنگناتا رہتا۔
ایک روز دریا سے ایک مگرمچھ نکلا۔ بندر نے ازراہِ محبت اُس کی خاطر جامن توڑے۔ مگرمچھ نے جب وہ شیریں پھل چکھے تو دل باغ باغ ہوگیا۔ رفتہ رفتہ دونوں میں دوستی ہوگئی۔ روزانہ مگرمچھ کنارے آتا، بندر سے باتیں کرتا اور جامن لے کر واپس چلا جاتا۔
مگرمچھ کی بیوی نہایت لالچی اور مکار تھی۔ جب اُس نے سنا کہ بندر روز میٹھے جامن کھاتا ہے تو اُس کے دل میں طمع جاگ اُٹھی۔ اُس نے شوہر سے کہا:
“جو بندر اتنے میٹھے پھل کھاتا ہے، اُس کا دل کتنا لذیذ ہوگا! اگر تم اُس کا دل لا دو تو میری بیماری بھی دور ہو جائے گی۔”
بیوی کے اصرار نے مگرمچھ کی عقل پر پردہ ڈال دیا۔ ایک دن وہ بندر کے پاس آیا اور نہایت محبت سے بولا:
“دوست! میری بیوی تم سے ملنے کی خواہش مند ہے۔ آؤ، آج میرے ساتھ دریا پار چل
سادہ دل بندر اُس کی باتوں میں آ گیا اور مگرمچھ کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ دریا کے بیچ پہنچ کر مگرمچھ کے ضمیر نے کروٹ لی۔ اُس نے حقیقت بیان کردی:
“اے بندر! سچ یہ ہے کہ میری بیوی تمھارا دل کھانا چاہتی ہے، اسی لیے میں تمہیں لے جا رہا ہوں۔”
یہ سن کر بندر ایک لمحے کو گھبرایا، مگر اُس کی حاضر دماغی فوراً جاگ اُٹھی۔ مسکرا کر بولا:
“ارے دوست! تم نے پہلے کیوں نہ بتایا؟ میں تو اپنا دل درخت پر ہی چھوڑ آیا ہوں۔ واپس چلو تاکہ میں وہ لے آؤں۔”
نادان مگرمچھ فوراً اُسے واپس کنارے لے آیا۔ بندر جست لگا کر درخت کی بلند شاخ پر جا بیٹھا اور قہقہہ لگا کر بولا:
اے مگرمچھ! دل کبھی جسم سے جدا نہیں ہوتا۔ مگر یاد رکھو، دل وہیں زندہ رہتا ہے جہاں وفا، خلوص اور سچی دوستی ہو۔ جو دوست دھوکا دے، اُس کے لیے میں بے دل ہی سہی!
مگرمچھ شرمندگی سے سر جھکائے پانی میں ڈوب گیا، اور بندر ہمیشہ کے لیے اُس سے دور ہوگیا۔

سبق
حقیقی دوست وہی ہوتا ہے جو محبت، وفاداری اور خیرخواہی کے ساتھ نبھائے، نہ کہ لالچ اور دھوکے سے نقصان پہنچائے۔

#منقول

Leave a Reply

NZ's Corner