کفل کی توبہ

کفل کی توبہ

صحیح حدیث میں کفل نامی ایک بنی اسرائیلی آدمی کا قصہ آیا ہے کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں ایک آدمی کفل نام کا تھا، جو ہر قسم کی برائی میں طاق تھا، ایک دن اس کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے اس سے کہا کہ اگر تم مجھے اتنے روپے دے دو، تو میں اپنے آپ کو تمہارے حوالے کر دوں گی اور تم کو مجھ سے اپنی خواہش پوری کرنے کا حق ہوگا۔ وہ شخص پہلے ہی سے برائی کا عادی تھا، اسے یہ موقعہ غنیمت نظر آیا اور اس نے اس عورت کو رقم دینے کا وعدہ کر لیا، اور اس سے اپنی نفسانی خواہش پوری کرنے کے لئے کسی کمرے میں لے گیا، جب برائی کا وقت آیا تو وہ عورت کانپنے لگی اور اس پر خوف و دہشت طاری ہو گئی۔
اس نے اس عورت سے پوچھا کہ تو کیوں خوف زدہ ہے اور کانپ رہی ہے؟ وہ کہنے لگی کہ میں نے میری پوری زندگی میں کبھی یہ حرکت نہیں کی، اور آج مجھے اس حرام و ناجائز کام کو اس لئے کرنا پڑ رہا ہے کہ میرے بچے گھر میں بھوکے پیاسے ہیں اور ان کا کوئی کفیل نہیں ہے اور کھانے کا کوئی سامان نہیں، میں انتہائی مجبور ہو کر سوچنے لگی کہ کیا کر سکتی ہوں، تو میرے ذہن میں آیا کہ میں اپنی عصمت اور اپنی پاکدامنی کو بیچ کر اس سے جو کچھ روپے حاصل ہو جائیں، اس سے بچوں کے گزارے کا انتظام کروں۔
اس لئے میں نے اس برائی کا ارادہ کیا، مگر مجھے اللہ کا خوف ہو رہا ہے اور اس لئے مجھ پر کپکپی طاری ہے۔
عورت دل سے بات کہہ رہی تھی، تو دل پر اثر انداز ہوئی، اور عورت کی یہ داستان سن کر اور اس کا اللہ سے یہ خوف دیکھ کر، اس مرد کے دل میں بھی اللہ کا ڈر اور خوف پیدا ہو گیا اور کہنے لگا کہ تو صرف ایک بار گناہ کا صرف ارادہ کر کے، اللہ سے اس قدر خوف کر رہی ہے اور میرا حال یہ ہے کہ میں نے پوری زندگی اس کی نافرمانی میں اور معصیت میں گزاری ہے، مجھے اللہ کا تجھ سے زیادہ خوف کرنا چاہئے، اس لئے میں توبہ کرتا ہوں کہ آج سے کبھی گناہ نہیں کروں گا، اور کہنے لگا کہ میں نے جو تجھ سے رقم دینے کا وعدہ کیا ہے، وہ بھی تجھ کو دوں گا۔ چنانچہ اس نے اس عورت کو رقم بھی دے دی اور برائی سے توبہ بھی کر لی اور وہ عورت وہاں سے واپس ہو گئی۔
یہ آدمی اس کے جانے کے بعد ندامت کے ساتھ اللہ کے سامنے رو کر، گڑگڑا کر، اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگا اور اسی حالت میں اسی رات اس کا انتقال ہو گیا۔
بنی اسرائیل میں جو آدمی اچھا ہوتا، اس کی اچھائی و نیکی قدرت سے اس کے دروازہ پر لکھ دی جاتی اور اگر کوئی برائی کرتا تو اس کے دروازہ پر اس کی برائی کا ذکر کر دیا جاتا تھا اور یہ کفل نامی شخص تو اتنا برا تھا کہ اس کے دروازے پر روزانہ کچھ نہ کچھ اس کی برائی لکھی ہوتی تھی کہ آج اس نے زنا کیا اور آج اس نے شراب پی یا اور کوئی برائی کی، سارے شہر میں اس کی رسوائی ہوتی اور سب لوگ کہتے تھے کہ یہ کیسا برا آدمی ہے، اور لوگ اسی وجہ سے اس سے ڈرتے اور دور رہتے تھے۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ رات کو اس کا انتقال ہو گیا، اور صبح لوگ اٹھ کر دیکھتے ہیں کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا ہے کہ ” قَدْ غَفَرَ اللهُ لِلْكِفْلِ” (اللہ تعالیٰ نے کفل کی مغفرت کر دی)
اور لوگ پڑھتے ہوئے جا رہے تھے، گزرنے والے روزانہ دیکھا کرتے تھے کہ اس کے دروازے پر کبھی کچھ تو کبھی کچھ لکھا ہوتا تھا، مگر آج عجیب بات ہے کہ اس کے دروازے پر ‘اللہ نے کفل کی مغفرت کر دی لکھا ہوا ہے، ۔ لوگ کہنے لگے کہ آج اس کے ساتھ کیا معاملہ ہوا کہ اتنا بُرا آدمی، اتنا شریر و فاسق آدمی، اور اللہ نے اس کی مغفرت کر دی۔! جب لوگوں نے تحقیق کی تو اس عورت کا واقعہ معلوم ہوا، خود عورت نے آکر بتایا کہ رات ایسا ایسا واقعہ ہوا تھا، تب لوگوں کو سمجھ میں آیا کہ اللہ نے اسی لئے اس کی مغفرت کر دی۔
(ترمذی: ۲۴۹۶، مسند احمد: ۴۷۷۴، مسند بزار : ۵۳۸۸، مسند ابو یعلیٰ: ۵۴۷۶ مستدرک حاکم: ۲۸۳/۴، شعب الایمان: ۳۱/۹، صحیح ابن حبان: ۱۱۱/۲)

Leave a Reply

NZ's Corner