چوہدری اور مسٹنڈا۔۔۔۔!

چوہدری اور مسٹنڈا۔۔۔۔!

کسی گاؤں میں ایک بیروزگار مسٹنڈا ️رہتا تھا۔
مسٹنڈے نے ساتھ والے گاؤں میں ہونے والے ایک کبڈی ٹورنامنٹ کو بھی جیتا ہوا تھا۔

ایک دن مسٹنڈے نے کچھ لفنگے ساتھ لیئے اور شور مچانا شروع ہوا کہ “گاؤں کے بازار  میں جو اکلوتا ہوٹل موجود ہے اس ہوٹل کا مالک چائے میں ملاوٹ والا دودھ ملاتا ہے۔ کھانے میں آئل بھی صحیح نہیں استعمال کرتا اور گوشت بھی صاف نہیں ہوتا۔ مجھے ہوٹل کھولنے دیں۔ میں بہترین تیل میں کھانا پکاؤں گا اور میرے پاس بہترین کک بھی ہیں اور بہت صاف ستھرے ویٹر بھی۔ میں ایسا ہوٹل بناوں گا کہ دور دور سے لوگ کھانا کھانے ادھر آئیں گے”۔
لفنگوں نے ناچ ناچ کر گھنگرو توڑ دیئے اور لفنگوں کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ کیونکہ مسٹنڈا کبڈی جیتا ہوا ہے اس لیے اسے ایک موقع ضرور ملنا چاہیے ۔
گاؤں میں کافی شور مچ گیا اور بالآخر گاؤں کے چوہدری نے مداخلت کر کے اس ہوٹل کو بند کروا دیا اور مسٹنڈے کو یہ ہوٹل کھولنے کی اجازت دے دی۔
مسٹنڈے نے ہوٹل کھول لیا۔

شروع شروع میں گاؤں والوں نے ہوٹل کے گرتے ہوئے معیار کی شکایتیں کرنا شروع کیں تو چوہدری نے سب کو سختی سے منع کیا اور کہا کہ ہوٹل کے متعلق صرف مثبت رپورٹنگ کیا کریں۔ چوہدری نے گاؤں کے کچھ لڑکوں کو منفی رپورٹنگ کرنے پر پھینٹی بھی لگوا دی۔

اسی طرح ساڑھے تین سال گزر گئے اور ایک دن چوہدری خود ہی معائنہ کرنے کے لیے پہنچ گیا۔ ہوٹل میں جا بجا گندگی پڑی ہوئی تھی ۔ چوہدری کے استفسار پر مسٹنڈا بولا کہ یہ پچھلے ہوٹل والوں کا گند ہے میں اتنی جلدی تھوڑا صاف کر سکتا ہوں۔ چوہدری نے دال کا آرڈر دیا ۔ مسٹنڈے نے ٹیبل پر گندی ٹاکی مار کر میلی کچیلی پلیٹ لاکر بدمزہ دال سامنے رکھی۔ اور ساتھ ہی کہا کہ دیگچی میں چوہا گر گیا تھا دل کرتا ہے تو کھا لیں۔ مسٹنڈے کے لفنگے ناچنے لگے کہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوٹل کھلا ہے جس کا سچا مالک خود بتاتا ہے کہ ہنڈیا میں چوہا گر گیا تھا ۔
دال سے بیزار ہو کر چوہدری نے گوشت کا آرڈر کیا۔ مسٹنڈے کے ویٹر نے کہا کہ پرانے ہوٹل والے کی مافیا سارے چکن مہنگے کر گئی ہے لہذا  ایک پلیٹ کی قیمت دو ہزار ہو گی۔
اتنی دیر میں ایک ویٹر چوہدری کی جیب کاٹنے لگا۔ چوہدری  نے اسے پکڑ لیا تو مسٹنڈا جیب کترے کو کہنے لگا کہ مجھے چوری چکاری بالکل پسند نہیں، میں تمہیں ویٹر کی نوکری سے برطرف کرتا ہوں جاؤ جا کہ کاؤنٹر پر بیٹھ جاؤ۔
چوہدری نے کہا چلو چائے ہی لے آؤ ۔
جیب کترے نے کاونٹر سے آواز لگائی کہ چائے کا کپ 90 روپے کا ہو گا۔
چوہدری بولا وہ کیوں؟ مسٹنڈا سمجھانے لگا کہ دراصل پچھلے ہوٹل والے نے زبردستی مہنگائی روک کر رکھی ہوئی تھی لہذا اب ہم نے مصنوعی قیمت کو ٹھیک کر دیا ہے لہذا 90 روپے ہی دینے ہوں گے۔
چوہدری اپنے خیالوں میں 90 کی چائے پی رہا تھا کہ اسے مسٹنڈے کی آواز آئی   کہ چوہدری صاحب آپ اپنی گاڑی بچا لیں میرے ہوٹل کے ملازم آپ کی گاڑی سے چوری کر رہے ہیں۔
چوہدری نے کہا یہ کیا؟ تم  نے کیسے چوروں کا جتھا رکھا ہوا ہے؟
مسٹنڈا بولا “دیکھو بھلائی کا زمانہ ہی نہیں ایک تو میں نے ستر سال میں پہلی بار گاؤں والوں کو شعور دیا ہے اور اب میں خود بتا رہا ہوں کہ میرے بندے چور ہیں، پھر بھی میری قدر ہی نہیں”
لفنگے بھی چوہدری کو کوسنے لگے اور کہا کہ اگر مسٹنڈے کے بندے چور ہیں تو وہ بتاتا بھی تو ہے اور ہینڈ سم بھی ہے پھر بھی لوگ مسٹنڈے کی قدر نہیں کرتے ۔۔

اب تو چوہدری بھی مسٹنڈے پر سخت تپا ہوا تھا لیکن کیونکہ پرانا ہوٹل بند کر کے مسٹنڈے کو اسی نے مسلط کیا تھا اس لیے بیچارہ کچھ کر بھی نہیں سکتا تھا

Leave a Reply

NZ's Corner