جنگل کے ایک دور افتادہ گوشے میں ایک عجیب و غریب جانور رہتا تھا۔ اس کی شکل و صورت ایسی تھی کہ پہلی نظر میں دیکھنے والا دوبارہ دیکھنے کی خواہش بھی نہ کرتا، مگر اس کے دعوے ایسے بلند تھے کہ بڑے بڑے عقل مند جانور بھی حیران رہ جاتے۔ اس نے اپنے گرد عقیدت کا ایک ایسا حصار بنا رکھا تھا جس میں سوال کرنے کی گنجائش کم اور سر جھکانے کی روایت زیادہ تھی۔
وہ خود کو پہنچا ہوا بزرگ کہتا، دعویٰ کرتا کہ راتوں کو سوتا نہیں بلکہ کائنات کے رازوں پر غور کرتا ہے۔ کبھی کہتا کہ اس کی ایک نظر سے تقدیر بدل جاتی ہے، کبھی دعویٰ کرتا کہ اسے آنے والے واقعات پہلے ہی دکھائی دے جاتے ہیں۔ کسی جانور کی گم شدہ چیز مل جاتی تو اسے اپنی کرامت قرار دیتا، کسی بیمار کی طبیعت خودبخود بہتر ہو جاتی تو اسے اپنی دعا کا نتیجہ بتاتا، اور اگر کوئی پیش گوئی غلط ثابت ہو جاتی تو فوراً اس کی ایسی تشریح کرتا کہ غلطی بھی کرامت کا ایک نیا پہلو معلوم ہونے لگتی۔
اس کا معمول تھا کہ اپنے گرد چند عقیدت مند جمع رکھتا۔ وہ اس کی باتوں کو ایسے انداز میں دہراتے جیسے جنگل کی دنیا کا کوئی عظیم راز ان کے ہاتھ آ گیا ہو۔ ایک کہتا، ’’حضرت نے پچھلے ہفتے ہی بتا دیا تھا کہ بارش ہونے والی ہے!‘‘ دوسرا فوراً بول اٹھتا، ’’یہ تو کچھ بھی نہیں، انہوں نے تو کئی برس پہلے ایک ایسی بات کہی تھی جس کا مطلب آج سمجھ آیا ہے!‘‘
یوں ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کے قصے بڑھتے گئے۔ اس کی اپنی باتیں اپنی جگہ، عقیدت مندوں کی بیان کردہ باتیں اپنی جگہ، اور ان دونوں کے درمیان حقیقت کہیں دب کر رہ گئی۔
اسی جنگل میں بندروں کا ایک قبیلہ بھی آباد تھا۔ اس قبیلے میں ایک بوڑھا بندر خاصا سمجھ دار تھا۔ اس نے اپنی زندگی میں بہت سے موسم دیکھے تھے، مگر اس کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ لوگوں کی باتیں سننے کے ساتھ ساتھ ان کے فائدے بھی دیکھتا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ جنگل میں بعض اوقات سچائی سے زیادہ اہمیت اس قصے کو دی جاتی ہے جو سننے میں دل چسپ ہو۔
ایک روز اسے خبر ملی کہ وہ نام نہاد بزرگ جانور سخت بیمار پڑ گیا ہے۔ اس کے عقیدت مند آہستہ آہستہ غائب ہونے لگے تھے۔ جو کل تک اس کی ایک آواز پر دوڑے چلے آتے تھے، آج اس کی خبر لینے سے بھی گریزاں تھے۔ آخر بیمار کی خدمت کون کرتا؟ دعوے کرنے والے کی اپنی حالت یہ تھی کہ اسے پانی کا پیالہ پکڑانے والا بھی کوئی نہ تھا۔
بوڑھے بندر نے جب یہ خبر سنی تو وہ سیدھا اس کے ٹھکانے پر پہنچ گیا۔ اس نے بیمار جانور کو اپنے گھر منتقل کیا، اس کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور حتیٰ کہ اس کی تیمارداری بھی کرنے لگا۔ چند روز بعد اس کے بچوں نے حیرت سے پوچھا، ’’ابا جان! آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ آپ تو ہمیشہ ہمیں سمجھاتے ہیں کہ ہر بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ پھر آپ اس جانور کی اتنی خدمت کیوں کر رہے ہیں؟ کیا آپ بھی اس کی کرامات کے قائل ہو گئے ہیں؟‘‘
بوڑھا بندر مسکرایا اور بولا، ’’بیٹو! میں اس کی خدمت نہیں کر رہا، میں تمہارے مستقبل کی بنیاد رکھ رہا ہوں۔‘‘
بچے ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے۔
اس نے بات آگے بڑھائی، ’’تم ابھی چھوٹے ہو۔ وقت آنے پر سمجھ جاؤ گے کہ جنگل میں صرف وہی چیز اہم نہیں ہوتی جو حقیقت میں ہو؛ بعض اوقات وہ بھی بہت قیمتی بن جاتی ہے جس کے بارے میں لوگ یقین کر لیں کہ وہ حقیقت ہے۔‘‘
بچوں کو اس کی بات پوری طرح سمجھ نہ آئی، مگر وہ خاموش ہو گئے۔ کچھ ہی عرصے بعد وہ بیمار جانور مر گیا۔
اب یہاں سے بوڑھے بندر کی اصل کاری گری شروع ہوئی۔
اس نے اپنے قبیلے کی زمین پر ایک وسیع جگہ منتخب کی اور وہاں ایک شاندار مقبرہ تعمیر کروانا شروع کر دیا۔ عمارت کے لیے بہترین پتھر منگوائے گئے، دروازے پر نقش و نگار بنائے گئے اور گنبد ایسا تیار کیا گیا کہ دور سے دیکھنے والے کی نگاہ وہیں ٹھہر جائے۔ مقبرے کے باہر ایک بڑا سا کتبہ نصب کیا گیا، جس پر مرحوم کی کرامات درج تھیں۔
مگر بوڑھے بندر نے صرف وہی کرامات نہیں لکھوائیں جن کا مرحوم خود دعویٰ کیا کرتا تھا؛ اس نے ان میں اپنی طرف سے اضافہ بھی کر دیا۔ اب کتبے کے مطابق وہ بزرگ نہ صرف دلوں کے بھید جانتا تھا بلکہ دور بیٹھے جانوروں کی قسمت بھی بدل دیتا تھا۔ اس کی دعا سے بیمار شفایاب ہوتے، اس کے اشارے سے مصیبتیں ٹل جاتیں اور اس کے نام کی برکت سے بے شمار ناممکن کام ممکن ہو جاتے تھے۔
جنگل کے جانوروں کو جب اس مقبرے کی خبر ملی تو وہ جوق در جوق آنے لگے۔ کسی نے کہا، ’’ہم نے تو پہلے ہی سنا تھا کہ وہ بہت پہنچے ہوئے تھے!‘‘ کسی نے کتبے کی عبارت پڑھ کر سر جھکا لیا اور بولا، ’’اتنی کرامات کسی عام جانور میں ہو ہی نہیں سکتیں‘‘۔
بوڑھے بندر نے نہایت سنجیدگی سے ان کے سامنے سر جھکایا، گویا وہ خود بھی ان غیرمعمولی واقعات کی عظمت سے متاثر ہو۔ اس کے بعد اس نے مقبرے پر چراغاں کروایا، عقیدت مندوں کے بیٹھنے کا انتظام کیا اور آنے والوں کے لیے چندے کا ایک صندوق رکھ دیا۔
چند ہی دنوں میں صندوق بھرنے لگا۔
پھر اس نے مقبرے کی شہرت بڑھانے کے لیے باقاعدہ اشتہار بازی شروع کر دی۔ جنگل کے مختلف راستوں پر تختیاں لگ گئیں، درختوں پر اعلانات چسپاں کر دیے گئے اور ہر آنے والے کو مرحوم کی نئی سے نئی کرامت سنائی جانے لگی۔ جو جانور وہاں سے خالی ہاتھ لوٹتا، اسے بھی کوئی نہ کوئی ایسا قصہ ضرور سننے کو ملتا کہ وہ اگلی بار کچھ نذرانہ لے کر آنے کا ارادہ کر لیتا۔
بوڑھے بندر نے اپنے بچوں کو بھی اس کام میں لگا دیا۔ کوئی آنے والوں کو قصے سناتا، کوئی چندے کا حساب رکھتا اور کوئی مقبرے کی تشہیر کے لیے نئے نئے طریقے سوچتا۔ ان کی آمدنی کا بڑا حصہ مقبرے کی شہرت بڑھانے پر خرچ ہوتا، کیونکہ بوڑھے بندر کو معلوم تھا کہ اس کاروبار میں عمارت سے زیادہ اہمیت اس کے گرد بننے والی کہانیوں کی ہے۔
رفتہ رفتہ مقبرہ جنگل کی مشہور زیارت گاہ بن گیا۔ بندر قبیلے کے لوگ وہاں باقاعدگی سے حاضری دینے لگے۔ کوئی اپنی پریشانی لے کر آتا، کوئی اپنی خواہش پوری ہونے کی امید میں نذرانہ رکھتا اور کوئی صرف اس لیے حاضر ہوتا کہ اس کے بزرگ بھی وہاں جاتے تھے۔
بوڑھے بندر نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں اپنے بیٹے کو بلایا اور کہا، ’’بیٹا! اس جگہ کی خدمت کرتے رہنا۔ لوگ جتنی زیادہ باتیں سنیں گے، اتنا ہی زیادہ یقین کریں گے، اور جتنا زیادہ یقین کریں گے، اتنا ہی زیادہ یہاں آئیں گے۔ یاد رکھنا، اس کاروبار میں سب سے قیمتی چیز لوگوں کا اعتماد نہیں، بلکہ وہ یقین ہے جسے سوال کرنے کی عادت نہ ہو۔‘‘
باپ کے مرنے کے بعد بیٹے نے مقبرے کا انتظام سنبھال لیا۔ اس نے بھی یہی روایت قائم رکھی۔ اس کے بعد اس کا بیٹا آیا، پھر اس کا بیٹا۔ ہر نئی نسل نے اپنے بزرگوں کے کام کو آگے بڑھایا، عمارت میں اضافہ کیا، کرامات کی فہرست طویل کی اور مقبرے کی شہرت دور دراز کے جنگلوں تک پہنچا دی۔
وقت کے ساتھ ایک عجیب تبدیلی واقع ہوئی۔ پہلی نسل کے جانوروں نے ان کرامات کے قصے سنے تھے، دوسری نسل نے انہیں روایت کے طور پر قبول کیا اور تیسری نسل کے لیے وہ عقیدے کا حصہ بن گئے۔ جن جانوروں نے مرحوم کو کبھی دیکھا تک نہ تھا، وہ بھی اس کے بارے میں ایسی باتیں یقین سے بیان کرتے جیسے اس کے ہر معجزے کے عینی گواہ ہوں۔
مقبرے پر آنے والے جانوروں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی۔ نذرانوں کے صندوق بھرے رہتے، بندر خاندان کی زندگی آسودہ ہوتی جاتی اور ہر نئی نسل اپنے بزرگوں کی حکمت پر فخر کرتی۔ کبھی کبھی خاندان کے افراد ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے اور دل ہی دل میں کہتے:
’’ہمارے دادا بالکل ٹھیک کہتے تھے؛ وہ واقعی ہمارا مستقبل سنوار رہے تھے‘‘
اور یوں ایک جانور کی زندگی میں کیے گئے مبالغہ آمیز دعوے، ایک چالاک بندر کی منصوبہ بندی، اور نسل در نسل دہرائے جانے والے قصے ایک ایسی روایت بن گئے جس کی بنیاد جانچنے کے بجائے لوگ اس کی پرانی ہونے کو ہی اس کی سچائی سمجھنے لگے۔
حاصل سبق:
معاشرے میں ہر دعوے کو سچ مان لینا بھی نقصان دہ ہے اور ہر مشہور روایت کو تحقیق سے بالاتر سمجھنا بھی۔ کسی کے لباس، شہرت، مقبرے، مریدوں کی کثرت یا کرامات کے طویل قصوں سے اس کے دعوے خودبخود ثابت نہیں ہو جاتے۔ احترام اپنی جگہ، مگر سوال، تحقیق اور دلیل کی اہمیت اپنی جگہ ہے۔
خصوصاً دین کے نام پر کیے جانے والے دعووں میں احتیاط ضروری ہے۔ حقیقی نیکی اور روحانی رہنمائی کا معیار محض شہرت، غیرمعمولی کہانیاں یا نذرانوں کی کثرت نہیں، بلکہ کردار، دیانت اور درست تعلیمات ہیں۔ کیونکہ جب لوگ سنی سنائی بات کو تحقیق کے بغیر حقیقت مان لیتے ہیں تو کچھ لوگ اسی یقین کو اپنا کاروبار بنا لیتے ہیں۔


