شام کا وقت تھا۔ سورج غروب ہو چکا تھا ۔ ایک تھکا ماندہ مسافر ایک بدو کے خیمے پر پہنچا اور ایک رات ٹھہرنے کی اجازت چاہی۔ بدو نے نہ صرف بخوشی اجازت دی بلکہ فوراً دو مرغیاں ذبح کر کے بیوی کے حوالے کی تاکہ مسافر کے لیے اچھے کھانے کا بندوبست ہو سکے ۔
عورت نے جلدی جلدی مسالا تیار کیا اور مرغی پتیلی پر چڑھائی ۔ کچھ دیر بعد پانی کھولنے لگا اور گرم گرم بھاپ پتیلی سے نکل کر خیمے میں پھیلی مرغی کی خوشبو عورت کے نتھنوں میں گئی تو اس کا دل للچا اٹھا ۔ اس نے سوچا ایک بوٹی چکھ لینے میں کیا حرج ہے ۔ ایک بوٹی چکھی تو اسے بڑا لطف آیا ۔ اس نے سوچا ایک بوٹی اور چکھ لیتی ہوں ۔ اس طرح ایک ایک کر کے سارا گوشت ختم ہو گیا ۔ ایک گردن بچ گئی تھی وہ اس نے بچے کو دے دی ۔ بچے کو گردن میں کچھ مزہ نہ آیا اور وہ مچلنے لگا کہ ماں مجھے اور گوشت دے۔
بس بس ،، عورت نے بچے کو ڈانٹا ” تیرے باپ نے تیری عادتیں بگاڑ دی ہیں۔ کوئی سنے گا تو کیا کہے گا ۔ تیرے بات کو تو عقل ہی نہیں۔
بھلا بچوں کی کوئی ایسی عادت ڈالتا ہے ۔
جیسے کہ مہانوں والے حصے میں مسافر عورت کی باتیں سن رہا تھا۔ کیسی عادت مسافر نے تعجب سے پوچھا کہ ” جب بھی کوئی مسافر آکر رکتا ہے ۔ عورت نے لاپروائی سے کہا۔
اس کے کان کاٹ کر تلتا ہے اور پھر اس بچے کو کھلا دیتا ہے ” مسافر کے کان کھڑے ہوئے ۔ اس نے چپکے سے اپنا سامان سمیٹا اور رفو چکر ہو گیا ۔
بدو واپس آیا تو مسافر کو نہ پاکر حیران ہوا۔ اس نے عورت سے پوچھا کہ مہمان کیوں چلا گیا ۔ کیا تکلیف تھی اسے ۔
تمھارا مہمان بھی عجیب تھا۔ بدو کی عورت نے کہا اس نے پتیلی سے دونوں مرغیاں نکالیں اور اور بھاگ کھڑا ہوا۔
اب تو بدو بہت گھبرایا۔ وہ مسافر کے پیچھے پیچھے دوڑا۔ دور صحرا میں اسے مسافر بھاگتا ہوا نظر آیا ۔ بدو نے اپنی رفتار اور تیز کر دی اور زور سے چلایا ” بھائی مسافر کم از کم ایک تو دیتے جاؤ اس کی آواز سن کر مسافر اور گھبرایا ۔ اس نے اپنی رفتار اور
تیز کر دی۔
