ایک شخص ہمیشہ کی طرح بال اور داڑھی بنوانے کے لیے نائی کی دکان پر گیا۔
نائی کام میں مصروف ہوا تو دونوں کے درمیان دلچسپ گفتگو شروع ہو گئی۔ باتوں باتوں میں دنیا کے مختلف موضوعات زیرِ بحث آئے—زندگی، حالات، لوگ… اور پھر اچانک گفتگو خدا کے وجود تک جا پہنچی۔
نائی نے قینچی چلاتے ہوئے کہا:
“دیکھو بھائی، میں خدا کے وجود پر یقین نہیں رکھتا۔”
گاہک نے حیرت سے پوچھا:
“ایسا کیوں کہتے ہو؟”
نائی نے گہری سانس لی اور بولا:
“بات بہت سادہ ہے۔ بس باہر سڑک پر نکل جاؤ—تمہیں خود سمجھ آ جائے گی کہ خدا نہیں ہے۔ اگر خدا ہوتا تو کیا اتنے بیمار لوگ ہوتے؟ کیا معصوم بچے یوں بے سہارا پھرتے؟ اگر خدا ہوتا تو دنیا میں اتنا دکھ، اتنی تکلیف کیوں ہوتی؟ میں ایسے خدا کو نہیں مان سکتا جو یہ سب ہونے دے۔”
گاہک خاموش ہو گیا۔ اس نے کچھ لمحے سوچا، مگر بحث سے بچنے کے لیے کچھ نہ کہا۔
نائی نے اپنا کام مکمل کیا، اور گاہک دکان سے باہر نکل گیا۔
چند قدم ہی چلا تھا کہ اس کی نظر ایک شخص پر پڑی—لمبے الجھے ہوئے بال، بڑھی ہوئی بے ترتیب داڑھی، اور انتہائی خستہ حال شکل۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ مدتوں سے نائی کے پاس نہیں گیا۔
یہ منظر دیکھ کر گاہک کے ذہن میں ایک خیال بجلی کی طرح کوند گیا۔
وہ فوراً واپس نائی کی دکان میں داخل ہوا اور زور سے بولا:
“میں نے فیصلہ کر لیا ہے… اس دنیا میں نائی نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی!”
نائی چونک گیا:
“یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟ میں خود یہاں موجود ہوں، اور میں نائی ہوں!”
گاہک نے مسکرا کر کہا:
“نہیں! نائی ہوتے ہی نہیں… کیونکہ اگر ہوتے، تو باہر وہ آدمی اس حال میں نہ ہوتا—اتنے لمبے بال اور بکھری ہوئی داڑھی کے ساتھ!”
نائی نے فوراً جواب دیا:
“بھئی، نائی تو ہوتے ہیں… مسئلہ یہ ہے کہ لوگ ہمارے پاس آتے نہیں!”
گاہک کی آنکھوں میں چمک آ گئی۔ اس نے پراثر انداز میں کہا:
“بالکل! یہی تو میں کہنا چاہتا ہوں…”
“خدا بھی موجود ہے… مگر مسئلہ یہ ہے کہ لوگ اس کی طرف آتے نہیں، اسے تلاش نہیں کرتے… اسی لیے دنیا میں اتنا درد، اتنی تکلیف اور اتنی بےچینی ہے۔”
اور دکان میں ایک لمحے کے لیے مکمل خاموشی چھا گئی… جیسے سچ نے خود اپنی آواز سنا دی ہو۔
