پرانے وقتوں میں چین میں **کنگی** نام کا ایک ایسا انصاف پسند بادشاہ گزرا ہے جو اپنی رعیت کو اولاد کی طرح عزیز رکھتا تھا۔ اس کی عادلانہ حکومت اور رعیت پروری کے قصے آج بھی چین کی تاریخ میں سنہرے حروف سے لکھے ہیں۔ وہ اپنے افسروں پر کڑی نظر رکھتا تھا اور ذرا سی سختی یا ظلم پر انہیں سخت ترین سزا دیتا تھا۔ اس کے دورِ حکومت میں کسی کو بھی کسی بے گناہ پر ظلم کرنے کی جرات نہ تھی۔ایک روز جوانی کے دنوں میں، بادشاہ شاہی لباس کے بجائے شکاری بھیس بدل کر شکار کے لیے نکلا۔ اتفاق سے اس کا گھوڑا دوڑتا ہوا بہت دور نکل گیا اور اس کے تمام راہی و ساتھی پیچھے ہی رہ گئے۔
راستے میں بادشاہ نے ایک بوڑھے شخص کو پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوئے دیکھا۔ بادشاہ فوراً گھوڑے سے اترا، محبت کے ساتھ بوڑھے کے پاس گیا اور اس کے رونے کی وجہ پوچھی۔
بوڑھے نے سسکی لیتے ہوئے کہا:
اے نوجوان مالک! میں تم سے کیا کہوں، میرے دکھ کا کوئی مداوا نہیں۔ شاہی محل کے قریب میری چھوٹی سی جائداد تھی جسے محل کے ظالم حاکم نے ناحق ضبط کر لیا ہے۔ مجھ پر اس سے بھی بڑا ظلم یہ کیا گیا ہے کہ میرے اکلوتے جوان بیٹے کو زبردستی پکڑ کر غلام بنا لیا گیا ہے۔ وہی میری بڑھاپے کی لاٹھی اور زندگی کا واحد سہارا تھا، وہ بھی اب مجھ سے چھن گیا ہے…”
یہ کہتے کہتے بوڑھا ایک بار پھر دھاڑیں مار کر رونے لگا۔ نوجوان شہنشاہ نے اس کے دونوں ہاتھ محبت سے پکڑے اور تسلی دیتے ہوئے پوچھا:
> “یہ بتاؤ، یہاں سے شاہی محل کتنی دور ہے؟”
بوڑھا بولا: “حضور! یہاں سے پانچ میل کا فاصلہ ہے۔”
بادشاہ نے عزم صمیم کے ساتھ کہا: “بہت اچھا! تم میرے ساتھ چلو، میں خود اس حاکم سے کہوں گا کہ وہ تمہاری جائداد اور بیٹا تمہیں واپس کرے!”
بوڑھے نے مایوسی سے سر ہلاتے ہوئے کہا:
> “ارے نادان نوجوان! میں نے تمہیں بتایا نا کہ وہ حاکم براہِ راست شہنشاہ کے محل کا افسر ہے اور انتہائی بے رحم ہے۔ وہ کسی کو بھی معاف نہیں کرتا۔ تم خواہ مخواہ اس مصیبت میں کیوں کودتے ہو؟ اپنی جان بچاؤ، اس ظالم کے پاس جانے میں سراسر موت اور رسوائی ہے!”
بادشاہ نے مسکرا کر حوصلہ دیا: ” ہمت نہ ہارو! تم میرے ساتھ چلو، انجام تمہارے حق میں ہی بہتر ہوگا۔”
بادشاہ کی پر اعتماد آواز سن کر بوڑھے کی ڈھارس بندھی اور وہ ساتھ چلنے کو تیار ہو گیا، مگر وہ انتہائی ضعیف اور کمزور تھا، اس لیے تیز قدموں سے نہیں چل سکتا تھا۔ وہ بولا:
> “بیٹا! میں بوڑھا ہوں، تمہارے تیز گھوڑے کے قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکتا، تمہیں دیر ہو جائے گی۔”
بادشاہ نے شفقت سے کہا: “یہ سچ ہے، مگر تمہاری عمر اور عزت احترام کے لائق ہے۔ میں تندرست و توانا ہوں، تم گھوڑے پر سوار ہو جاؤ اور میں پیادہ تمہارے ساتھ چلتا ہوں۔”
مگر بوڑھے نے اکیلے گھوڑے پر بیٹھنے سے انکار کر دیا، تب بادشاہ نے خود اسے اپنے آگے گھوڑے پر بٹھایا اور خود پیچھے زین پر بیٹھ گیا۔
اس طرح دونوں گھوڑے پر سوار ہو کر اس مقام پر پہنچ گئے جہاں وہ ظالم حاکم رہتا تھا۔ راستے میں شاہی نوکر چاکر بھی مل گئے، جو بادشاہ کے ساتھ ایک بوڑھے کو دیکھ کر سخت حیران ہوئے۔ بادشاہ نے اپنی زبان میں انہیں کچھ اشارہ کیا تو وہ خاموشی سے چلے گئے مگر دور کھڑے تماشا دیکھنے لگے۔
جب کنگی شاہی محل کے قریب پہنچا تو اس نے حاکم کو فوراً دربار میں حاضر ہونے کا حکم دیا۔ جب حاکم حاضر ہوا تو بادشاہ نے اپنا شکاری لباس اتار پھینکا۔
جیس ही حاکم کی نظر بادشاہ پر پڑی، اس کے ہوش اڑ گئے اور وہ خوف سے کانپتا ہوا فوراً بادشاہ کے قدموں میں گر پڑا۔ دوسری طرف، جب بوڑھے کو معلوم ہوا کہ وہ جس نوجوان کو ساتھ لے کر آیا ہے وہ کوئی اور نہیں بلکہ خود چین کا شہنشاہ کنگی ہے، تو وہ مارے خوف اور حیرت کے پتھر بن گیا اور زمین پر ڈھیر ہو گیا۔
بادشاہ نے انتہائی وقار کے ساتھ بوڑھے کو سہارا دے کر اٹھایا۔ اتنے میں محل کے تمام امرا، وزرا اور شکاری جلوس بھی وہاں پہنچ گیا۔
سب کے سامنے بادشاہ نے اس ظالم حاکم کو کڑی سے کڑی لعنت ملامت کی اور فوراً جلاد کے حوالے کر دیا۔
### انجام اور سبق
بادشاہ نے لرزتے ہوئے بوڑھے سے کہا:
> “بڑے میاں! تمہاری جائداد اور تمہارا بیٹا تمہیں معزز طریقے سے واپس کیا جاتا ہے۔ آج سے اس شاہی محل کا نیا حاکم تم کو بنایا جاتا ہے۔ مگر یاد رکھنا! کہیں ایسا نہ ہو کہ دولت اور اقتدار ملنے کے بعد تم خود مغرور ہو جاؤ اور تمہاری ناانصافی سے کسی غریب کو تکلیف پہنچے۔”
**حاصلِ سبق:**
انسان کو ہمیشہ انصاف کا دامن تھام کر رکھنا چاہیے اور کبھی کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ جو لوگ طاقت کے نشے میں اندھے ہو کر کمزوروں کو سستاتے ہیں، ان کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتا ہے۔
